جرم و سزا کی تاریخ…

شاہ حمورابی کے قوانین کے مطالعہ اس حقیقت کا ادراک ھوتا ھے کہ یہ قوانین برسراقتدار طبقے کی ذاتی املاک کہ تحفظ کے لئے نافد کئے گئے اور جن کاموں سے ذاتی املاک پہ زد پڑتی وہ سنگین جرائم قرار دئے گئے موسوی شریعت حمورابی ضاطے سے ھی ماخوذ تھا.

تخت نشینی کے لئے بیٹوں بھائیوں سے جھگڑے -کسی کو تخت تاج ملتا وہ بھائیوں کو قتل کرادیتا قریبی عزیزوں کو قید کردیا جاتا -عثمانی محمد خان فاتح نے یہ قانون جاری کیا کہ تخت پر بیٹھتے ھی بھائیوں کو قتل کرادے – ھندوستان میں اورنگ زیب نے یہی کیا -جہانگیر کی موت پر آصف خاں نے شاھجہاں کے تخت کی راہ ھموار کرنے کے لئے تمام شہزادوں کو مروا دیا -قدیم ھندوستان میں اشوک نے تخت پر بیٹھتے ھی اپنے بھائیوں عزیزوں کو ھلاک کردیا –

بلبن کے خلاف طغرل حاکم بنگال نے خروج کیا لیکن شکست کھای – بلبن نے حکم دیا کہ دورویہ سولیاں نصب کی جائیں اور ان پر طغرل اور اس کے عزیزوں اور خیر خواھوں کو گاڑدیا گیا – جہانگیر کے باغی بیٹے خسرو نے بغاوت کی شکست ھوی دریاےبراوی کے کنارے سولیاں کھڑی کی گئی جن پر شہزادے کے حامیوں کو لٹکایا دیا گیا پھر خسرو کو ھاتھی پر بٹھا کر سامنے سے گزارا گیا – خسرو کے قریبی ساتھی عبدالعزیز کو گاے کی کھال میں اور حسین بیگ کو گدھے کی کھال میں سلوادیا گیا -قسطنطین نےاپنے بیٹے اور بھانجے کو شبے کی بنا پر موت کے گھاٹ اتار دیا –

نادر شاہ نے اپنے قابل بیٹے کو اندھا کرادیا -شاہ عباس صفوی نےایک امیر کو حکم دیا کہ اسکے بڑے بیٹے کا سر کاٹ کر لائے امیر نے تعمیل کی پھر حکم دیا اپنے بیٹے کاسرکاٹ لاے چنانچہ ایسا ھی ھوا-ایران میں باغی کوشق کی خوفناک سزا دی جاتی تھی مجرم کو ٹکٹکی پر الٹا لٹکا کر جلاد درمیان سے ریڑھ کی ھڈی گردن تک کاٹ دیتا اور پھر سولی پر لٹکا دیتے – شاھان ایشوریا نے باغیوں کے لئے جیسے اندھا کرانا – زندہ کھال کھنچوانا – دیواروں میں زندہ چنوا دینا – پنجرے میں بند کرکے ساتھ لئے پھرنا-جلادینا- شکنجے میں پیل کر ھڈیاں چور چور کردینا – تختہ بند کرکے آرے سے چروا دینا وغیرہ…

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے