سیکولر پاکستان کی تعمیر

سیکولر پاکستان کی تعمیر بڑی خاموشی اور مستقل مزاجی سے جاری ہے۔ گزشتہ سال علامہ اقبال کے یوم پیدائش کی سرکاری تعطیل اس دلیل سے ختم کی گئی کہ زیادہ تعطیلات ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس سال تین نئی تعطیلات ہولی، دیوالی اور ایسٹر پر سرکاری تعطیل کی قرارداد قومی اسمبلی نے پاس کی ہے۔ حکومت سندھ نے اس پر باقاعدہ عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ یقینا ان تین نئی تعطیلات سے ملکی ترقی میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔

اس سال کی ایک خاص بات وفاقی دارالحکومت میں 23 مارچ کی مناسبت سے لگنے والے ہولڈنگز پر سے علامہ اقبال کی تصویر کو نکالنا ہے۔ اس پہلے ہر سال لگنے والے تمام ہولڈنگز پر قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے پورٹریٹ پہلو با پہلو ہوا کرتے تھے۔ لیکن اس مرتبہ ایک بھی ہولڈنگ پر علامہ اقبال کی تصویر نہیں لگائی گئی۔

کچھ عرصے سے ایک مغربی وسائل پر چلنے والی لابی باقاعدہ پراپوگنڈا کر رہی ہے کہ اقبال کے اشعار نوجوانوں کو شدت پسندی کی جانب راغب کرنے کا باعث بن رہے ہیں، اس لئے اقبال کو قومی شاعر کا درجہ نہیں ملنا چائیے۔ گزشتہ دنوں میں ایک صاحبہ نے ٹی وی پروگرام میں یہاں تک بھی کہا کہ دو قومی نظریہ ہی مذہبی شدت پسندی کا اظہار ہے۔

حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی انفرادی رائے نہیں ہے بلکہ اب یہ ایک لابی کی رائے سے بڑھ کر ریاستی پالیسی بنتی جا رہی ہے۔ جس کا مقصد پاکستان کی بنیاد اکھاڑنا ہے۔ جس کے اس عمارت کے سالم رہنے کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ پھر اکھنڈ بھارت یا وہ گریٹر انڈیا ہی ہے جس کی توقع امریکہ اور اُس کے حواری لگائے ہوئے ہیں۔ جس کو وہ مستقبل کی سُپر طاقت چین کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مغرب کے پروردہ نام نہاد لبرل اسی ایجنڈے پر بہت آہستگی اور مستقل مزاجی سے کام کر رہے ہیں۔ ہماری حکومتیں اقتدار کے لالچ میں ان کی آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔ یہ اقتدار اور رولت کی ہوس میں اُسی درخت کو کھوکھلا کرنے میں مشغول ہیں جس پر خود ان کا آشیانہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے