وِفاق المدارس کے نام خط اور جواب

’’السلام علیکم !

استاذِ محترم آپ کو بخوبی علم ہے کہ 3اپریل 2016 کولاہور میں وفاق المدراس ایک بڑی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے. اس میں شک نہیں کہ وفاق المدارس کی گرانقدر خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں ، تاہم چند سوالات ذہن میں آرہے ہیں ، لیکن کہیں اکابر کی گستاخی نہ ہوجائے، اس لئے کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا ، البتہ آپ سیاستاذ شاگردی کے علاوہ ایک محبت بھرا تعلق بھی ہے ،اس لئے عرض کیئے دیتا ہوں، مناسب سمجھیں تو کسی سے شیئر بھی کردیں ، اپنے کالم میں جگہ دیدیں،یا مجھے سمجھادیں ۔

1۔وفاق المدارس ایک تعلیمی بورڈ ہے ، تو کیا کوئی بھی تعلیمی بورڈ اس طرح جلسے ، جلوس وغیرہ کرتا ہے ؟ کیا وفاق کی بیسک تھیم اس سے متفق ہے ؟

2۔ظاہر ہے کہ سارے اخراجات طلبہ سے فیسوں کی مد میں وصول کیئے جائیں گے ، یا شایدانفرادی طور پر کچھ اہل خیر کا تعاون ہوگا ، لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی رقم خرچ کرکے بجائے ایک ” عظیم الشان” کانفرنس اور تقاریر کروانے کے اس رقم کو وفاق کی تعلیمی سر گرمیوں کی بہتری ، یا مدرسین کیلئے کوئی ایسا اجتماعی نظم پر کیاخرچ نہیں کیا جاسکتا ، جو بوقت مجبوری ان کے کام آئے ۔اس میں کیا شک ہے کہ اکثر مدرسین غربت کی لکیر سے بہت نیچے زند گی گزارتے ہیں ، جب ان کا کوئی بچہ یاوالدین میں سے کوئی یا خود بیمار ہوتے ہیں، تو ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا ؟

3۔جدید عصری علوم کی اہمیت کتنی ہے، آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ، اس رقم کو لگا کر فضلا ئیکرام کیلئے وفاق کی سطح پر عربی ادبیات ،انگلش ، فقہ المعاملات یا اس طرح کا کوئی اور مفید کورس شروع کیا جائے ، اور پاکستان کی کسی بڑی یونیورسٹی یا ایچ ای سی طرح کے قومی ادارں سے اس کی باقاعدہ ایفلیشن کروائی جائے ،کیاایسا ممکن نہیں ہے ؟

4۔ وہ طلبہ جو وفاق کی سطح پر پوزیشن لیتے ہیں ، اس رقم کو وفاق من حیث الادارہ اپنے تعلق کو استعمال کرکے ایسے طلبہ کیلئے اسلامی ممالک کی بڑی جامعات میں تعلیم دلوائے ، اور بعد میں جب وہ بر سر روز گار ہوں، تو ان سے قسطوں میں وہ خرچہ وصول کرلیا جائے

5۔ باوجود زبردست علمی نصاب ہونے کے ہماری سند کا جو حال ہے ، آپ سے مخفی نہیں ، تو کیا یہ ممکن نہیں کہ ناظمِ وفاق اپنے مخلص دوستوں اور پروفیشنل حضرات ( سلیکشن قابلیت کی بنیاد پر ہو تعلقات کی بنیاد پر نہیں ) جو ان معاملات کو سمجھتے ہوں ، کو لے کر عالم اسلام کی مختلف جامعات مصر ، مراکش،ترکی،امارات،مدینہ منورہ ،مکہ مکرمہ ، ملیشیا ، بحرین ، کویت وغیرہ کا دورہ کریں ، اور وہاں کے اہل علم سے رسم و راہ پیدا کریں ، اور اان کی جامعات سے اپنے بورڈ کا جزوی یا کلی الحاق کریں ، اس سے جہاں فضلا ئیوفاق کے سامنے نئی راہیں کھلیں گی ، وہاں علما ئیپاکستان کی خدمات کا بھی عالمی سطح پر تعارف ہوجائے گا ۔

6۔ایک طرف وفاق کی خدمات ہیں، لیکن دوسری طرف مس منیجمنٹ کا یہ عالم ہے کہ وفاق المدارس کی اپنی آفیشل ویب سائڈ بھی اردو کے سوا کسی زبان میں کماحقہ دستیاب نہیں ، انگلش نہ عربی ، یہ تو اللہ پاک سلامت رکھے ہمارے استاذجی کو ، آپ کی قدر ہم وفاق والے یا علما کتنی کرتے ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جناب نے دلیل الوفاق کے نام سے وفاق کا عربی تعارف لکھ دیا، ورنہ تو ” اپنااعمال نامہ ” خالی ہی ہے ، اس لئے کم از کم وفاق کا موسوعہ اور آفیشل ویب سائڈ کا عربی ارد و میں ترجمہ کروایاجائے ۔

7۔ پوری دنیا میں آن لائن تعلیم اور پرائیویٹ امتحانات کا غلغلہ ہے،اخبارات تک پرنٹ کے بجائے صرف سکرین تک آگئے ہیں،ہر قسم کا مواد اور سہولتیں نٹ پر موجود ہیں،کیا ہمارے بزرگوں کو اس بات کا خیال نہیں ہے کہ گلوبلائزیشن کیاس دور میں ہمیں ہم آہنگ چلنا ہوگا،ذرہ بھی پیچھے رہنے سے ہماری نسلیں بہت پیچھے رہ جائیں گی۔

