بول ایگزیکٹ کی غیر قانونی بندش کے خلاف کراچی پریس کلب میں دستخطی مہم

گزشتہ گیارہ ماہ سے ایک جھوٹی خبر کو بنیاد کر پاکستان کی صف اول کی آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ اور اس کے میڈیا ہاؤس بول کی غیر قانونی بندش کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمعرات کے روز کراچی پریس کلب میں بول ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کی والدہ نے اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک دستخطی مہم کا آغاز کیا جس میں اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، معروف صحافیوں اور بول ایگزیکٹ کے سینکڑوں ملازمین کے علاوہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ’دیوارِ دستخط‘ پر اپنا نام ثبت کر کے بول اور آزادی صحافت کے حق میں اپنی حمایت و جذبات کا اظہار کیا۔

تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جس کے بعد نامور سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کا ویڈیو پیغام حاضرین کو بڑی اسکرین پر دکھایا گیا، عبدالستار ایدھی طبعیت کی ناسازی کے باعث تقریب میں شرکت نہیں کرسکے تاہم انہوں نے دستخط کرکے بول بول سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، اپنے ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ بول کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف ہم بول ملازمین کے ساتھ ہیں اور انہوں نے بول ملازمین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد بول کا بول بالا ہوگا اور بول ضرور بول گا۔

اس موقع پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہ نما خورشید شاہ نے بھی دستخطی دیوار پر اپنا نام ثبت کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بول کی حمایت کی ہے اور یہ حمایت جاری رہے گی۔ انہوں نے کراچی پریس کلب میں اپنی موجودگی کو جمہوریت کا تسلسل قرار دیا اور بول کے ملازمین کو حوصلہ دلاتے ہوئے کہا کہ آپ کی آواز آج تو دب سکتی ہے مگر یہ آواز ہمیشہ دبنے والی نہیں کیوں کہ کوئی ساری زندگی وزیر اعظم یا وزیر داخلہ نہیں رہتا۔ انہوں نے اس موقع پر بول میڈیا گروپ کو اپنی پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔

اس موقعے پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے جنرل سیکریٹری اے ایچ خان زادہ نے کہا کہ سخت مشکلات کے با وجود بول کے ملازمین نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور یہ کہ کراچی پریس کلب بول کے ساتھ ہے۔ خان زادہ نے دستخطی مہم کو بول ملازمین کی جدوجہد کا احیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب پہلے دن سے ہی بول کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہیں گے لیکن صحافی کل بھی صحافی تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہ نما اور رکن قومی اسمبلی ڈٓاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی دستخطی مہم میں حصہ لیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک عام شخص نے ایک چینل بنانے کا اعلان کیا تھا جس سے خوف زدہ ہو کر ایک میڈیا سیٹھ نے اپنے سرمائے کو بچانے کے لیے بول کی آواز دبانے کی کوشش کی۔ تاہم انہوں نے نے یقین دلایا کہ ان عناصر سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ بول کے حق میں بہت جلد دیواریں اور سڑکیں بولیں گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہ نما اور سینیٹر سعید غنی نے اس موقعے پر یقین دلایا کہ بول کے حق میں پچھلے گیارہ ماہ کی طرح ایوان بالا کی کوششیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن چینل کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب اس پر کڑا وقت آیا تھا تو ہم اس کے ساتھ کھڑے تھے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور یہ کہ ہم بول کے خلاف حکومتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے رہ نما امیتاز شیخ نے کہا کہ ان کی جماعت کل بھی بول کے ساتھ تھی اور آج بھی ہے۔ انہوں نے کہا میں صرف اتنا کہوں گا کہ بول کو بولنے دو۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹٰی کے رکن امین الحق نے بھی بول کے ساتھ بھرپور اظہار یک جہتی کیا اور دیوار دستخط پر بول کی حمایت میں اپنا لکھا۔ اس موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ سے آزادی صحافت کی حامی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ بول کے حق میں آج یہاں تمام صحافتی برادری اکٹھی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں بھی شانے سے شانہ ملائے کھڑی ہیں۔ انہوں نے مظاہرین کو آگاہ کیا کہ یہاں آنے سے قبل ان کی قائد الطاف حسین سے بات ہوئی جس میں قائد ایم کیو ایم نے بول کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بول بحال نہیں ہو جاتا ان کی پوری جماعت پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

کراچی یونین آف جرنلٹس (کے یو جے) کے صدر اور سینئر رپورٹر جی ایم جمالی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ چند میڈیا مالکان نے ایک خوف کے تحت بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بول کو بند کرنے کی سازش کی مگر ہم سب بول کے ساتھ ہیں اور بول ضرور بولے گا۔

سینئر صحافی طاہر نجمی نے بول کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اخلاقی طور پر جنگ جیت چکے ہیں جس پر ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میڈیا کلب کے شہزاد شاہ نے بول پر غیر قانونی بندش کی مذمت کی ۔

اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ بول تو بولے گا اور کسی کا باپ بھی بول کو بولنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف بول ہی کے لیے نہیں بلکہ ایگزیکٹ کے لیے بھی ہم نے ہی بولنا ہے۔

کے یو جے دستوری کے صدر افسر عمران نے کہا کہ بول کو طلوع ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ تیس ہزار لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے بے روز گار کر دیا گیا اس سے بڑا حکومتی ظلم اور کیا ہو سکتا ہے۔

اس موقع پر بول مینجمنٹ کمیٹی کے رکن معروف صحافی فیصل عزیز خان نے کہا کہ بہت جلد بول کی بحالی کے ساتھ شعیب شیخ کو خواب پورا ہو گا۔ حکومت نے بول ایگزیکٹ کے ساتھ جو ظلم روا رکھا ہوا ہے اس کا خاتمہ قریب ہے اور بول تحریک اب کراچی سے لاہور، پشاور، آزاد کشمیر اور پاکستان سے باہر بھی جائے گی۔

معروف تجزیہ نگار نذیر لغاری اور بول مینجمنٹ کمیٹی کے سینئر رکن نذیر لغاری نے بول کے لیے دستخطی مہم میں شرکت پر تمام صحافی، سیاسی اور سماجی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بول ایگزیکٹ کے خلاف حکومتی مظالم کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کو کون سا آئین اور قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ صرف میڈیا مالکان کو خوش کرنے کے لیے اتنا بڑا ظلم کریں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے