تعمیراتی ملبے سے پائیدار انفراسٹرکچر تک

"ہم ہیں پاکستان” کے تحت ایک تحقیقی منصوبے کا مقصد تعمیرات اور انہدام سے پیدا ہونے والے ملبے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنا، قدرتی ذخائر کا تحفظ، ماحولیاتی دباؤ میں کمی اور ری سائیکل شدہ کنکریٹ کے لیے قومی معیارات کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔

پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، تعمیراتی سرگرمیوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے نتیجے میں تعمیرات اور انہدام (Construction and DemolitionC&D) سے پیدا ہونے والے فضلے کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکوں کی تعمیرِ نو، عمارتوں کے انہدام، نئی رہائشی اسکیموں اور تجارتی منصوبوں سے نکلنے والا کنکریٹ اور دیگر تعمیراتی ملبہ ملک کے مختلف شہروں میں جمع ہو رہا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس ملبے کا ایک بڑا حصہ، جسے ری سائیکل کرکے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، اب بھی غیر مستعمل پڑا رہتا ہے۔ اصل مسئلہ محض اس ملبے کو ٹھکانے لگانا نہیں، بلکہ اسے پائیدار ترقی کے لیے ایک مفید وسیلے میں تبدیل کرنا ہے۔

اسی تصور کے تحت ’’ہم ہیں پاکستان‘‘ اقدام کے تحت ایک کوالٹی امپروومنٹ پروجیکٹ (QIP) کے طور پر تحقیقی منصوبہ ’’ری سائیکل شدہ کنکریٹ اور تعمیراتی فضلے کے انتظام کے ذریعے پائیدار پاکستان کی تعمیر‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مقامی طور پر دستیاب تعمیراتی ملبے کو قابلِ استعمال ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس (Aggregates) میں تبدیل کرکے کنکریٹ کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ تحقیق تعمیراتی فضلے کے انتظام اور ری سائیکلنگ کے لیے قومی پالیسی تشکیل دینے کی خاطر سائنسی شواہد فراہم کرنے کی کوشش بھی ہے۔

پاکستان کے شہروں کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج

پاکستان کا تعمیراتی شعبہ معاشی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور شہری ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس ترقی کے ساتھ ماحولیاتی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ روایتی تعمیرات میں قدرتی ریت، بجری اور دیگر قدرتی ایگریگیٹس کا وسیع استعمال ہوتا ہے۔ ان وسائل کے حصول کے لیے کان کنی اور دریائی علاقوں سے مواد نکالنے کے عمل سے قدرتی ماحول، زمینی ساخت اور ماحولیاتی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔ دوسری جانب، تعمیراتی ملبہ قیمتی زمین پر جگہ گھیرتا ہے، فضلے کے انتظام کے نظام پر بوجھ ڈالتا ہے اور غیر مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کی صورت میں گردوغبار اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس تحقیقی منصوبے میں پیش کیے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ سے 1 کروڑ 60 لاکھ ٹن تعمیراتی و انہدامی فضلہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ اس کی روزانہ مقدار تقریباً 14,067 ٹن بتائی جاتی ہے۔ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی میں روزانہ تقریباً 1,320 ٹن تعمیراتی و انہدامی فضلہ پیدا ہونے کا تخمینہ ہے۔ یہ اعدادوشمار اس مسئلے کی سنگینی اور فضلے کے مستند اعدادوشمار، مؤثر جمع آوری اور عملی ری سائیکلنگ نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔

اسلام آباد کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں تعمیراتی سرگرمیوں، سڑکوں کی بحالی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں اضافے کے ساتھ کنکریٹ کا ملبہ بھی پیدا ہوتا ہے، جسے ذمہ دارانہ انداز میں سنبھالنا ضروری ہے۔ منہدم شدہ کنکریٹ کو محض ناکارہ ملبہ سمجھنے کے بجائے، مناسب ضوابط کے تحت ری سائیکلنگ مراکز، معیار کی جانچ اور تکنیکی معیارات کے ذریعے اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

کنکریٹ کے ملبے کو تعمیراتی وسائل میں تبدیل کرنا

اس منصوبے میں مقامی تعمیراتی و انہدامی فضلے سے حاصل ہونے والے ری سائیکل شدہ موٹے ایگریگیٹس کی افادیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بالخصوص، تجرباتی تحقیق میں اولڈ گرینڈ ٹرنک (GT) روڈ کوریڈور سے حاصل ہونے والے منہدم شدہ سخت کنکریٹ کے فرش (Rigid Pavement) کے مواد کو استعمال کیا گیا۔ اس طرح تحقیق میں ری سائیکل شدہ مواد کا ایک قابلِ شناخت اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق حقیقی ذریعہ منتخب کیا گیا۔

تحقیق میں قدرتی موٹے ایگریگیٹس کی جگہ ری سائیکل شدہ کنکریٹ ایگریگیٹس کو 0، 25، 50، 75 اور 100 فیصد تک استعمال کرکے مختلف آمیزوں کا جائزہ لیا گیا۔ تجرباتی پروگرام میں ایگریگیٹس کی خصوصیات، کنکریٹ کی میکانی مضبوطی، غیر تباہ کن جانچ، 500 ڈگری سینٹی گریڈ پر حرارت دینے کے بعد باقی ماندہ مضبوطی، اور خردبینی و معدنیاتی تجزیے شامل تھے۔ ان تجزیوں کے لیے اسکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپی (SEM)، انرجی ڈسپرسِو اسپیکٹروسکوپی (EDS) اور ایکس رے ڈفریکشن (XRD) جیسی جدید تکنیکیں استعمال کی گئیں۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس میں قدرتی ایگریگیٹس کے مقابلے میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ اور مخصوص کثافت کم ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں پرانے مارٹر کی تہہ، کچلنے کے دوران پیدا ہونے والی باریک دراڑیں اور زیادہ مسامیت شامل ہیں۔ ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس کا تناسب بڑھنے کے ساتھ عموماً کنکریٹ کی میکانی مضبوطی میں کمی بھی دیکھی گئی۔ تاہم، تحقیق کے تحت 50 فیصد تک ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس پر مشتمل آمیزوں نے 28 دن بعد تقریباً 25 میگاپاسکل یا اس سے زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی مضبوطی حاصل کی۔

یہ نتائج حوصلہ افزا شواہد فراہم کرتے ہیں کہ مقامی طور پر حاصل شدہ ری سائیکل شدہ کنکریٹ ایگریگیٹس کو مناسب تعمیراتی استعمال کے لیے قدرتی ایگریگیٹس کے جزوی متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے مؤثر نفاذ کے لیے مناسب مکس ڈیزائن، مواد کے معیار پر قابو، پائیداری کی جانچ اور متعلقہ انجینئرنگ معیارات کی پابندی ضروری ہوگی۔ ان نتائج کو ہر قسم کے ری سائیکل شدہ کنکریٹ یا تمام ساختی استعمالات کے لیے عمومی منظوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس تحقیق کا بنیادی پیغام واضح ہے: منہدم شدہ کنکریٹ لازماً فضلہ نہیں۔ مناسب پراسیسنگ، جانچ اور معیار کی ضمانت کے ذریعے اسے تعمیراتی صنعت کے لیے ایک ثانوی اور مفید وسیلے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

قومی پالیسی اور ضابطہ جاتی نظام: ایک اہم ضرورت

صرف سائنسی تحقیق تعمیراتی صنعت میں تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں۔ ری سائیکل شدہ کنکریٹ کو تجربہ گاہوں سے نکال کر عملی تعمیراتی سرگرمیوں کا حصہ بنانے کے لیے پاکستان میں ایسا پالیسی ماحول ضروری ہے جو واضح ذمہ داریوں، تکنیکی تقاضوں اور مؤثر فضلہ انتظام کے لیے مناسب ترغیبات کا تعین کرے۔

تعمیراتی و انہدامی فضلے کے انتظام کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک میں ملبے کی علیحدہ درجہ بندی، جمع آوری، نقل و حمل، پراسیسنگ، معیار کی جانچ اور دوبارہ استعمال کے لیے رہنما اصول شامل ہونے چاہییں۔ اس کے ساتھ ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس کے معیار، مختلف اقسام کے مواد کے مناسب استعمال، اور فضلے کی پیداوار و ری سائیکلنگ کی نگرانی اور رپورٹنگ کے طریقۂ کار بھی متعین کیے جانے چاہییں۔

اس فریم ورک کی تیاری میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، بلدیاتی اداروں، ترقیاتی اداروں، ماحولیاتی تحفظ کے محکموں، انجینئرنگ ریگولیٹرز، تعمیراتی کمپنیوں، جامعات، محققین اور ری سائیکلنگ کے کاروبار سے وابستہ اداروں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ قومی سطح کی رہنمائی ایک مشترکہ سمت فراہم کر سکتی ہے، جبکہ صوبوں اور مقامی اداروں کو اپنی ضروریات کے مطابق نفاذ کے طریقے اختیار کرنے کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔

یہ تحقیقی منصوبہ اس عمل میں مقامی تجرباتی شواہد فراہم کرکے معاونت کرنا چاہتا ہے، تاکہ پاکستان کی تعمیراتی ضروریات اور مقامی فضلے کی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا سکیں، نہ کہ صرف ایسے ممالک کی تحقیق پر انحصار کیا جائے جہاں تعمیراتی مواد، فضلے کے ذرائع اور ضابطہ جاتی حالات مختلف ہیں۔

یہ امر اس لیے بھی اہم ہے کہ ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس کا معیار اصل کنکریٹ، انہدام کے طریقوں، آلودگی، پراسیسنگ اور معیار پر قابو پانے کے نظام سے متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا، قومی معیارات سائنسی شواہد پر مبنی، قابلِ عمل اور مقامی حالات سے ہم آہنگ ہونے چاہییں۔

پارلیمانی سطح پر پیش رفت کی امید افزا صورت

اس منصوبے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت رکنِ قومی اسمبلی اور نیشنل پارلیمنٹری ٹاسک فورس برائے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کی کنوینر محترمہ شائستہ پرویز ملک سے ملاقات ہے۔

ملاقات کے دوران منصوبے کے مقاصد اور پائیدار تعمیرات و تعمیراتی فضلے کے انتظام میں اس کے ممکنہ کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منصوبے کی ٹیم کے مطابق، محترمہ شائستہ پرویز ملک نے اس اقدام کو سراہا اور اس معاملے کو قومی اسمبلی کے ایوان میں اٹھانے اور متعلقہ اداروں، بشمول کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA)، سے رابطہ کرکے تعمیراتی فضلے کی ری سائیکلنگ کے لیے مناسب پالیسیوں اور معیارات کی تیاری کے امکانات پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ رابطہ علمی تحقیق اور عوامی پالیسی سازی کے درمیان ایک اہم پل ثابت ہو سکتا ہے۔ اب اگلا مرحلہ اس دلچسپی کو عملی ادارہ جاتی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے، جن میں تکنیکی مشاورت، پالیسی تجاویز، آزمائشی منصوبے اور تحقیق و متعلقہ فریقین کی مشاورت سے معیارات کی تیاری شامل ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد میں سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ ادارے سڑکوں کی بحالی، سرکاری بنیادی ڈھانچے اور عمارتوں کے انہدام سے حاصل ہونے والے کنکریٹ کے لیے آزمائشی ری سائیکلنگ منصوبوں پر غور کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ری سائیکل شدہ مواد کو مقررہ انجینئرنگ معیارات کے مطابق مناسب استعمالات کے لیے جانچا جا سکتا ہے۔ ایسے آزمائشی منصوبے بڑے پیمانے پر نفاذ سے پہلے تکنیکی، انتظامی، معاشی اور ضابطہ جاتی رکاوٹوں کی نشاندہی میں مدد دیں گے۔

تاہم، اس پیش رفت کو اس موضوع پر مزید کام کرنے کا ایک موقع سمجھنا چاہیے۔ کسی قومی پالیسی یا معیار کا باضابطہ نفاذ متعلقہ حکام کی جانچ، مشاورت اور منظوری سے مشروط ہوگا۔

پائیدار اثرات کے لیے چار بنیادی ترجیحات

اس منصوبے کی چار باہم مربوط ترجیحات ہیں۔

اول: شواہد پر مبنی پالیسی سازی۔ تجرباتی نتائج پالیسی سازوں اور ریگولیٹری اداروں کو تعمیراتی و انہدامی فضلے کی محفوظ اور مؤثر ری سائیکلنگ کے لیے قابلِ عمل قومی رہنما اصول مرتب کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

دوم: قدرتی وسائل کا تحفظ۔ مناسب ری سائیکل شدہ مواد سے قدرتی ایگریگیٹس کے ایک حصے کو تبدیل کرکے نئے قدرتی وسائل کے حصول پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، جس سے ماحول پر متعلقہ منفی اثرات محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سوم: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششیں۔ کنکریٹ کی ری سائیکلنگ سے قدرتی ایگریگیٹس کے حصول، نقل و حمل اور فضلے کو ٹھکانے لگانے سے وابستہ اخراج میں کمی ممکن ہے۔ تاہم، کاربن کے حقیقی فوائد کا انحصار پراسیسنگ کی ضروریات، نقل و حمل کے فاصلے، توانائی کے استعمال اور قدرتی مواد کی جگہ ری سائیکل شدہ مواد کے استعمال کی مقدار پر ہوگا۔ ان فوائد کی درست پیمائش کے لیے لائف سائیکل اسیسمنٹ (Life Cycle Assessment) ضروری ہے۔

چہارم: تعمیراتی شعبے میں سرکلر اکانومی۔ ایسے روایتی نظام کے بجائے، جس میں وسائل حاصل کیے جاتے ہیں، استعمال ہوتے ہیں اور پھر پھینک دیے جاتے ہیں، پاکستان بتدریج ایسا نظام اپنا سکتا ہے جس میں تعمیراتی مواد کو دوبارہ حاصل کرکے پراسیس کیا جائے اور پھر پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے۔

یہ ترجیحات اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہیں، خصوصاً ایس ڈی جی 9، جو مضبوط بنیادی ڈھانچے اور جدت کو فروغ دیتا ہے؛ ایس ڈی جی 11، جو پائیدار شہروں اور آبادیوں سے متعلق ہے؛ ایس ڈی جی 12، جو ذمہ دارانہ پیداوار اور استعمال پر زور دیتا ہے؛ ایس ڈی جی 13، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے؛ اور ایس ڈی جی 17، جو پائیدار ترقی کے لیے شراکت داری کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔

تحقیق سے عملی نفاذ تک

اس منصوبے کی حقیقی افادیت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ تجربہ گاہ سے باہر عملی طور پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ایک مربوط حکمتِ عملی کا آغاز مختلف شہروں میں تعمیراتی و انہدامی فضلے کی مقدار کے مستند تخمینوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ملبے کو منبع پر الگ کرنے، مخصوص جمع آوری و پراسیسنگ مراکز قائم کرنے اور ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس کے لیے تکنیکی معیارات مرتب کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں رپورٹ کردہ فضلے کی مقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے جڑواں شہر آزمائشی منصوبوں کے لیے ایک موزوں نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔ سرکاری تعمیراتی منصوبوں اور سڑکوں کی بحالی کے کاموں میں مناسب مقامات پر ری سائیکل شدہ مواد استعمال کرکے اس کی کارکردگی کا روایتی مواد کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

جامعات اور تحقیقی ادارے مواد کی جانچ، پائیداری کے جائزے، لائف سائیکل تجزیے اور تکنیکی رہنما اصولوں کی تیاری میں معاونت کر سکتے ہیں۔ بلدیاتی اور ترقیاتی ادارے خریداری کے تقاضے اور رپورٹنگ کے نظام وضع کر سکتے ہیں، جبکہ نجی تعمیراتی کمپنیاں اس مواد کے تجارتی اور عملی امکانات کا جائزہ لینے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اس عمل کی پیش رفت جانچنے کے لیے واضح پیمانے مقرر کیے جانے چاہییں، مثلاً جمع اور ری سائیکل کیے جانے والے تعمیراتی فضلے کی ٹنوں میں مقدار، منظور شدہ استعمالات میں ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس کا تناسب، قدرتی ایگریگیٹس کی کھپت میں کمی، لینڈ فل میں جانے والے فضلے کی مقدار میں کمی، اور تصدیق شدہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی۔ ان اشاریوں سے پالیسی ساز ماحولیاتی فوائد کے ساتھ ساتھ معاشی افادیت کا بھی جائزہ لے سکیں گے۔

اس کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ پالیسی فریم ورک میں مواد کے معیار اور انجینئرنگ تقاضوں کے مطابق مختلف استعمالات کی واضح درجہ بندی ہو۔ ہر قسم کا ری سائیکل شدہ کنکریٹ ہر مقصد کے لیے موزوں نہیں ہوتا، اس لیے حفاظت، پائیداری اور عملی کارکردگی کو اولین ترجیح دینا لازم ہے۔

ایک پائیدار پاکستان کی تعمیر کا موقع

پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اپنی تعمیراتی صنعت میں وسائل کے استعمال اور فضلے کے انتظام کے طریقۂ کار پر نئے سرے سے غور کرے۔ منہدم شدہ کنکریٹ کو محض ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے ایک حصے کو قابلِ قدر تعمیراتی مواد کے طور پر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

’’ری سائیکل شدہ کنکریٹ اور تعمیراتی فضلے کے انتظام کے ذریعے پائیدار پاکستان کی تعمیر‘‘ کا منصوبہ تجرباتی تحقیق کو عملی نفاذ اور قومی پالیسی سازی سے جوڑ کر اس تبدیلی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اس کی اہمیت صرف ری سائیکل شدہ ایگریگیٹس کے امکانات کو ثابت کرنے تک محدود نہیں، بلکہ محققین، پالیسی سازوں، ریگولیٹری اداروں اور تعمیراتی صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں بھی مضمر ہے۔

محترمہ شائستہ پرویز ملک کی جانب سے اس اقدام کو سراہنا پارلیمانی سطح پر بحث اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے ذریعے اس معاملے کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس دلچسپی کو ایک قابلِ عمل پالیسی فریم ورک میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل رابطہ کاری، تکنیکی مشاورت اور عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔

اس منصوبے کا حتمی مقصد محض زیادہ کنکریٹ ری سائیکل کرنا نہیں، بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں تعمیراتی فضلے کا ذمہ دارانہ انتظام ہو، قدرتی وسائل زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیے جائیں، ماحولیاتی اثرات کم ہوں اور انجینئرنگ سے متعلق فیصلے مستند سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں۔

پائیدار پاکستان کی تعمیر کے لیے صرف نیا بنیادی ڈھانچہ بنانا کافی نہیں؛ ہمیں ان مواد کے استعمال کے طریقوں کو بھی بہتر بنانا ہوگا جن سے یہ بنیادی ڈھانچہ تعمیر ہوتا ہے۔ تعمیراتی ملبے کو مفید وسائل میں تبدیل کرنا اسی پائیدار مستقبل کی جانب ایک عملی قدم ہے۔

ڈاکٹر نثار علی خان
چیئرمین، شعبۂ سول انجینئرنگ، فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
پرنسپل انویسٹی گیٹر / مینٹور

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے