ہمارے ساتھ دو مزے کے سین ہوئے ، ایک ہمیں پچھلے گیارہ سالوں سے نک دا کوکا میسر ہے ، جسے ہم گا رہے ہیں ، گلا پھاڑ پھاڑ کر دنیا کو بتا رہے ہیں کہ یہ ہم ہیں اور یہ ہماری ناک کا کوکا ہے ، اور دوسرا یہ بیانیہ زما لویہ گناہ دا دہ ،چہ پختون یم ، ان دونوں کہانیوں نے ہمیں اندھیرے میں رکھا ہوا ہے اور ہم اپنے نمائندوں سے سوال نہیں کرتے ۔
صرف ایک مثال دیتا ہوں ، پڑھیں اور لطف لیں ۔
پچھلے دو ماہ کے عرصے میں دل کے دو مریض ہم نے راولپنڈی کارڈیالوجی اسپتال بھیجے ، یہ تقریبا دو سال سے پشاور جا رہے تھے اور انہیں علاج کے لیے پشاور میں وقت ہی نہیں ملا ، جب انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ آپ پنڈی جائیں آپ کا علاج ہو جائے گا ، مریضوں میں ایک بارہ سال کا بچہ بھی شامل تھا ۔
مریم نواز نے بچوں کے علاج کے لیے اسپیشل چلڈرن کارڈ بنایا ہوا ہے جس میں پاکستان کے کسی بھی علاقے کے بچوں کے دل کا علاج فری ہے ، ہمارے عزیزوں نے پراسس مکمل کیا اور دو ہفتوں میں بچے کی فیملی کو کال آ گئی اور بچے کا فری علاج کیا گیا ، شکریہ مریم ، شکریہ پنجاب –
دوسرا مریض پینتالیس سال کا ہے ، اسے ابھی ایڈمٹ کیا تو اسپتال والوں نے بتایا کہ آپ کا علاج مہنگا ہے آپ کے کارڈ میں چار لاکھ روپے ہیں باقی آپ کو ادا کرنے ہونگے ، ادائیگی والی رقم لاکھوں میں ہے ، جو غریب لوگ ہیں انکے تو ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں ، اس لیے کہ دیگر صوبوں کے لوگوں کے لیے اضافی رقم کا کوئی پیکج نہیں ہے ، مجبورا لاکھوں کی رقم کا بندوست کرنا پڑتا ہے، ہمارے دوست پچھلے دو دنوں سے راولپنڈی کارڈیالوجی اسپتال میں اضافی رقم معاف کروانے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کامیابی نہیں ملی ، اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہریوں کے لیے ہمارے پاس اضافی رقم کی سہولت نہیں ہے لہذا یہ رقم آپ کو ادا کرنا ہو گی اور آپ کے مریض کا علاج تب شروع ہو گا ۔
دوسرے صوبے میں دوسرے درجے کے شہری ہیں ہم لوگ –
اس لیے کہ نک دا کوکا کے پاس ویژن نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے ، میں نے دیکھا ہے کہ کئی مریض ہزارے کے یہاں علاج کے لیے آئے ہوئے ہیں اور صحت کارڈ سے جو زائد رقم دینی ہے اسکے لیے پریشان پھر رہے ہیں ، انتظامیہ صاف سا جواب دیتی ہے خیبر پختونخوا کے شہریوں کے لیے ہمارے پاس اضافی فنڈ نہیں ہے ، پیسوں کا بندوست کریں ۔
یہاں ہزارے وال رُلتے پھر رہے ہیں ،وجہ اسکی یہ ہے کہ پورے ہزارے میں دل کا اسپتال ہے ہی نہیں ، ہزارے کی آبادی کئی ممالک سے بھی زیادہ ہے لیکن یہاں کے نا اہل اور نالائق نمائندوں نے دل کا اسپتال نہیں بنایا ۔
اگلی مزے کی بات سنیں
