چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو: عالمی تجارت کو جوڑنے والا ایک منفرد پلیٹ فارم

عالمی معیشت میں سپلائی چین کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ خام مال سے لے کر تیار مصنوعات تک، ہر مرحلہ ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی وبا، جغرافیائی کشیدگی اور تجارتی رکاوٹوں نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ مضبوط اور مستحکم سپلائی چین کے بغیر اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے چین نے 2023 میں”چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو CISCE کا آغاز کیا، جو دنیا کی پہلی قومی سطح کی نمائش ہے جس کا موضوع مکمل طور پر سپلائی چین ہے۔

یہ ایکسپو چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ کے زیر اہتمام منعقد کی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا بھر کی کمپنیوں، صنعتوں، تحقیقی اداروں اور سرمایہ کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے تاکہ سپلائی چین کے مختلف مراحل میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

پہلی سپلائی چین ایکسپو 2023 میں بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ اس کے بعد یہ ایک سالانہ عالمی تجارتی تقریب بن گئی۔ مختصر عرصے میں اس نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر لیا اور اسے عالمی صنعتی و تجارتی تعاون کے ایک اہم فورم کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے ۔

2025 میں منعقد ہونے والی تیسری چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو غیر معمولی طور پر کامیاب رہی۔ اس میں 75 ممالک اور خطوں سے 1,200 کے قریب نمائش کنندگان شریک ہوئے۔ نمائش کے دوران 6,000 سے زیادہ تجارتی معاہدوں اور تعاون کی یادداشتوں پر اتفاق ہوا۔ 24 ہزار سے زائد کاروباری ملاقاتیں کرائی گئیں جبکہ 152 نئی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور خدمات متعارف کرائی گئیں۔ نمائش میں شریک اداروں نے 42 ہزار سے زیادہ اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم کمپنیوں کے ساتھ کاروباری روابط قائم کیے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غیر ملکی نمائش کنندگان کا تناسب پہلے سال کے 26 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 35 فیصد تک پہنچ گیا۔ 65 فیصد سے زیادہ شرکاء فارچیون 500 کمپنیوں یا اپنے شعبوں کی صفِ اول کی عالمی کمپنیوں میں شامل تھے۔

چوتھی چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو 22 سے 26 جون 2026 تک بیجنگ میں منعقد ہو رہی ہے ۔ اس کا موضوع "مشترکہ مستقبل کے لیے دنیا کو جوڑنا ” رکھا گیا ہے۔اس ایکسپو میں چھ بڑے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے. ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ،جدید مینوفیکچرنگ ،گرین ایگریکلچر،صحت مند زندگی ،اسمارٹ گاڑیاں ،صاف توانائی۔یہ ایکسپو سپلائی چین کے موضوع پرپہلی قومی سطح کی نمائش ہے۔ اس سال کی ایکسپومیں 85 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے 1,200 سے زیادہ نمائش کنندگان شریک ہیں۔

غیر ملکی نمائش کنندگان کا تناسب 36 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ دنیا کی ٹاپ 500 کمپنیوں اور صنعت کے رہنما اداروں کا تناسب 65 فیصد سے زائد ہے۔ ایکسپو میں مختلف ممالک کی کمپنیوں کی پرجوش شرکت چینی مارکیٹ کی ان کے لیے اہمیت اور چینی معاشی مستقبل پر ان کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سال کی ایکسپو میں مہمانِ خصوصی ملک آسٹریلیا نے نئی توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ شرکت کی۔ افتتاحی روز منعقد ہونے والی چین۔آسٹریلیا قابلِ تجدید توانائی صنعتی تعاون کانفرنس نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لیے عملی اور مؤثر تعاون کا ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا۔

چائنا سپلائی چین ایکسپو صرف مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ عالمی صنعتی تعاون کا ایک جامع پلیٹ فارم ہے۔ یہاں خام مال فراہم کرنے والے ادارے، مینوفیکچررز، لاجسٹک کمپنیاں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اور خریدار ایک ہی جگہ پر ملتے ہیں۔ اس سے کاروباری شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔اس ایکسپو کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سپلائی چین کے پورے عمل کو ایک ساتھ پیش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کمپنی برقی گاڑیوں کے شعبے میں کام کرتی ہے تو اسے بیٹری بنانے والوں، پرزہ جات فراہم کرنے والوں، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور فروخت کنندگان سے ایک ہی جگہ رابطے کا موقع مل جاتا ہے۔

مزید یہ کہ ایکسپو عالمی معیشت میں کھلے تعاون، سرمایہ کاری اور جدت طرازی کو فروغ دیتی ہے۔ موجودہ دور میں جب بعض ممالک تحفظ پسند تجارتی پالیسیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، یہ نمائش عالمی سپلائی چین کے استحکام اور باہمی انحصار کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو نے صرف تین برسوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔اس کی کامیابی کا رجحان ظاہر کرتا ہے کہ دنیا بھر کی کمپنیاں چین کو عالمی سپلائی چین کا ایک اہم مرکز سمجھتی ہیں اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے