‘را’ کیلئے کام کرنیوالے 2 پاکستانی ماہی گیر گرفتار

کراچی: سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گرد (سی ٹی ڈی) نے 2 افراد گرفتار کیا ہے، جن کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان دونوں ماہی گیروں کا ہندوستانی خفیہ ادارے ‘را’ سے رابطے تھے۔

سی ٹی ڈی کے سینئر سرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) نوید خواجہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع پع ٹھٹھہ کے علاقے شاہ بندر میں کارروائی کرتے ہوئے صدام حسین اور محمد بچل کو گرفتار کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی نوید خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ ان مشتبہ افراد نے بتایا ہے کہ ان کو ایک اور ماہی گیر محمد خان نے ہندوستانی خفیہ ادارے ‘را’ کے لیے کام کرنے پر قائل کیا جبکہ اس کے بدلے میں ان کو ہندوستانی کی سمندری حدود میں مچھلی کا شکار کرنے کی اجازت دی جاتی تھی، ان کو خفیہ ادارے کی جانب سے پیسے بھی دیئے جاتے تھے۔

نوید خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ مشتبہ افراد شاہ بندر کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے گجرات کے شہر بھوج میں پولیس اسٹیشن میں را کے اہلکاروں کرن اور ارجن سے ملاقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ را کے اہلکاروں نے ان دونوں ماہی گیروں کو کیمرا کے ساتھ ساتھ کچھ اہداف دیئے، جس میں پاکستان میں نیوی کی تنصیبات کے علاوہ کراچی اور ٹھٹھہ میں کوسٹ گارڈز کی پوزیشنز کی تفصیلات کی فراہمی شامل تھیں۔

ایس ایس پی نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے بلدیاتی ادارے میں 200 سے 300 ملازمین کے ہندوستانی خفیہ ادارے سے رابطے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمل بلدیات کو اس حوالے سے خط ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ ان ملازمین کے کوائف جمع کیے جا سکیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے گرفتار ملزمان کے قبضے سے حساس مقامات کی نقشے اور تصاویر بھی برآمد کی ہیں جبکہ را کی جانب سے دونوں ملزمان کو کوڈ بھی دیئے گئے تھے۔

گذشتہ ماہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے ہندوستان کے حاضر سروس نیول افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کا افسر ہے، اور بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

4 روز قبل پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ کچھ بین الاقوامی ایجنسیاں بالخصوص ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف ہیں۔

گوادر میں امن و ترقی کے موضوع پر سیمینار سے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’را‘ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہے، ملک کے کسی بھی حصے میں بدامنی کی اجازت نہیں دی جائے گی، بین الاقوامی برادری دہشت گردوں کی بیرونی مدد روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

دوسری جانب 3 روز قبل لندن پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

علاوہ ازیں گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری دفاع جنرل (ر) عالم خٹک نے انکشاف کیا تھا کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ‘را’ نے پاکستان کے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف خصوصی سیل قائم کررکھا ہے، افغانستان میں موجود 7 میں سے 3 ہندوستانی قونصل خانے، جو مزار شریف، قندہار اور جلال آباد میں ہیں، پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے متحرک ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے