سیکولرازم کا غلغلہ

جنگ آزادی کے ابتلا میں جب غالب کرنل براون کی عدالت میں پیش ہوئے توگو ان کی وضع قطع صاف طور پہ ان کے مسلمان ہونے کی چغلی کھاتی تھی پھر بھی اس مرد دانا نے کہ جسے گلابی اردو بولنے کا تازہ شوق چڑھا تھا پوچھا:ویل ٹم مسلمان ہے؟ غالب بولے : آدھا مسلمان ہوں۔ شراب پیتا ہوں سور نہیں کھاتا۔ یہ پیارا جواب انگریز سرکار کے دل کو ایسا بھایا کہ ترنت انہیں بے ضرر سمجھ کر رہا کردیا۔نہ ہوئے غالب اس دور میں ورنہ محض اس کلیہ کی رو سے کہ شراب پیتا ہوں سور نہیں کھاتا خود کو شرمندگی سے آدھا مسلمان کہلوانے کی بجائے سینہ ٹھونک کر کہتے کہ ہاں سیکولر مسلمان ہوں کر لو جو کرنا ہے اور چھوڑ دیے جاتے۔

وطن عزیز میں کچھ عرصے سے سیکولرازم کا غلغلہ سرکاری سطح پہ بلند ہو ا تو یونہی اچنگ ہوئی کہ ذری پتا تو کریں یہ سیکولرازم کیا بلا ہے جو سرکار کے سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ پھرجب واشنگٹن پوسٹ نے وزیر اعظم صاحب کے لبرل ازم کے ایجنڈے پہ ان کی مدح سرائی کی تو یہ اور بھی ضروری ہوگیا۔

کسی بھی معاشرے کی سیکولرائزیشن سے مراد عام طور پہ مذہب کی حدود متعین کرنے سے لی جاتی ہے۔ معروف امریکی ماہر ادیان و ایمانیات Harvey Cox اپنی کتاب Secular City The میں کہتا ہے کہ سیکولرائزیشن انسانی دریافت کا ایسا عمل ہے جس میں خدا کا کوئی عمل دخل نہیں،دنیا انسان کا مسئلہ اور ذمہ داری ہے۔یہ ایسا مسلسل عمل ہے جس میں مذہبی توجیحات وتشریحات کی کوئی گنجائش نہیں اورتمام مافوق الفطرت مذہبی داستانیں اور تقدس سے جڑی ہر علامت بے معنی ہو چکی ہے۔

سیکولرائزیشن تبھی ممکن ہے جب انسان اُس دنیا سے اپنا دھیان ہٹا کر اس دنیا او ر اس وقت میں لگا لے جس سے وہ گذر رہا ہے۔یہی نظریہ Bryan Wilson کا ہے ، وہ کہتا ہے کہ مذہب مکمل طور پہ فنا تو نہیں ہوتا لیکن لاتعلق ضرور ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں مذہبی تعلیمات عبادات اور ادارے اپنی شناخت کھو دیتے ہیں۔ H228gg Ingemund کہتا ہے کہ یہ عمل مذہبی عقائد اور عبادات کو کمزور کرنے کا عمل ہے جس میں مذہب کو انسان کی زندگی کے ہر شعبے سے طلاق دے دی جاتی ہے۔اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹوٹ کے محقق اور معروف اسرائیلی جریدے Haaretz کے مستقل لکھاری یائر شلیگ کہتے ہیں کہ سیکولرازم اپنی شروعات سے اب تک ایک طویل عمل سے گذرنے کے بعداب اپنی فعالیت اور مذہب دشمنی کی بنیاد با آسانی پہچانا جاسکتا ہے۔صاف بات ہے کہ یہ مذہب کا دشمن ہے جو اس کی جگہ لینے آیا تھا کیونکہ یہ پیدا ہی مذہب دشمنی اور اس کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں ہوا تھا۔یہی وجہ ہے کہ دونوں طبقوں میں تفاوت اور مخاصمت لازمی ہے۔ہم اس جدید دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ذاتی نظریات کوئی شے نہیں ہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی تناظر سے جڑے ہوئے ہیں۔

آج ایک شخص اگر مذہبی ہے تو وہ عالمی سیاست کے تناظر میں مذہبی کیمپ کا حصہ ہے اور اگر وہ سیکولر ہے تو وہ عالمی طور پہ سیکولر کیمپ کا حصہ ہے۔اگر آپ خود کو سیکولر کہلوانے پہ مصر ہیں تو جان لیجیے کہ دنیا آپ کو پہلے سے طے شدہ معیارات یعنی الحاد،انسان کی مرکزیت (طاقت)،مذہب اور روایت سے بیزاری اور ایسے ہی دوسرے اشارات سے پہچانے گی خواہ آپ لاکھ تردید کرتے رہیں۔ اسی طرح اگر آپ مذہبی ہیں تو آپ کا خدا پہ یقین، روایت پسندی،اور اعمال کی جوابدہی پہ ایمان اس کیمپ میں ہونے کا لازمہ سمجھا جائے گا خوا ہ آپ اتنے مذہبی نہ ہوں اور یوم سبت پہ بلند آہنگ موسیقی سننے کی خواہش رکھتے ہوں۔اگرچہ وہ آگے چل کر ایک فرد کے بیک وقت سیکولر اور مذہبی ہونے کے امکانات کے ثبوت میں اسرائیل سے ہی مثالیں پیش کرتا ہے لیکن امریکی اسکالر Jonathan Foxاسے شدت کے ساتھ رد کردیتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ سیکولرازم کو مذہب کی مخالفت کے علاوہ کسی پیمائش سے ناپنا ممکن ہی نہیں۔اس نے کہا کہ میں نے سیکولرازم سے متعلق لٹریچر چھان مارا لیکن مجھے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ سیکولرازم مذہب دشمنی کے بغیر بھی سمجھا جا سکتا ہے اور یقیناًیہ ایک اتفاق نہیں ہے۔وہ مختلف حوالوں سے ثابت کرتا ہے کہ سیکولرازم ریاست، عوام اور قانون سے مذہب کو نکال دینے کے سوا کچھ نہیں اور اگر مذہبی سیکولر ازم کوئی شے ہے بھی تو اس کا تعلق محض ذاتی عقائد اور عبادات سے ہے جس کا سیاست اور قانون سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب جنرل ارشاد نے بنگلہ دیش کے آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعہ اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا توجسٹس کمال الدین حسین نے لکھا:’سوال بڑا بنیادی ہے۔ کیا ایک خودمختار ریاست اسلام کو سرکاری مذہب قرار دے سکتی ہے؟اگر اسلام سرکاری مذہب ہے تو مختار تو اسلام ہوا کیونکہ اسلام جیسا مذہب ریاست کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایک خودمختار ریاست اسلامی اصولوں کے ذریعے کنٹرول کی جا سکتی ہے۔‘ یہاں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ اگر ریاست خودمختار ہے تو آپ اسلام کو ریاستی مذہب قرار دے کر اسے خود بخود یہ حق دے رہے ہیں کہ وہ ریاست کو کنٹرول کرے کیونکہ وہ ایسا کیے بغیر رہے گا نہیں۔اگر اسے ایسا کرنے دیا گیا تو ریاست کی خودمختاری ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔یہ سوالیہ نشان پاکستان جیسے ملک میں جو آئینی طور پہ اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہو اور قراداد مقاصد جس کے آئین کا لازمہ ہو اسستعجابیہ نشان بن جاتا ہے۔

استعجاب کا پہلو ملک کے اسلامی نہیں جمہوری ہونے میں پہناں ہے اور یہ اس وقت واضح ہوتا ہے جب اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے فاضل جج اس بات پہ بحث کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کو ایک سیکولر اسٹیٹ بنایا جاسکتا ہے؟اس موضوع پہ ایمان افروز بحث گذشتہ برس ہوئی ۔ سترہ رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس ناصر الملک کر رہے تھے ،نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستان کوسیکولر اسٹیٹ قرار دینے کا مطالبہ زور پکڑ جائے تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟‘ گویا پبلک کے پرزور اصرار پہ کومپنی کی مشہوری کے لیے ایسا کرنا ہی ہوگا مگر کیسے؟ ’کیا ایک قانون ساز اسمبلی ایسا کرسکے گی؟‘اس پہ جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا’ کیا ایسا تب ممکن ہے اگر ایسی پارٹی برسراقتدار آجائے جس کے منشور میں ایسا ویسا کوئی منصوبہ ہو؟‘۔ظاہر ہے ایسی کوئی پارٹی تب ہی اقتدار میں آئے گی جب عوام اسے ووٹ دیں گے یعنی بھاری مینڈیٹ سے۔ رہا مسئلہ اکتیس فیصد ٹرن آوٹ کا تو ملک سیکولر بننے جا رہا ہو تو ایسی چھوٹی موٹی کھکھیڑ میں پڑ کے مزا خراب نہیں کرنا چاہئے۔یہاں حامد خان نے حل پیش کیا کہ’ ریفرینڈم بھی تو کروایا جا سکتا ہے!‘اور یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ ملک میں ریفرینڈم کی تاریخ الیکشن سے بھی زیادہ تابناک ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے یاد دلایا کہ’ یہ ملک اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تھا جس کے آئین میں قرارداد مقاصد موجود ہے جسے سابقہ مشرقی پاکستان کی حمایت بھی حاصل تھی تو کیا پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کوسیکولر قرار دینے کے لیے آئین میں ترمیم کرے؟اور کس طرح علیحدہ ہوتے ہی بنگلہ دیش ایک سیکولر ریاست بن گیا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ اور نظریات بدل جاتے ہیں۔‘اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ جمہوریت نام ہی لوگوں کی مرضی کا ہے چاہے اس کے ساتھ اسلامی کا سابقہ لگا ہو۔البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ’ بنگلہ دیش اور ترکی میں ایسا انقلاب کے بعد ہی ممکن ہوا۔‘ مصر کی مثال وہ دینا بھول گئے جہاں جنرل سیسی نہایت پرکاری سے سیکولر مصر کی راہ ہموار کر رہے ہیں جب گذشتہ سال کرسمس کے موقع پہ انہوں نے قاہرہ میں سینٹ مارک چرچ کا دوہ کیا ساتھ ہی وہ جامعہ الازہر پہنچ گئے اور علما کو مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ڈٹ جانے کا مشورہ دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اسلام عدم تشدد اور رواداری کا مذہب ہے۔ البتہ اس دوران اخوان کو دی جانے والی پھانسیاں اور گرفتاریاں بھی جاری رہیں۔ انہوں نے ایک معروف سیکولر ادیب ہلمی النمنام کو اپنی کابینہ میں وزارت ثقافت سونپ دی۔موصوف سیکولرازم کے پرجوش حامی اور اسلام ازم کے سخت ناقد ہیں اور اس حوالے سے کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔انہوں نے منصب سنبھالتے ہی اعلان کیا کہ مصر تو اپنی فطرت میں ہی سیکولر ہے اور جہاں کہیں بھی سیاسی اسلام موجود ہے وہاں حالات اندوہناک ہی ہیں۔ مثال کے طور افغانستان ، پاکستان ، نائجیریا اور الجیریا ۔شاید اب انہیں علم ہو کہ ایک سیکولر صحافی یوم پاکستان کے موقع پہ صدارتی ایوارڈ یافتہ ہوچکے ہیں تو شاید ان کی ہم سے کچھ امید بندھے۔

اگراب بھی آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح آپ نے جمہوریت کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کرلیا ہے اسی طرح سیکولرازم کو بھی مسلمان کر لیں گے تو یہ ٓاپ کی سادہ لوحی ہو سکتی ہے۔اس کے نام لیوا قانون اور سرکار کے برزجمہر بہت اچھی طرح اس کی حقیقی تعریف سے واقف ہیں لہذہ غیر محسوس طور پہ معاشرے کو اس راہ پہ ڈالا جا رہا ہے جب جمہور خود سیکولرازم کا مطالبہ کرے البتہ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ کسی عمارت کی بنیاد اس کو ڈھائے بغیر تبدیل نہیں کی جاسکتی اور پاکستان کی بنیاد اسلام ہے!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے