کمال صاحب!گارنٹی ضرور لے لیں

قارئین! اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ سندھ میں آباد اردو بولنے والا طبقہ اپنے جائز حقوق سے محروم ہے۔ تکمیل ِ پاکستان سے لیکر آج تک اسے وہ مقام نہیں مل سکا جو پاکستان میں آباد دیگر قوموں کو حاصل ہے جبکہ یہ بات بھی درست ہے کہ اردو بولنے والوں کی واحد نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ 8 سنیٹر 25 قومی اور 51 صوبائی اسمبلیوں میں اپنی نمائندگی رکھنے کے باوجود اپنی تحریک کے 32 سالہ دور میں اردو بولنے والوں کے حقوق کے حوالے سے کسی بھی قسم کی پیش رفت کو ممکن بنانے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے۔ لیکن باوجود اِن حقائق کے اِس حقیقت سے بھی انکار نہیں جاسکتا کہ اردو بولنے والا یہ طبقہ آج بھی ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کو ہی اپنا رہبر و رہنما مانتے ہوئے انھیں اپنا نجات دہندہ تصور کرتاہے۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے اِس امرپر روشنی ڈالنا ضروری ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جس کی بنا پر اردو بولنے والا طبقہ الطاف حسین کا دامن کسی صورت چھوڑ نے کو تیار نہیں۔

قارئین !اس کی ایک وجہ تو پاکستان میں دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے اختیار کیا گیا وہ رویہ ہے جس نے 68 سالوں سے جاری اردو بولنے والوں کے ساتھ ظلم و ناانصافی پرایک بار بھی اِس مظلوم طبقے کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کی اور نہ ہی اس کے مطالبات کو جائز تسلیم کیا گیا۔ بلکہ ہربار اِسی قوم سے اُس کی ثقافت،تہذیب و تمدن کودفن کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا جس کے باعث اِس طبقے میں احساسِ محرومی نے جنم لینا شروع کیااور قوم میں شدت کے ساتھ اپنے لیے ایک قیادت کا احساس جاگنے لگا اِس قوم نے محسوس کیا کہ وہ قائدِ اعظم ؒ کی وفات کے بعد یتیم ہوچکے ہیں۔ لہذا اس تنہائی اور گھٹن زدہ ماحول میں الطاف حسین کی آواز اِنکے کانوں میں گونجی تو جیسے انھیں مسیحا مل گیا . یہ وہ قوم تھی جن کے بڑوں نے صدق دل سے قائدِ اعظم ؒکو اپنا نجات دہندہ تسلیم کیا تھااور اُن کی بے لوث قیادت میں آزادی کا پرچم لہرایا تھا۔

نئی پود نے قائد سے بے پناہ محبت و عقیدت کا سبق اپنے بڑوں سے ہی سیکھا ہے۔ لہذا جناب الطاف حسین بھی اِن کے لئے ایک عظیم قیادت اور مسیحا سے کم نہ تھے جس طرح بانیانِ پاکستان قائداعظم ؒ کی ایک آواز پر لبیک کہہ اٹھتے تھے . اُن کی آل بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے جناب الطاف حسین کی ایک آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہوگئے۔ اگر اُسی وقت اِس مظلوم طبقے کی دادرسی کردی جاتی اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اردو بولنے والوں کو شراکتِ اقتدار کا حصہ بنالیا جاتا ،علاقائی سطح پر اختیارات کو یقینی بناتے ہوئے انھیں بااختیار کیا جاتا تو یقین جانیئے بات آج یہاں تک نہ پہنچتی، محرومیاں نئی نسلوں میں پروان نہ چڑھتیں، پاکستان کے اِن معماروں کے مستقبل یوں داؤ پر نہ لگتے۔

چونکہ اردو بولنے والوں کا تعلق پاکستان کے غریب و متوسط طبقے سے تھا جبکہ حکمران طبقے کا تعلق ملک کے دو فیصد وڈیروں جاگیرداروں سرمایہ داروں پر مشتمل تھا جو کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ غریب و مظلوم عوام شراکتِ اقتدار میں انکے ساتھ ہوں۔ لہذا بجائے حقوق دینے کے اُن پر مختلف ادوار میں ریاستی جبر کا سلسلہ شروع کرکے ان کے احساسِ محرومی کو مزید دوام بخشا گیاسازشوں کا یہ سلسلہ آج بھی اُسی طرح جاری و ساری ہے۔ پاکستان میں کسی بھی سیاسی پارٹی کو اقتدار تک رسائی حاصل کرنے اور پارٹی کے وجود کو ایک طویل عرصے تک برقرار رکھنے کیلئے اُس کی قیادت کا طاقتور اور مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے۔

اگر کسی پارٹی کا وجود ختم کرنا ہوتو اُس کی قیادت کو خریدلیا جاتا ہے یا پھر اُس کی کردار کشی کرتے ہوئے اُسے قیادت سے محروم کردیا جاتا ہے۔ پاکستان میں موجودہ حالات کچھ اِسی بات کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں جہاں ایک جانب متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت پرسنگین نوعیت کے الزامات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے تو دوسری جانب اُسی کے بطن سے ایک نئی قیادت اور نئی تنظیم کا وجود میں آنا شک و شبہات کے ساتھ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ صرف الزام تراشی بات کو نہ صرف مشکوک بنادیتی ہے بلکہ اُسے بے اثر بھی کردیتی ہے۔لہذا متحدہ کے قائد الطاف حسین پر لگائے گئے الزامات میں اگر واقعی کوئی صداقت ہے تو اُسے عدالت میں ثابت کیا جائے یقینا اردو بولنے والا طبقہ ایسے کسی ملک دشمن سازش کا حصہ ہے نہ بنے گا لیکن اِس طرح کسی بھی سیاسی جماعت کو توڑنا مروڑنا جمہوریت کے لئے بہتر ہے نہ ملکی استحکام کے لئے مؤثرثابت ہوسکتا ہے۔

چلو مان لیا جائے کہ متحدہ قومی موومنٹ اپنا وجود برقرار رکھنے میں ناکام ہوجاتی ہے اور کمال اینڈ کمپنی اُس کی جگہ لے لیتی ہے تو کیا ایسے میں ملکی سطح پر کمال اینڈ کمپنی کو ویلکم کیا جائے گا یا وہ بھی ایم کیوایم کی طرح خود کو صرف کراچی حیدرآباد تک ہی محدود رکھ پائے گی۔ اگر کمال اینڈ کمپنی کو اندرونِ سندھ سمیت دیگر صوبوں میں مقبولیت حاصل نہ ہوسکی یا وہاں کے عوام کمال اینڈ کمپنی کو بھی متحدہ قومی موومنٹ کی طرح تعصبیت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں تو کیا کمال اینڈ کمپنی کے خالقین اُسے وہ مقام دلانے میں اپنا بھر پورکردار ادا کریں گے یا اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد ایک بار پھر سے قوم کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے کو چھوڑ دیا جائیگا.قومی دھارے میں شامل ہونے والے دوست قومی دھارے میں شامل کرانے والوں سے اس بات کی گارنٹی ضرور لے لیں۔

نوٹ: اگر آپ اس بلاگ کے مندرجات سے کلی یا جزوی اختلاف رکھتے ہیں‌تو ہمیں‌اپنی رائے سے آگاہ کیجیے .ہم آپ کی رائے احترام کے ساتھ شائع کریں‌گے . شکریہ:آئی بی سی اردو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے