گزشتہ روز "مرد اور عورت کی محبت” کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا تھا، جس میں عصر حاضر کے خاندانی مسائل، بالخصوص میاں بیوی کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی تلخیوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بھی مفصل زیرِ بحث آیا کہ اکثر اوقات عورتوں کی بے جا خواہشات، غیر حقیقی توقعات، غیر ضروری شاپنگ ، لایعنی ڈیمانڈز اور وسعت و استطاعت سے بڑھ کر مطالبات مرد کی زندگی کو شدید ذہنی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار بنا دیتی ہیں اور وہ جیتے جی مرجاتا ہے۔
آپ سب جانتے ہیں کہ سماجی اصلاح میرے قلم کا بنیادی موضوع اور ذاتی مشن ہے، اور اس مشن کو سالوں سے جاری رکھا ہوا ہے، اس لیے میں ایسے مسائل پر بار بار لکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ گزشتہ کالم پر اہل علم، دوستوں اور قارئین کی جانب سے مثبت تنقید اور مختلف آراء موصول ہوئیں۔ متعدد احباب نے توجہ دلائی کہ اس موضوع کو قرآن کریم، احادیث نبویہ اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں مزید مدلل ومبرہن اور متوازن انداز سے پیش کیا جائے، تاکہ بات محض ایک کالم، سماجی تبصرہ یا سوشل میڈیا کی افتاد طبع کے لیے موضوع بحث نہ رہے بلکہ شرعی رہنمائی اور فکری اصلاح کا ذریعہ بھی بن سکے۔ یہی احساس اس نئے کالم کی وجہ بنا، امید کرتا ہوں احباب اپنے اپنے انداز میں سماج کے اس رستے ہوئے ناسور کے متعلق اپنا کردار ادا کریں گے اور مکالمے کو آگے بڑھائیں گے۔
یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ انسان کی خواہشات کی کوئی انتہا نہیں۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لیتی ہے، دوسری کی تکمیل ہوتے ہی تیسری خواہش بڑے سے بُت کی شکل میں سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ یہی خواہشات اگر عقل، ایمان اور قناعت کے تابع رہیں تو زندگی کو سنوار دیتی ہیں، لیکن جب خواہشات انسان پر حکومت کرنے لگیں تو سکون چھن جاتا ہے، گھر بکھر جاتے ہیں اور رشتے بوجھ بن جاتے ہیں اور ہنستے مسکراتے خاندان تباہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ خواہشات وسائل سے کئی گنا بڑھ چکی ہیں بلکہ موٹی تازہ ہوگئی ہیں۔ ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا نے ہر عورت کو کسی اور عورت کی زندگی سے اور ہر مرد کو کسی اور مرد کی آمدنی سے مقابلے میں کھڑا کر دیا ہے، غور کریں تو ہم سوشل میڈیا کی وار کا شکار ہیں، فلموں اور ڈراموں سے جو کسر رہ گئی تھی وہ سماجی رابطوں کی سائٹس نے پوری کر دی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ قناعت ناپید، شکر عنقا اور مطالبات بے انتہا ہو گئے ہیں۔ اور خاندانوں کے خاندان تباہ ہوتے جارہے ہیں۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ رسول اللہ کی زندگی ہی میں مدینہ منورہ میں بھی ایک وقت ایسا آیا جب رسول اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے اپنے نفقہ میں کچھ وسعت کی خواہش ظاہر کی۔ وہ بھی انسان تھیں اور دنیا کی عام عورتوں کی طرح احساسات رکھتی تھیں، انہیں بھی گھر کے اخراجات میں آسانی مطلوب تھی، لیکن فرق یہ تھا کہ ان کا مطالبہ ایک ایسے گھر سے تھا جس کے سربراہ پوری دنیا کے سب سے بڑے انسان تھے، آئیڈیل تھے، مگر دنیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ زاہد بھی۔
حدیث کی مشہور کتاب صحیح مسلم کی دو نہایت اہم روایات (1478، 1479) اس پورے واقعے کی تصویر ہمارے سامنے رکھتی ہیں۔ آپ اس کی تفصیلات خود ملاحظہ کرسکتے ہیں، تمام حوالہ جات لکھ دیتا ہوں تاکہ آپ خود اصل مراجع سے استفادہ کرسکیں۔
رسول اللہ ﷺ اس مطالبے سے رنجیدہ ہوئے، لیکن آپ ﷺ نے نہ آواز بلند کی، نہ چیخا، نہ چلایا، نہ کسی کی دل آزاری کی، نہ غصے میں طلاق دی اور نہ ہی ایسا کوئی ردعمل دیا جسے خاندانی زندگی میں دراڑ پڑے۔ بلکہ آپ نے تقریباً ایک ماہ کے لیے ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار فرمائی تاکہ جذبات کے بجائے وحی فیصلہ کرے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب کی وہ آیات نازل فرمائیں جو رہتی دنیا تک مسلمان گھروں کی ترجیحات متعین کرتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں۔
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا،
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا (الأحزاب: 28-29)
ترجمہ :
اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں۔
اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو ( یقین مانو کہ ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالٰی نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں۔
گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا
فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر دنیا کی آسائش مقصود ہے تو وہ راستہ بھی موجود ہے، اور اگر اللہ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت مطلوب ہیں تو اس کی قیمت دنیا کی چند آسائشیں نہیں بلکہ دائمی جنت ہے۔
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد رسول اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا، آپ اپنے والدین سے مشورہ کیجیے۔
ایمان کا حسن دیکھیے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا۔
"یارسول اللہ! کیا اس معاملے میں بھی میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ نہیں، میں اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں۔”
پھر دیگر تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن اجمعین نے بھی یہی فیصلہ کیا۔
یہ صرف ایک جواب نہیں تھا، بلکہ قیامت تک آنے والی مسلمان عورتوں کے لیے معیارِ انتخاب تھا۔. معیار زندگی تھا اور گھروں کو آباد و پرسکون بنانے کا نسخہ۔
انہی ایام میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے بالاخانے میں حاضر ہوئے۔ منظر ایسا تھا کہ تاریخ آج بھی اسے پڑھ کر اشک بار ہو جاتی ہے۔ کھجور کی ایک چٹائی تھی جس کے نشانات جسمِ اطہر پر ثبت تھے۔ ایک کونے میں چند مٹھی جو، کچھ کھجور کی چھال اور ایک چمڑا رکھا تھا۔ دنیا کے سب سے عظیم انسان کا کل اثاثہ یہی تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ محلات میں رہتے ہیں اور آپ اللہ کے برگزیدہ رسول ہو کر اس حال میں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
"کیا تم اس پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟” (صحیح مسلم)
یہ ایک جملہ نہیں، پوری اسلامی تہذیب و تمدن کا فلسفۂ حیات ہے۔ یہی اصل سیرت ہے۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی ان مطالبات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیخ پا بھی ہوئے تھے اور اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے سخت کلامی بھی کی تھی۔ تفصیلات خود ملاحظہ کیجیے۔
رحمۃ للعالمین کے اسی گھر کی شہزادی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، جب مسلسل چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑنے کے باعث ایک خادم کی خواہش لے کر اپنے والدِ گرامی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے انہیں دنیا کا سہارا نہیں، بلکہ آخرت کا سرمایہ عطا فرمایا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب گھر تشریف لائیں تو رسول اللہ نہیں تھے تو انہوں نے اپنی اماں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے آنے کی تفصیلات بتائیں اور رسول اکرم کو پیغام چھوڑا۔
پھر رات کے وقت اللہ کے رسول اپنی لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں ارشاد کیا۔
"سونے سے پہلے 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہے۔” (صحیح بخاری، 3113)
یہ رحمۃ للعالمین کا وہ گھر تھا جہاں مطالبات کا جواب محرومی نہیں بلکہ تربیت و حسن عمل، اور دنیا کی آسائش سے نہیں بلکہ اللہ سے محبت و تعلق کی صورت میں دیا جاتا تھا۔ والدین کی طرف سے تربیت کا یہی معیار آج بھی اپنی بیٹیوں کے لیے ہونا چاہیے۔
سوال یہ نہیں کہ عورت مطالبہ کیوں کرتی ہے، سوال یہ ہے کہ مطالبہ کس بنیاد پر کرتی ہے؟ ضرورت کی بنیاد پر یا نمود و نمائش کی بنیاد پر؟ مرد کی وسعت و استطاعت کو سامنے رکھ کر یا دوسروں کی زندگی اور نمود و نمائش دیکھ کر؟
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اسلام عورت کو جائز حقوق دیتا ہے، اس کا اولین داعی ہے، بلکہ شوہر کو حکم دیتا ہے کہ اپنی وسعت کے مطابق فراخ دلی سے خرچ کرے۔ سورہ طلاق میں اللہ کا ارشاد ہے۔
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ
صاحبِ وسعت اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے۔ (آیت:7)
لیکن اسی اسلام نے قناعت، شکر، سادگی اور آخرت کو بھی ایمان کا حسن قرار دیا ہے۔ رسول اللہ، امہات المؤمنین، سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور دیگر خواتینِ اسلام کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔
آج اگر ہماری بیویاں ،بیٹیاں اور بہنیں، امہات المؤمنین کو اپنا آئیڈیل بنا لیں، اور ہمارے مرد رسول اللہ ﷺ کو اپنا نمونہ بنا لیں، تو شاید گھروں سے قرض کم، سکون زیادہ، شکایتیں کم اور رحمتیں زیادہ ہو جائیں۔ اور یہ گھر کھبی نہ ٹوٹیں، اور پیار و محبت اور سکون و راحت کے قلعے بن جائیں۔
گھر اس وقت آباد نہیں ہوتے جب تمام خواہشات پوری ہو جائے، گھر اس وقت آباد ہوتے ہیں جب ہر دل اللہ کی رضا پر راضی ہو جائے۔ اور معاملات و مطالبات وسعت و استطاعت کے مطابق پوری ہوجائیں۔
میری آج کی مسلمان ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں سے نہایت ادب اور اخلاص کے ساتھ ایک گزارش ہے کہ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر، اللہ کو حاضر و ناظر جان کر خود سے ایک سوال کیجیے،
کیا آج ہم اپنے شوہروں، والدین، بھائیوں اور بیٹوں سے جو مطالبات کر رہی ہیں، وہ واقعی ان کی مالی حیثیت، آمدنی اور استطاعت و وسعت کے مطابق ہیں، یا ہم نے اپنی خواہشات کا معیار سوشل میڈیا، ڈراموں، اشتہارات اور دوسروں کی ظاہری زندگی کو بنا لیا ہے؟
کیا ہر عید پر نئے اور مہنگے ملبوسات کا اصرار، ہر چند ماہ بعد نیا موبائل، ہر تقریب کے لیے الگ لباس، قیمتی زیورات، برانڈڈ اشیاء، پرتعیش دعوتیں، مہنگے ریسٹورنٹس، ہر سال نئی گاڑی کی خواہش، گھر کے فرنیچر اور سجاوٹ کو بار بار تبدیل کرنے کا مطالبہ، بچوں کو صرف فیشن کی دوڑ میں مہنگے، لباس ، اسکولوں یا غیر ضروری اخراجات میں دھکیل دینا، یا محض اس لیے قرض لینے پر مجبور کر دینا کہ فلاں رشتہ دار یا پڑوسی کے پاس یہ سب کچھ موجود ہے، کیا یہ سب واقعی ضرورت ہے یا خواہش؟ ضرورت اور خواہش میں فرق کا جاننا اور کرنا لازم ہے۔
یاد رکھیے! اسلام نے عورت کو اس کے تمام جائز حقوق دیے ہیں اور اسے کوئی انکاری نہیں، اور شوہر کو اس کی استطاعت کے مطابق نفقہ، لباس، رہائش اور عزت و احترام فراہم کرنے کا پابند بنایا ہے۔ لیکن اسلام نے یہ بھی سکھایا ہے کہ مطالبات، شوہر کی وسعت سے بڑے نہ ہوں اور خواہشات، گھر کے سکون پر غالب نہ آ جائیں۔ جس خواہش کی تکمیل کے لیے شوہر قرضوں میں ڈوب جائے، ذہنی دباؤ کا شکار ہو جائے، ناجائز ذرائع آمدن اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے یا اس کی عزتِ نفس مجروح ہو، ایسی خواہش کبھی بھی باعثِ برکت نہیں ہو سکتی۔
امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن نے جب قرآن کی روشنی میں اللہ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت کو دنیا کی زینت پر ترجیح دی، تو وہ رہتی دنیا تک ہر مسلمان عورت کے لیے قناعت، بصیرت اور ایمان کا روشن مینار بن گئیں۔ آج بھی جو عورت اپنے شوہر کی استطاعت کو سمجھتی ہے، اس کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتی ہے اور اس کے ساتھ صبر و قناعت کا سفر اختیار کرتی ہے، وہی حقیقت میں سیرتِ نبوی ﷺ کی پیروکار ہے اور وہی اپنے گھر کو سکون، محبت اور رحمت کا گہوارہ بناتی ہے۔
تو کیا آپ اپنے گھر کو رحمتوں ، محبتوں، سکون، اور راحتوں کا گہوارہ بنالیں گی؟