مریم نواز ن لیگ کے رویے سے ناخوش

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی غیر موجودگی میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما پاناما لیکس کے تناظر میں اپوزیشن کو ہینڈل کرنے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے وزیراعظم کے دفتر میں جمع ہوئے، مریم نواز شریف اس اجلاس کی اہم رکن تھیں.

اجلاس کی صدارت وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کی لیکن وزیراعظم ہاؤس کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے دوران گفتگو مختلف معاملات کے حوالے سے تجاویز دیں اور اپنی رائے کا اظہار کیا.

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا خیال ہے کہ حکمران جماعت نے پاناما پیپرز لیکس کے معاملے پر وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کا مناسب طریقے سے دفاع نہیں کیا، انھوں نے اجلاس کے دوران ہر سطح پر ‘مضبوط دفاع’ کرنے کو کہا.

چیف جسٹس آف پاکستان کے علاوہ کسی حاضر سروس جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کرنے کے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کرنے کے حوالے سے بھی سب سے پہلے مریم نواز نے بات کی.

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ‘اگر کوئی کمیشن بنا تو اس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کریں گے، جس کا اعلان وزیراعظم نواز شریف بھی قوم سے اپنے خطاب میں کرچکے ہیں’.

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی شریک ہوئے، اس دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاناما پیپرز کے معاملے پر حکومتی موقف پیش کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں تک پہنچا جائے. جبکہ شریف خاندان پر آف شور کمپنیز قائم کرنے کے لیے منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے الزامات کی تحقیقات کے لیے مجوزہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا.

ٹی او آر کے مطابق کمیشن شریف خاندان سمیت ان تمام پاکستانیوں کے خلاف الزامات کی تحقیقات میں مکمل طور پر بااختیار ہوگا، جن کے نام پاناما پیپرز میں شائع ہوئے . اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایک سے زائد جج کمیشن کا حصہ ہوں گے، جس میں اسٹیٹ بینک سمیت تمام اداروں کے ارکان شامل ہوں گے.

سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ پر لگائے گئے مضحکہ خیز الزامات کا مکمل دفاع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو اُن لوگوں کی جانب سے لگائے گئے، جو پراپیگنڈے کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں.

اجلاس میں اس بات کی بھی مذمت کی گئی کہ کچھ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کی غرض سے دوبارہ سے سرگرم ہوگئے ہیں. اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ قوم کو ان عناصر کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی جائے جو معاشی طور پر ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے