غلط، جھوٹا اور کافر

کچھ عرصہ پہلے میں اسلام آباد میں ایک جگہ کچھ خواتین اساتذہ کےساتھ تربیتی ورکشاپ کر رہی تھی۔ ایک سیشن کے دوران میں نے وہاں اپنی ایک گزشتہ ورکشاپ کا واقعہ سنایا کہ کس طرح ایک مسلک کی ایک ٹیچر دوسرے مسلک کے تمام لوگوں کو کافر قرار دےر ہی تھیں۔ وہ ٹیچر اس مخصوص مسلک کے کسی شخص سے کبھی بھی نہیں ملی تھیں، نہ کبھی انہوں نے اس مسلک کی کوئی کتاب پڑھی تھی اور نہ کوئی ان کے پاس ان کے کافر ہونے کا دلیل تھی۔ لیکن وہ اس بات پر بضد تھیں کہ انہیں پتہ ہے کہ ووہ مسلک والے سارے کافر ہیں۔ان کو یہ بات کس نے بتائی تھی ان کو یہ بھی یاد نہ تھی۔

اس حالیہ ورکشاپ کی شرکاء میں سے ایک ٹیچر نے کہا ہاں ہمیں پہلے کسی مذہبی شخص یا اپنی مسجد کے امام سے معلوم کرنا چاہیے اور پھر ان کو کافر قرار دینا چاہیے کیونکہ یہ معلوم کرنا تو بہت ضروری ہے۔مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ کیا یہ اتنی سادہ بات ہے کہ کسی بھی مسجد کا امام یا کوئی نہاد مذہبی شخص آپ کو کہے کہ فلاں شخص یا گروہ کافر ہے تو کیا بنا کسی تحقیق یا تصدیق کے آپ مان لیں گے؟

اس ٹیچر کی بات نے مجھے ہمارے اس سماجی رویے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا کہ ہمیں ہر چیز کو صحیح یا غلط قرار دینے کی جلدی ہے۔ کسی کو غلط، جھوٹا یا کافر قرار دینا بڑا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے کی سوچ یہ بن چکی ہے کہ کوئی غلط نہیں ہو گا تو ہم صحیح کیسے ہوں گے، کوئی جھوٹا نہیں ہو گا تو ہم سچے کیسے ہوں گے اور کوئی کافر نہیں ہو گا تو ہم مسلمان کیسے ہوں گے؟ ہم اپنے اسلام کو ثابت کرنے کے لیے دوسرے کے کفر کو پہلے ثابت کرتے ہیں، اپنی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے دوسرے کو پہلے جھوٹا ثابت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

پتہ نہیں کہاں سے ہمارے اندر ایک یقین آگیا کہ میرا سچ ہی سچ ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے وہ جھوٹ۔ ہمارے معاشرے میں تنقیدی فکر کا اس قدر فقدان ہے کہ ہم اپنے علم کو چیلنج کرنے اور پرکھنے کا سوچتے تک نہیں۔ ہمین بچپن سے جو تعصبات سیکھائے جاتے ہیں، جو جھوٹ سچ بنا کر بتائے جاتے ہیں ہم وہ عمر بھر اپنی جان کے ساتھ لگا کے رکھتے ہیں اور اگلی نسل تک منتقل کر کے قبر میں جاتے ہیں۔

[pullquote]ہمیں بہت شوق ہے خود کو صحیح ثابت کرنے کا، سچا ثابت کرنے کا اور اچھا مسلمان ثابت کرنے کا۔ لیکن خدا را دوسروں کو غلط ، جھوٹا اور کافر قرار دینا بند کریں ۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو سارے مسلمان ایک دوسرے کو کافر بنا بنا کہ مارتے رہیں گے ۔ یہ دوڑ اتنی بڑھ جائے گی کہ کوئی مسلمان بچے گا ہی نہیں۔ ہم ہر ایک پر کفر کے فتوے لگاتے رہیں گے۔
[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے