ریاست کے راز افشاں کرنے پر چینی شہری کو سزائے موت

بیجنگ: چین میں ایک شہری کو ملک کے 150,000 خفیہ دستاویزات کو ایک نامعلوم غیر ملکی خفیہ ایجنسی کو افشاں کرنے پر سزائے موت سنادی گئی۔

اس قسم کے مقدمات بہت کم ہی چینی عوام کے علم میں لائے جاتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپیوٹر ٹیکنیشن ہانگ یو نامی چینی شہری چین کے ایک ایسے سرکاری ادارے میں کام کرتے تھے جو انتہائی خفیہ دستاویزات پر کام کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی جاسوس تنظیم کو انٹرنیٹ پر پیغام بھیجا اور پیشکش کی کہ وہ اپنے سابقہ مالک کے ہاں کام کے دوران حاصل کی گئیں دستاویزات فروخت کرنا چاہتا ہے، اس پیغام کے بعد مذکورہ تنظیم اور ہانگ یو میں قریبی تعلقات قائم ہوئے اور تنظیم نے اس کی پیش کش کا خیرمقدم کیا۔

جنوبی ایشیا اور ہانگ کانگ میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ہانگ یو نے ابتدائی طور پر 150,000 دستاویزات اس تنظیم کو فراہم کیں، جس میں حکمران جماعت کی فوج اور مالی معاملات کے حوالے سے تمام تفصیلات موجود تھیں۔

چین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق جس وقت ہانگ یو نے دستاویزات مذکورہ جاسوس تنظیم کو فروخت کیں تو وہ اس وقت سرکاری محکمہ میں ملازم نہیں تھے تاہم انہوں نے حکومت کے خفیہ دستاویزات حاصل کرنے کیلئے اسی محکمے میں موجود اپنی اہلیہ اور سالے کا استعمال کیا۔

ان کے مسلسل غیر ملکی سفر اور غیر متوقع دولت کے باعث انہیں 2011 میں گرفتار کرلیا گیا اور انہیں سزائے موت سنادی گئی۔

ٹی وی رپورٹ میں یہ نہیں واضح کیا گیا کہ آیا ہانگ یو کو سزائے موت دی جاچکی ہے یا وہ کس مقام پر قید ہیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے اندرون ملک اور ملک سے باہر استعمال ہونے والے پرانے سیکیورٹی آلات کی جگہ نئے اور مؤثر آلات کی تنصیب کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تاہم چینی صدر کی جانب سے منظور کردہ یا ابھی منظوری کیلئے تعطل کا شکار نئے سیکیورٹی قوانین نے مغربی حکومتوں میں بے چینی پیدا کردی ہے، جس میں نئے انسداد دہشت گردی قوانین اور سائیبر سیکیورٹی کے حوالے سیکیورٹی قوانین بھی شامل ہیں۔

ان قوانین کو مغربی ممالک کی جانب سے چین میں اختلاف رائے پر حملہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔

چین خود پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مسلسل کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتا رہا ہے، چین کا دعویٰ ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی پر عمل کرتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے