نواسۂ رسول ﷺ: کربلا سے ابھرتا ہوا حق کا آفتاب

محرم الحرام کا چاند جب افقِ عالم پر نمودار ہوتا ہے تو اسلامی تاریخ کا ایک ایسا باب نگاہوں کے سامنے کھل جاتا ہے جس کے ہر ورق پر قربانی کی سرخی، وفا کی خوشبو اور استقامت کی روشنی بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ مہینہ صرف نئے ہجری سال کا آغاز نہیں، بلکہ اُمتِ مسلمہ کو اُس عظیم قربانی کی یاد بھی دلاتا ہے جو نواسۂ رسول ﷺ، جگرگوشۂ بتولؓ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور اُن کے جاں نثار ساتھیوں نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے پیش کی۔

تاریخ کے دامن میں بے شمار واقعات محفوظ ہیں، مگر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو زمانے کی گردش سے متاثر نہیں ہوتے، بلکہ ہر دور میں نئی معنویت کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی انہی ابدی واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک جنگ یا سیاسی کشمکش کا نام نہیں، بلکہ حق و باطل، صداقت و مصلحت، اور اصول و مفاد کے درمیان ایک عظیم معرکے کی داستان ہے۔

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت شعبان المعظم 4 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؓ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فرزند اور سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے نورِ نظر تھے۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ابنِ حجر عسقلانی).

رسول اللہ ﷺ کو اپنے نواسوں، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ، سے غیر معمولی محبت تھی۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الحسن والحسین سيدا شباب أهل الجنة” یعنی: "حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔” (جامع الترمذی، حدیث: 3768).

اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "حسین مني وأنا من حسين” یعنی: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔” (جامع الترمذی، حدیث: 3775) یہ الفاظ امام حسینؓ کے مقام، اُن کے مشن اور اُن کے کردار کی عظمت کو واضح کرتے ہیں۔

امام حسینؓ نے نبوت کے گھرانے میں آنکھ کھولی اور آغوشِ رسالت میں پرورش پائی۔ آپؓ نے اپنے نانا جان ﷺ سے اخلاق و محبت، اپنے والد حضرت علیؓ سے شجاعت و حکمت، اور اپنی والدہ حضرت فاطمہؓ سے عبادت و پاکیزگی کا درس حاصل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ کی پوری زندگی سیرتِ نبوی ﷺ کا عملی نمونہ دکھائی دیتی ہے۔ (سیر أعلام النبلاء، امام ذہبی).

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد آپؓ نے خلفائے راشدین کے مبارک ادوار دیکھے۔ آپؓ ہمیشہ اُمت کے اتحاد، خیرخواہی اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے کوشاں رہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اسلامی معاشرے میں بعض ایسے حالات پیدا ہوئے جنہوں نے حساس دلوں کو مضطرب کر دیا۔ خلافت ایک عظیم امانت تھی اور امام حسینؓ اس امانت کی روح اور اس کے تقاضوں سے بخوبی واقف تھے۔

جب یزید کی بیعت کا معاملہ سامنے آیا تو امام حسینؓ نے اسے محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں سمجھا، بلکہ اُمت کے مستقبل اور اسلامی اقدار کے تناظر میں دیکھا۔ آپؓ نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے حق کا راستہ اختیار کیا۔ (تاریخ الطبری، جلد 5).

امام حسینؓ نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "میں فساد پھیلانے یا ظلم کرنے کے لیے نہیں نکلا، بلکہ اپنے نانا محمد ﷺ کی اُمت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔” (تاریخ الطبری، جلد 5؛ البدایہ والنہایہ، جلد 8).

یہ الفاظ دراصل کربلا کے پورے واقعے کی روح ہیں۔ اگر کوئی شخص کربلا کو سمجھنا چاہتا ہے تو اُسے اس ایک جملے پر غور کرنا چاہیے۔ امام حسینؓ کی جدوجہد اقتدار کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ اُمت کی اصلاح اور دین کی حفاظت کے لیے تھی۔

جب کوفہ سے خطوط موصول ہوئے اور اہلِ کوفہ نے حمایت کا یقین دلایا تو امام حسینؓ نے عراق کا سفر اختیار کیا۔ لیکن حالات نے جلد ہی ایک مختلف رخ اختیار کر لیا۔ راستے میں آپؓ کو معلوم ہوا کہ سیاسی صورتِ حال بدل چکی ہے اور وفاداری کے دعوے کرنے والے لوگ پیچھے ہٹ چکے ہیں۔ اس کے باوجود آپؓ نے حق کا راستہ ترک نہیں کیا۔

کربلا کی سرزمین تاریخ کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح چمکتی ہے۔ یہاں ایک طرف دنیاوی طاقت، لشکر اور وسائل تھے، جبکہ دوسری طرف چند نفوسِ قدسیہ تھے جن کے پاس صرف ایمان، یقین اور حق کی قوت تھی۔ بظاہر یہ ایک غیر مساوی مقابلہ تھا، مگر حقیقت میں یہی ایمان اور کردار کی سب سے بڑی آزمائش تھی۔

10 محرم 61 ہجری کا دن طلوع ہوا۔ فرات کا پانی قریب تھا، مگر اہلِ بیتؓ کے خیموں تک اس کی رسائی بند کر دی گئی تھی۔ بچے پیاس سے تڑپ رہے تھے، خواتین مصائب میں گھری ہوئی تھیں، مگر امام حسینؓ اور اُن کے ساتھیوں کے قدموں میں لرزش نہ آئی۔ (البدایہ والنہایہ، جلد 8).

کربلا کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ حق پر قائم رہنے والا شخص حالات کا غلام نہیں بنتا۔ وہ اپنے اصولوں کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ امام حسینؓ نے اپنی جان، اپنے بھائیوں، بھتیجوں، بیٹوں اور رفقاء کو قربان کر دیا، لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

یہی وجہ ہے کہ آج چودہ صدیوں بعد بھی کربلا زندہ ہے۔ وقت کے طوفان بہت سی سلطنتوں کے نشانات مٹا چکے ہیں، مگر حسینؓ کا نام آج بھی دلوں کی دھڑکن ہے۔ اُن کی یاد صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ دنیا بھر کے حق پسند انسانوں کے لیے حوصلے اور عزم کی علامت بن چکی ہے۔

محرم الحرام ہمیں صرف آنسو بہانے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اپنے کردار کا محاسبہ کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے معاملات میں سچائی کو اختیار کرتے ہیں؟ کیا ہم انصاف کا ساتھ دیتے ہیں؟ کیا ہم مظلوم کی حمایت کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں کربلا کے پیغام کو نئے سرے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور حق بات کہو، اگرچہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔” (النساء: 135) امام حسینؓ کی پوری زندگی اسی قرآنی تعلیم کی عملی تفسیر نظر آتی ہے۔

اہلِ بیتِ اطہارؓ کی محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "کہہ دیجیے! میں تم سے اس تبلیغِ دین پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے قرابت داروں کی محبت کے۔” (الشوریٰ: 23).

محرم الحرام کے موقع پر ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم امام حسینؓ کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں گے۔ ہم ظلم، ناانصافی، جھوٹ، بدعنوانی اور اخلاقی گراوٹ کے خلاف آواز بلند کریں گے۔ ہم اپنے کردار کو بہتر بنائیں گے اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اپنانے کی کوشش کریں گے۔

نواسۂ رسول ﷺ، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی اور شہادت دراصل حق کی سربلندی، اصولوں کی پاسداری اور رضائے الٰہی کی جستجو کا دوسرا نام ہے۔ کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔ یہ پیغام ہر دور کے انسان کو پکار پکار کر کہتا ہے کہ اگر تم حق پر ہو تو تنہائی سے مت ڈرو، اگر تم سچ کے ساتھ ہو تو مشکلات سے نہ گھبراؤ، اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو قربانی کے لیے تیار رہو۔
یہی حسینؓ کا پیغام ہے، یہی کربلا کا درس ہے، اور یہی محرم الحرام کا ابدی سبق ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے