تربت میں لاپتہ طالب علم رہنما شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے 9 سال مکمل ہونے پر اُن کے اہلِ خانہ اور بلوچ وومن فورم کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت بلوچ وومن فورم کی سربراہ ڈاکٹر شلی بلوچ اور شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ نے کی۔
ریلی میں خواتین، بچوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ شرکاء نے شبیر بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "پُرامن جدوجہد جرم نہیں”، "لاپتہ افراد کو بازیاب کرو” جیسے نعرے درج تھے۔
ریلی شہید فدا چوک سے شروع ہوئی، مین روڈ اور تھرمامیٹر چوک سے گزرتی ہوئی تربت پریس کلب کے راستے واپس شہید فدا چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔
مظاہرین نے کہا کہ شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے 9 سال مکمل ہونا صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا دکھ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر ریاستی اداروں اور عدلیہ کو فوری توجہ دینی چاہیے۔
سیما بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی شبیر بلوچ کو 2016 میں ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ سے سیکیورٹی فورسز نے لاپتہ کیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ "نو سال گزر گئے، نہ انصاف ملا، نہ خبر کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔”
ڈاکٹر شلی بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ انسانی المیہ بن چکا ہے، اور اگر یہ سلسلہ نہ رُکا تو نئی نسل میں مایوسی مزید گہری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، وہ اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی تک خاموش نہیں بیٹھیں گی۔
مظاہرین نے انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوامِ متحدہ اور عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مؤثر کردار ادا کریں اور تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ شبیر بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او آزاد کے رہنما تھے، جنہیں 2016 میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور وہ تاحال نامعلوم ہیں۔