ہمارے صوبے میں سب سے زیادہ اسپتال پشاور میں ہیں ، پتا نہیں پشاور کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ سارے اسپتال پشاور بنا دیے ؟ ہمارے لیے تو ظالم تخت پشاور ہے ، ہم نے گرمی میں ہر صورت پشاور کا دیدار کرنا ہی ہے ، اور پھر منہ اٹھائے واپس ہو جانا ہے ، اسکے بعد دل کا دوسرا اسپتال کوہاٹ ہے اور تیسرا صوابی ، اسکے علاؤہ دل کے اسپتال ہیں ہی نہیں ، کروڑوں کی آبادی والے صوبے ، اسکے ڈویژن ،کئی اضلاع ، ان میں دل کے اسپتالوں کا نام و نشان ہی نہیں ،، نتیجا لوگ پنجاب اور سندھ کا رخ کرتے ہیں اور اپنے پاس پڑے پیسے بھی دیگر صوبوں کو دیکر آتے ہیں۔
آپ سرکاری ڈیٹا اکھٹا کریں اور دیکھیں کہ ہمارا صوبہ علاج کی مد میں کتنے ارب دیگر صوبوں کو دیتا ہے ؟ مجھے بتائیں دیگر اضلاع میں اسپتال بنانے سے ہماری حکومت کو کس نے روک کر رکھا ہوا ہے ؟ ہزارے والوں کو پنڈی زیادہ قریب ہے یا پشاور کوہاٹ اور صوابی ؟ پھر زبان کی وجہ سے پشاور میں ایک اجنبیت بھی پائی جاتی ہے ، لوگ ادھر کا رخ کیوں کریں ؟
ہزارے کے پاس ہر دور میں کوئی نہ کوئی وزارت اور عہدہ رہا ہے لیکن نالائقی دیکھیں کہ ابھی تک کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا ، علاج کے لیے ہم پنجاب آئیں ، اپنے کارڈ والے پیسے بھی پنجاب کو دیں ، اضافی رقم بھی پنجاب کو دیں اور پھر گالی بھی پنجاب کو دیں کہ زما لویہ گناہ دا دہ ۔
اگر کوئی پالیسی ساز اس تحریر کو دیکھے تو اس پہلو پر سوچے ، ڈیٹا اکھٹا کریں ، اسمبلی میں سوال اٹھائیں ، متعلقہ محکموں سے پوچھیں کہ ہمارا پیسہ علاج کی مد میں کتنا باہر جا رہا ہے ؟ ہمارے لوگ دیگر صوبوں کا رخ کیوں کر رہے ہیں ؟ ڈیٹا اکھٹا کرنے میں ، پیسہ پچانے میں کون سی محنت لگتی ہے ؟
بات یہ ہے کہ
ہماری ترجیح علاج نہیں ہے ، صحت نہیں ہے ، ہم ہیرو ازم ، قومیت ، اور لسانیت کی ںنیاد پر ووٹ دیتے ہیں اور پھر دیگر صوبوں میں جا کر ذلیل ہوتے ہیں ، یار ہم پنجاب میں دوسرے درجے کے شہری شمار ہوتے ہیں ، اپنے ملک میں دوسرے درجے کا شہری ہمیں اٹھارویں ترمیم کے بعد اپنی حکومت نے بنایا ہے کسی اور نے نہیں ۔
اپنے نمائندوں سے سوال کریں ان کا گریبان پکڑیں ، پوچھیں آپ صوبے سے مخلص ہیں تو اپنا پیسہ کیوں دیگر صوبوں کو دے رہے ہیں؟ اسپتال کب بنا رہے ہیں ؟ نہ یہ عمران خان کو رہا کروا سکے اور نہ ہی کوئی قابل ذکر منصوبہ شروع کر سکے ، بس اٹھیں گے منہ سے فائرنگ شروع کر دینگے ، ہم نعرے مار کر خوش ہونگے کہ جی بڑا دلیر ہے ۔
پنجاب کام کر رہا ہے اور ہم گالیاں دے رہے ہوتے ہیں – پنجاب کو گالی کیوں ؟ اپنی نالائقی چھپانے کے لیے ہمارے صوبے والوں نے بھی ایک دشمن ڈھونڈ لیا ہے ، دشمن موجود ہو تو پھر فلاحی کاموں کا سوال نہیں کیا جاتا ، اپنی ناکامیوں کا ملبہ کسی پر ڈال دیں اور پھر بے غم ہو جائیں ، دشمن ڈھونڈنے اور بنانے والا رویہ ترک کریں اور پنجاب کا ترقیاتی کاموں میں مقابلہ کریں ورنہ پنجاب سہولت دیگا اور آپ اپنا پیسہ پنجاب کو دیں گے ، لوگوں کو سہولیات دیں تاکہ آپ کا پیسہ آپ کے صوبے میں لگے –