8۔افسوسناک صورتِحال کا سامنا اس وقت ہوتا ہے،جب وفاق کے کسی فاضل کو حج عمرے کے موقع پر یا کہیں اور عربی میں بات کرنی پڑے،حالانکہ ہمارا دعوی یہ ہے کہ ہم کوئی ڈاکٹر انجینئر تیار نہیں کرتے،ہم تو قرآن وسنت کے ماہرین تیار کرتے ہیں،کیا عربی ادب کے بغیر اس قسم کے ماہر تیار ہوسکتے ہیں،بہرحال یہ دکھڑا کہیں لمبا نہ ہوجائے۔

مورخ یوں جگہ دیتا نہیں تاریخ عالم میں
بڑی قربانیوں کے بعد پیدانام ہوتاہے

ان سب دردمندانہ اور مخلصانہ گذارشات کو پیش کرنے کا مقصد صرف سمجھنا ہے ، یقیناًاکابر مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ، ان کی سوچ وفکر بہت بلند ہوگی ، لیکن بسا اوقات کسی طرف توجہ نہیں بھی ہوتی ہے ، اس لیئے یہ معروضات پیش کی ہیں ۔دینی مدارس،عصری دانشگاہیں،علما،طلبہ،پاکستان اورتمام اہل پاکستان زندہ ،تابندہ اور پائندہ باد۔
محمد نذیر خان فاضلِ وفاق المدارس العربیہ پاکستان، حال وارد ترکی

محترم شیخ نذیر خاں صاحب ‘‘

وعلیکم السلام۔مزاج بخیر۔

آپ کی تمام تجاویز وفرمودات لائقِ تحسین ہیں،اللہ کرے وفاق المدارس اس پر سنجیدگی سے غور فرمائے،پرآپ مایوس نہ ہوں،اپنے حصے کادیا اسی طرح جلاتے رہیئے،لیکن،جی ہاں لیکن،آپ اور آپ جیسے (امیر جان حقانیؔ ،ابو ریان،مبشر بسام،محمد الفیصل،زاہد شاہد،سجاد الحجابی،جنید اکبر،خالدحبیب ،شیخ عزیز العظیمی،مسران ارشد،منظورشاہ،عبید وحید ،مختار جنون، یوسف القمر،سمیع عزیز،حبیب حسن زئی،احتشام گل،موسی العراقی،لطیف معتصم ،یوسف چینی،شہزاد علی،شیخ ناصر،عبدالرحمن صدیقی،پیر یاسر عرفات،علامہ سعید الحسینی،مفتی مطیع اللہ حرم زئی،انعام قریب،نورازاریزا،ضیا الرحمن، محمد شعیب،عبدالمجید ملاخیل،نورالمتین،مفتی ضیا الرحمن،حزب اللہ جلالی،ایوب جان بنوری،حبیب زکریا،،عثمان علی،عبد الجبار شریف،براہیم خٹک،وسیم خان،عثمان براہیم،مفتی عبد القادر،ڈاکٹر یوسف مرزا،جاوید خٹک،ضیا الحسین الولی،شیخ محمد،حماد عزیز قاسمی،مشتاق زاہد،ریاض فنٹر،طلحہ لدھیانوی،شبیب عمانی،صبغ اللہ کاکڑ،عبد اللہ مسعود،جنید انور،ڈاکٹر ابرار،بلال حسن زئی،حنظلہ امجد،ابراہیم عابدی،عطا بخاری،مشتاق طارق وغیرہ)تمام قابل وذہین اشخاص نئی راہوں کی تلاش میں اگر یوں ہی ہر دم سرگرداں رہیں گے،تو کوئی وجہ نہیں کہ کامیابی کی راہیں تمہاری منتظر رہیں گی،

امام الادب العربی مولانا ابوالحسن علی ندوی نیبھی شروع شروع میں در در کی ٹھوکریں کھائیں ،مگر آخر کار انہیں عالم اسلام کاسب سے بڑاایوارڈکنگ فیصل پرائز مل ہی گیا،

فیس بک اور وہاٹس اپ والے بھی دیگر انسانوں کی طرح مادر زاد ان پڑھ ہی پیدا ہوئے تھے،وہاٹس اپ والوں کو تو فیس بک میں نوکری بھی نہیں مل رہی تھی، لیکن انہوں نے مقابلے میں ایک ایسی چیز ایجاد کی کہ وہی فیس بک والے آخر کار مجبور ہوئے ان سے وہاٹس اپ خریدنے پر،حوصلے سے کام لیں اور کچھ نیا کر کو شعار بناکر جتے رہیں،کام کام اور کام ،امت میں تجدید وحیا کی ضرورت ہے،کچھ نہ کچھ تجدیدی کام کریں،

آپ میں سے ہر کوئی مستقبل کا حسن زیات،جادالحق علی جاد الحق،سید سابق،علی طنطاوی،جوہری طنطاوی،علی صابونی،عبدالفتاح ابوغدہ،مصطفی زرقا،شیخ البانی،مصطفی صادق الرافعی،طہ حسین،حسن البنا،ابن باز،محمد بن عبد الوہاب النجدی،ابوالکلام آزاد،عبیداللہ سندھی،ڈاکٹر وھبہ الزوحیلی،احمد دیدات،فتح اللہ گولن،ہارون یحی،شاہ ولی اللہ اور شیخ احمد سرہندی ہیں،اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمز خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری ، وہی نا م حکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے