موسم سرما ، شادی، امریکی مڈٹرم الیکشن اور ٹرمپ کی تاریخی شکست

موسمِ سرما کی دستک کے ساتھ ہی فضا میں ایک عجب خنکی اور رت بدلنے کا احساس گہرا ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں صبح سویرے بستر کی گرمائش چھوڑنا ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے اور دن بھر سستی اور غنودگی کا ایک خمار سا طاری رہتا ہے۔ سچ پوچھیے تو میں خود بھی اِس وقت دنیا کے ان کروڑوں انسانوں کی صف میں کھڑا ہوں جنہیں اِن دنوں صبح بیدار ہونا پہاڑ سر کرنے جیسا لگتا ہے اور پورا دن کاہلی کا احساس پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہی وجہ تھی کہ پچھلے چند روز سے قلم اٹھانے کو جی چاہ رہا تھا اور نہ ہی اِس بے فیض سستی سے پیچھا چھوٹ رہا تھا۔

رہی سہی کسر پچھلے ہفتے میرے بھتیجے محمد صیام کی شادی نے پوری کر دی، ایک ایسا پرمسرت خاندانی جشن، جس کی گہما گہمی میں مَیں نے دنیا جہان کی تمام مصروفیات کو ایک طرف رکھ کر اِس خوشی کو دل کھول کر جیا اور خوب انجوائے کیا۔ اِس سستی اور گپ شپ کے ماحول میں جب دوستوں کا ذکر چھیڑا تو دل کو بڑی تسلی ہوئی۔ میرے پیارے دوست عامر سہیل مٹوجنہیں گزشتہ دنوں دل کی تکلیف کے باعث دو سٹنٹ ڈالے گئے تھے، اللہ کا بے حد شکر ہے کہ اب وہ تیزی سے روبہ صحت ہیں اور ماشاءاللہ سے دوبارہ متحرک ہو کر اپنی ریکارڈنگز کا سلسلہ بھی شروع کر چکے ہیں۔ خدا انہیں ہمیشہ سلامت اور تندرست رکھے۔ دوسری طرف ہمارے نوجوان اور باصلاحیت کالم نگار دوست خالد مسعود بھی اِن دنوں صحافتی محاذ پر ماشاءاللہ بہت متحرک ہیں اور اپنے جاندار قلم سے مسلسل عوامی آواز بن رہے ہیں۔

اِنہی دوستوں کی محفل میں جب نشتر ٹاﺅن پریس کلب لاہور کے الیکشن کا ذکر چلا تو ماحول میں ایک نئی تپش کا احساس ہوا۔ پریس کلب کے الیکشن کا ماحول ابھی سے بننا شروع ہو گیا ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ دسمبر کے آخری ہفتے سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے لیے تگ و دو اور جوڑ توڑ عروج پر پہنچ جائے گا۔ اِس بار کچھ زبردست پینلز ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے اور صحافی برادری اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ اِس بار ہمارے اِن پریس کلب کے انتخابات میں ”الیکشن“ کے نام پر کہیں ”سلیکشن“ کا کارڈ نہ کھیل دیا جائے،خیر، اب دیکھتے ہیں کہ وقت کا پہیہ کس طرف گھومتا ہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اِس مقامی انتخابی ماحول اور سیاسی گہما گہمی کے دوران جب دنیا کے حالات اور امریکہ کے مڈٹرم انتخابات کے نتائج پر بات نکلی، تو سچ پوچھیں تو میں ان انتخابات کے نتائج سے بالکل حیران نہیں ہوا، بلکہ مجھے تو پہلے ہی یہ خدشہ تھا کہ ایسا ہی ہونے والا ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے جو سخت اور جارحانہ پالیسیاں بنائی تھیں، ان کا انجام یہی ہونا تھا اور وہ لازمی طور پر ان کی شکست کی وجہ بننے والی تھیں۔ ان انتخابات کے نتائج نے پوری دنیا کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ان الیکشنز میں بہت بری شکست ہوئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں بھاری اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس بڑی سیاسی تبدیلی کو دنیا بھر کے ماہرین اور خود امریکہ کے عوام "جنگی جنون پر امن کی فتح” کہہ رہے ہیں۔

عام طور پر مڈٹرم انتخابات کو موجودہ صدر کی حکومت کی کارکردگی کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔ اس بار امریکہ کے لوگوں نے اپنے ووٹ کی طاقت سے صدر ٹرمپ کی لڑائی جھگڑے والی پالیسیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ جس طرح ایران کے خلاف جنگ کا ماحول بنا رہی تھی اور مشرقِ وسطیٰ کو خطرے میں ڈال رہی تھی، عوام نے اس کو بالکل پسند نہیں کیا۔ ووٹرز نے واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں جنگ اور تباہی نہیں چاہیے، بلکہ وہ اپنے ملک کے اندرونی مسائل کا حل، امن اور زندگی چاہتے ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج اتنے چونکا دینے والے ہیں کہ برسوں پرانے سیاسی گڑھ ٹوٹ گئے ہیں۔ سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے ڈیموکریٹس نے 54 سیٹیں جیت کر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے، جبکہ ریپبلکنز صرف 44 نشستوں پر سمٹ گئے۔ اسی طرح ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس نے 231 سے زیادہ سیٹیں جیت کر اکثریت کا حدف بہت آسانی سے حاصل کر لیا ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی ٹیکساس، جارجیا، کینساس اور آئیووا جیسی ریاستوں میں آئی جو ہمیشہ سے ریپبلکن پارٹی کا پکا قلعہ مانی جاتی تھیں۔ کینساس میں تو تقریباً 100 سال بعد کسی ڈیموکریٹ نے سینیٹ کی سیٹ جیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے ان کے اپنے پرانے ووٹرز بھی تنگ آ چکے تھے۔

اس تاریخی سیاسی الٹ پھیر میں مسلم ووٹرز، بالخصوص پاکستانی نڑاد امریکیوں کے بدلتے ہوئے فیصلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی الیکشن جیت کر دوسری بار صدر بنے تھے، تو اس وقت امریکی مسلمانوں اور پاکستانی کمیونٹی کے ایک بڑے حلقے نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ پاکستانی کمیونٹی میں یہ شدید تاثر اور امیدیں بھی وابستہ تھیں کہ صدر ٹرمپ اقتدار میں آکر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کوئی مثبت سفارتی کردار ادا کریں گے۔ سوشل میڈیا اور مختلف سیاسی حلقوں میں ان توقعات کو اس قدر اہمیت دی گئی کہ پاکستانی نڑاد ووٹرز نے اسے اپنی حمایت کا ایک اہم محرک بنا لیا۔

وائٹ ہاﺅس میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ کی ترجیحات بالکل مختلف نظر آئیں۔ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پیدا ہونے والی عوامی امیدیں دم توڑ گئیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے روایتی امریکی خارجہ پالیسی کے تحت اس معاملے پر کوئی سنجیدہ سفارتی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ اس صورتحال نے پاکستانی کمیونٹی میں مایوسی پیدا کی، لیکن مسلم ووٹرز کے لیے اس سے بھی بڑا دھچکا ٹرمپ انتظامیہ کی مشرقِ وسطیٰ بالخصوص ایران کے خلاف جارحانہ اور جنگی حکمتِ عملی بنی۔ مسلم ووٹرز نے محسوس کیا کہ جن امن کے وعدوں پر انہوں نے ریپبلکنز کا ساتھ دیا تھا، حکومت اس کے برعکس خطے کو ایک نئے جنگی جنون کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار مڈٹرم انتخابات میں مسلم ووٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے شدید مایوس ہو کر ریپبلکن پارٹی سے اپنا راستہ الگ کر لیا، اور ان کا یہ فیصلہ ٹرمپ کی بدترین شکست کا ایک بڑا سبب بنا۔

اس بڑی ہار کے بعد ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اندر بھی اختلافات شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خود مانا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگی ماحول بنانا اور حکومت کا سخت رویہ ہی پارٹی کی اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بنا،یہ جنگ صرف باتوں تک نہیں رہی بلکہ اس نے عام امریکی کی جیب پر اثر ڈالا۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل مہنگا ہوا، جس سے امریکہ میں پٹرول اور روزمرہ کا سامان عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا۔ ووٹرز نے پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار ٹرمپ کو ٹھہرایا اور ان کے خلاف ووٹ دیا۔

ان انتخابات نے امریکی سیاست کو کچھ نئے چہرے بھی دیے ہیں جو ایک بڑی تبدیلی کا پتہ دیتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی جیت کے بعد حکیم جیفریز کے امریکہ کی تاریخ میں پہلے سیاہ فام ”اسپیکر آف ہاﺅس“ بننے کے راستے کھل گئے ہیں۔اس کے علاوہ عبدل السید امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوئے ہیں،امریکی پالیسی ساز اداروں اور ایوانوں میں مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی اکثریت اور اثر و رسوخ کا آنا ایک انتہائی خوش آئند اور مثبت قدم ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف امریکی معاشرے میں مسلمانوں کی سیاسی بیداری کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اب امریکی عوام نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر کے سب کو ساتھ لے کر چلنے والی متبادل قیادت پر اعتماد کر رہے ہیں۔ ایوانوں میں مسلم نمائندوں کی یہ موجودگی مستقبل میں خارجہ اور اندرونی پالیسیوں پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے اپنی ہار مان لی ہے اور ڈیموکریٹس کو مبارکباد دی ہے، لیکن اب ان کے لیے حکومت چلانا بہت مشکل ہو جائے گا،پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہونے کی وجہ سے ٹرمپ اب اپنی مرضی کے قوانین اور بجٹ آسانی سے پاس نہیں کروا سکیں گے۔ ان کی جنگی پالیسیوں پر اب کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اگرچہ ٹرمپ نے قانون سازی روکنے کے لیے صدارتی”ویٹو“ پاور استعمال کرنے کا اشارہ دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان ایک نئی سیاسی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

اس الیکشن کا اثر صرف امریکہ پر نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا۔ ٹرمپ کے جنگی جنون کو بریک لگنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تپش کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ڈیموکریٹس عام طور پر جنگ کے خلاف اور بات چیت کے حق میں رہے ہیں، اس لیے اب ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ دوبارہ سفارتی رابطے شروع ہو سکتے ہیں۔ امریکی عوام نے اپنے ووٹ سے ثابت کر دیا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ ٹرمپ کا جنگی بیانیہ ناکام ہو چکا ہے اور اب دنیا امن اور خوشحالی کی طرف دیکھ رہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے