اسے سیاست سے نہیں، روٹی سے سروکار تھا

شہرِ اقتدار سے واپسی کے لیے میں نیٹکو کا ٹکٹ کروا چکا تھا۔ بس کی روانگی میں ابھی کئی گھنٹے باقی تھے۔ راجا بازار کے شور میں وقت ضائع کرنے کے بجائے میں نے سوچا کہ کسی پارک میں درخت تلے بیٹھ کر کچھ دیر خود سے گفتگو کی جائے۔

پارک کے ایک گوشے میں بینچ خالی نظر آیا، مگر اس پر ایک شخص پہلے سے بیٹھا تھا۔ میں اس کے ساتھ جا بیٹھا۔ وہ نیم دراز، آنکھیں بند کیے جانے کس سوچ میں گم تھا۔ میں نے سگریٹ سلگائی ہی تھی کہ اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا، ’’بابو، ایک سگریٹ ملے گی؟‘‘

میں نے سگریٹ اس کی طرف بڑھا دی۔ اس نے آنکھیں کھولیں، سگریٹ لی اور دھیمی آواز میں شکریہ ادا کیا۔ میں نے لائٹر سے اس کا سگریٹ بھی سلگا دیا۔ اس نے ایک لمبا کش لیا اور پھر شکریہ کہا۔ اس کی آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی کہ شاید وہ بہت دیر سے کسی اندرونی کرب سے لڑ رہا تھا۔

کچھ دیر خاموشی رہی، پھر وہ خود ہی مخاطب ہوا۔

’’بابو! مجھے سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔ کون کس کے ساتھ ظلم کر رہا ہے، کس کا لیڈر گرفتار ہے، کون اقتدار میں ہے اور کون اقتدار کے لیے لڑ رہا ہے، مجھے ان بحثوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میرا کوئی لیڈر نہیں جس کے لیے میں نعرے لگاؤں۔ مجھے تو بس روزگار کی فکر ہے، گھر چلانے کی فکر ہے، اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے۔‘‘

میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز میں غصہ نہیں، تھکن تھی۔

’’میں اکیلا ہوتا تو شاید اپنی محرومی برداشت کر لیتا، لیکن میرے ساتھ میرا گھر بھی ہے۔ میری بیوی ہے، میرے بچے ہیں۔ بچے تو باپ کے سہارے ہی ہوتے ہیں نا، بابو! وہ نہیں جانتے کہ بازار میں مہنگائی کتنی ہے، روزگار کے مواقع کتنے کم ہیں اور ان کا باپ کتنی فکریں لے کر گھر سے نکلتا ہے۔ وہ تو بس اتنا جانتے ہیں کہ ابو آئیں گے تو ان کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔‘‘

وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا، ’’سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب بچہ کوئی چھوٹی سی چیز مانگے اور آپ اسے یہ کہہ کر ٹال دیں کہ اگلی بار لے دوں گا۔ بچہ تو آپ کی بات مان کر کھیلنے چلا جاتا ہے، مگر باپ جانتا ہے کہ اس نے صرف ایک وعدہ کیا ہے، اسے پورا کرنے کا وسیلہ نہیں۔‘‘

میرے پاس اس کے لیے تسلی کے الفاظ تو تھے، مگر اس کی مشکل کا کوئی حل نہیں تھا۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، ’’بابو! میں کسی کے خلاف نعرہ نہیں لگانا چاہتا۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے محتاجی سے نکال دے۔ مجھے اتنا دے کہ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کر سکوں۔ اور کبھی کسی دوسرے مجبور کو دیکھوں تو میری جیب بھی خالی نہ ہو، میرے ہاتھ بھی اس کی مدد کے لیے اٹھ سکیں۔‘‘

اس کی بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ شہرِ اقتدار میں اقتدار کی کشمکش جاری تھی۔ سیاسی جماعتیں اپنے مؤقف کے دفاع میں مصروف تھیں، رہنما اپنے کارکنوں کو متحرک کر رہے تھے، مگر اسی شہر کے ایک پارک میں بیٹھے اس شخص کی سیاست صرف روٹی، روزگار اور بچوں کے مستقبل تک محدود تھی۔

وہ کسی سیاسی نعرے کا مخالف نہیں تھا، بس اس کی اپنی زندگی کے سوال کہیں زیادہ بنیادی تھے۔ اسے اس بات سے زیادہ غرض تھی کہ شام کو گھر لوٹے تو بچوں کے لیے کیا لے کر جائے گا۔ اسے کسی رہنما کی تقریر سے زیادہ اس یقین کی ضرورت تھی کہ کل اسے کام ملے گا اور اس کے گھر کا چولہا جلتا رہے گا۔

ہم اکثر کامیابی کو عہدے، دولت اور شہرت کے پیمانے سے ناپتے ہیں، مگر اس شخص کے نزدیک کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنے بچوں کو مایوس نہ کرے اور کسی دوسرے ضرورت مند کے کام آ سکے۔

پھر اس نے ایسی بات کہی جس نے میرے دل پر دستک دی۔

’’بابو! کچھ لوگ ہوتے ہیں جو کسی کی مدد کرتے ہیں اور احسان بھی نہیں جتاتے۔ چاہے بے بس انسان ہو یا ننھی سی چیونٹی، چاہے دوست ہو یا دشمن، وہ بس مدد کرتے ہیں۔ میرے نزدیک وہی زمین کے فرشتے ہیں۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ ان کے ہاتھ پکڑ کر کہوں، میرے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ مجھے اس بے بسی سے نکال دے۔ مجھے بھی اتنا خودکفیل بنا دے کہ میں کسی دوسرے محتاج کا سہارا بن سکوں۔‘‘

میں خاموشی سے اسے سنتا رہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ صرف پیسہ نہیں مانگ رہا تھا، وہ اپنی خودداری واپس مانگ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک دن کسی مجبور کو دیکھے تو اس کی آنکھوں میں ہمدردی کے ساتھ ساتھ مدد کرنے کی طاقت بھی موجود ہو۔

بس کی روانگی کا وقت قریب آ رہا تھا۔ میں اس سے ہاتھ ملا کر اٹھا تو اس کی باتیں میرے ذہن میں رہ گئیں۔ میں سوچتا رہا کہ ہمارے اردگرد کتنے ایسے باپ ہیں جو اپنی خواہشات قربان کرکے بچوں کے خواب بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جو خود سہارے کے منتظر ہیں، مگر ان کے دل میں کسی دوسرے کا سہارا بننے کی خواہش ابھی زندہ ہے۔
اس شخص نے مجھے یہ بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ کسی معاشرے کی ترقی صرف بلند عمارتوں، بڑے منصوبوں اور سیاسی نعروں سے نہیں ناپی جا سکتی۔ اصل ترقی یہ ہے کہ ایک باپ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے، ایک نوجوان کو باعزت روزگار ملے اور کسی ضرورت مند کو اپنی مجبوری کے باعث اپنی نگاہیں نہ جھکانا پڑیں۔

میں شہرِ اقتدار سے واپس آ رہا تھا، مگر ایک سوال میرے ساتھ سفر کر رہا تھا: اقتدار کی اصل کامیابی کیا ہے؟ لوگوں کو اپنے حق میں نعرے لگانے کے قابل بنانا، یا انہیں اس قابل بنانا کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر باعزت زندگی گزار سکیں؟پارک کے اس بینچ پر بیٹھے شخص کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ اس کے پاس تو صرف ایک دعا تھی:

یا اللہ! مجھے اتنا عطا کر کہ میں اپنے بچوں کا سہارا بن سکوں اور کسی دوسرے مجبور کے لیے بھی آسرا بن جاؤں۔شاید یہی دعا ان ہزاروں باپوں کی آواز ہے جو ہر صبح امید لے کر گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو اپنی بے بسی چھپا کر بچوں کے سامنے مسکرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسان کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ وہ محتاجی سے نکل کر کسی دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہو جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے