کھلونوں سے کھیلنے کا وقت تھا جب میرے کھلونے بھائی جان کے تکیے کے نیچے زمان ملک صاحب کے ہاتھ سے لکھا ناصر کاظمی کا دیوان، انوار بھائی جان کی میز پر پڑی ابنِ صفی کی عمران سیریز اور نثار بھائی جان کی الماری سے چوری کی گئی حماقتیں اور مزید حماقتیں تھے۔
"نکلے تری تلاش میں” پڑھ کر تو خود کو ایران اور ترکی کی سرحدوں پر بیٹھا ہوا پاتا تھا۔
کبھی کبھار دل کی دہلیز پر ایک خیال دبے پاؤں آ بیٹھتا ہے
اگر میں نے ابنِ صفی کو نہ پڑھا ہوتا؟
شفیق الرحمٰن کے فقرے دل میں چراغ نہ جلاتے؟
اور مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے خوابوں کی پوٹلی نہ باندھتے؟
اگر ناصر کاظمی کی شاعری وجد میں نہ لاتی
تو کیا میں آج بھی وہی ہوتا جو ہوں؟
یا کچھ اور… کچھ بے رنگ، بے ربط، بے ذائقہ؟
ہماری شخصیت ان لفظوں سے بنتی ہے جنہیں ہم پڑھتے ہیں، اور ان آوازوں سے جو صفحوں کے درمیان چپ چاپ ہمیں پکارتی ہیں۔ ادب صرف لفظوں کا تانا بانا نہیں، وہ سانس ہے جو ہمارے خیالات میں حرارت بھرتی ہے اور احساس میں رنگ۔
اگر میں ان چاروں کے لفظی دائرے میں داخل نہ ہوتا، تو شاید آج بھی سوچ کے ریگستان میں ننگے پاؤں بھٹک رہا ہوتا
نہ سایہ، نہ راستہ، نہ منزل۔
ابنِ صفی میرے ذہن کا وہ معمار ہے جس نے خیالات کے بے ترتیب کھنڈرات میں تجسس، طنز اور حاضر جوابی کی عمارت کھڑی کی۔ اُس کی تحریروں نے سکھایا کہ عقل جب لطافت سے دامن جوڑ لے تو فکر کا چہرہ کیسا تابناک ہو جاتا ہے۔
وہ جاسوسی کو سنسنی سے بلند کر کے ایک ذہنی ریاضت بنا دیتا ھے ۔ اس کے جملوں میں وہ جمالیاتی طنز اور مزاح چھپا ہوتا جو صرف آنکھ سے نہیں، دل سے محسوس ہوتا ہے۔
اگر میں نے اُسے نہ پڑھا ہوتا، تو شاید میری سوچ بھی ویسی ہی ہوتی جیسے کسی پرانے کمرے میں گرد سے اٹی میز ۔ جس پر پڑی کتابوں کو کوئی چھوتا نہیں، اور جن کے الفاظ صرف دھول سے شناسا ہوتے ہیں۔
شفیق الرحمٰن دل کی دھڑکن میں چپکے سے خوشبو گھولنے والا ایک طبیب۔ اس کی نثر شائستگی میں پرویا ہوا رومانس اور لطافت کی وہ روشنی ہے جو آنکھ کو نہیں، طبیعت کو معطر اور روشن کرتی ہے۔
اس کے جملے پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے کسی پرانی شام میں ہنستے لمحے چائے کے کپ میں گھل کر ہمیں زندگی کا نیا ذائقہ بخش رہے ہوں۔
اس کا مزاح محض مسکراہٹ نہیں، تہذیب ہے، شائستگی ہے، برجستگی ہے، شفق کی مسحور کن رنگینی ہے۔
اگر میں نے شفیق الرحمٰن کو نہ پڑھا ہوتا تو میرا مزاح فقط ایک شور ہوتا—جس میں معنویت، نرمی اور محبت مفقود ہوتے ہے۔
اور مستنصر حسین تارڑ محض لفظوں کا نہیں، خوابوں کا سیاح ہے۔
اس کا قلم نقش کھینچتا ہےکبھی پامیر کے سنّاٹے میں، کبھی دریائے آمو کے کنارے، کبھی دل کے سنسان کمرے میں۔ میں خود کو ھر جگہ اس کے ساتھ دکھائی دیتا ھوں سفری بیگ خانوں پر لٹکائے۔
مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں نے سکھایا کہ سفر محض فاصلوں کا نام نہیں، دل کے بھٹکتے موسموں کی ترتیب ہے۔
وہ ہر مقام پر ایسے ٹھہرتا ہے جیسے کسی محرومی کو تھپکی دے رہا ہو، یا کسی یاد کو دفنانے سے پہلے آخری بار چھو رہا ہو۔
یہ سب نہ پڑھتا تو آج میرا سفر شاید صرف جغرافیہ ہوتا، رومانس یا جذبہ نہ ہوتا، دل قدموں کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوتا۔
بچپن میں جب نہ لفظوں کا مفہوم سمجھ آتا تھا، نہ غم کی پرتیں، تب بھی یہ غزل
میں ہوں رات کا، ایک بجا ہے
خالی رستہ بول رہا ہے
میرے لیے ایک لوری ایک موسیقی کی حیثیت رکھتی تھی۔
جادوئی قلمی کتاب دیوان اپنے وجود سے مجھے بہت کچھ کہتی محسوس ہوتی تھی۔ جیسے کسی شام کی یاد، یا کسی خواب کا سایہ۔
"عجیب مانوس اجنبی تھا، مجھے تو حیران کر گیا وہ”
ایک دکھ ھے ایک جمال ہے اور ایک خاموش مکالمہ۔
اگر یہ سب نہ ہوتے
تو میں شاید کاغذ پر لفظ بکھیرنے کے بجائے، حساب کی خالی خانیاں بھر رہا ہوتا۔
یا زندگی کے ہر سوال کا جواب ہی تلاش رہا ہوتا۔
میری شخصیت میری لطافت میری شرارت میرا ادبی ذوق میری تحریریں سب انہی چاروں کے رھین منت ھیں۔
یہ چاروں میرے دل میں، دماغ میں اور روح میں ایسے جا بسے کہ سانس بھی لوں تو ایسے لگتا ہے جیسے کہہ رہا ہوں
"میں وہ اسمِ عظیم ہوں جس کو
جن و ملک نے سجدہ کیا تھا۔”
یہ سب لفظوں کے معمار، مجھے اُس دنیا میں لے گئے جہاں صفحے دروازے بن جاتے ہیں، اور جملے سیڑھیاں۔
انہوں نے وہ آنکھ دی جس سے رنگ بھی دکھائی دیتا ہے، اور روشنی بھی۔
وہ آواز دی جو صرف سنائی نہیں دیتی، اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔
اور وہ احساس دیا جو کتاب بند ہونے کے بعد بھی دل کے کسی کونے میں بیٹھا رہتا ہے— چپ چاپ، مسکراتا ہوا۔
ادب محض مشغلہ نہیں، یہ شخصیت کی تشکیل کا ایک لطیف مگر عمیق عمل ہے۔
جس نے ابنِ صفی، شفیق الرحمٰن، مستنصر تارڑ اور ناصر کاظمی کو پڑھا، وہ محض قاری نہیں رہا، وہ خود بھی ایک تحریر بن گیا
ایسی تحریر جو آنکھوں سے نہیں، رویّوں سے پڑھی جاتی ہے۔
اگر یہ سب نہ ہوتے
تو شاید ہم میں سے کئی لوگ آج بھی زندہ ہوتے،
مگر جیے بغیر۔