محکمہ پولیس اور گڈگورننس

خادم اعلی پنجاب ” میاں شہباز شریف ” صاحب کی صلاحیتوں اور کاوشوں کا اقرار اپنے تو اپنے اغیار بھی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

خود موصوف کےاپنے بیانات بھی عوامی خدمت کے جذبات سے بھرپور آئے روز اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں اور ان کی تعریف زبان زد عام ہے ۔

ایک وقت تک تو پورے ملک میں پنجاب کا امن مثالی تھا مگر موجودہ دور حکومت میں چند ایسے ناخوشگوار واقعات  پیش آئے جن سے سابقہ تأثر میں کمی واقعی ہوئی ہے۔

ایک تو ” شجاع خانزادہ ” کا قتل اور دوسرا حالیہ دنوں کا علامہ اقبال پارک لاہور کا واقعہ ، ان دونوں واقعات سے پنجاب سیکورٹی اداروں پر کئی سوالات اٹھے۔

لاہور واقعہ کے فورا بعد پولیس کی طرف سے محمد یوسف نامی شخص کو دہشت گرد قرار دیا گیا ، میڈیا اور سیکورٹی ادارے اپنی اس فتح پر خوشی کے شادیانے بجانے لگے اور آن واحد میں یوسف کے گھر والوں کو اٹھا کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

یوسف کے دوست یعقوب کے آگاہ کرنے پر حقیقت منکشف ہوئی تب جا کر یوسف کے گھر والوں کی واپسی ممکن ہوئی۔

اگر یوسف کے بارے حقیقت آشکار نہ ہوتی تو مدارس اور اہل مدارس کے خلاف ایک نیا طوفان کھڑا ہوجاتا اور ہمارے اینکر پرسنز بھی اپنی تمام تر صلاحیتیں اسی میں صرف کرتے دکھائی دیتے۔

ادھر حکومت کی سادہ لوحی پر نوحہ کرنے کو جی چاپتا ہے ، لاہور واقعہ رونما ہونے سے دو روز قبل ہی انڈین جاسوس پکڑا گیا۔

ہمارے وزیر اعظم صاحب بوجھل قدموں اور  افسردہ چہرے کے ساتھ ٹی وی اسکرین پر آئے اور قوم سے خطاب کیا جس میں حملے کا ذمہ دار "مذہبی انتہا پسندی” کو قرار دیا حالانکہ جو دشمن حکومتی ناک کے نیچے تھا اس کے بارے میں ایک جملہ بھی زبان سے نکالنا گوارہ نہیں کیا جس سے قوم کو شدید مایوسی ہوئی۔

اس افسوسناک واقعہ کے فورا بعد پنجاب میں بڑے پیمانے پر آپریشن کا اعلان کیا گیا ، جس کا خاص ہدف ڈیرہ غازی خان ، راجن پور اور رحیم یار خان کے کچے کا علاقہ ٹھہرا۔

اس آپریشن میں پنجاب کے چھ اضلاع سے قریبا دو ہزار پولیس اہلکار شریک ہوئے ۔ آج یہ آپریشن  سترہویں روز ( ابھی تک فوج کو طلب نہیں کیا گیا تھا ) میں داخل ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں "دس پولیس اہلکار شہید اور پچیس یرغمال بنا لیے گئے” پولیس کی ناکامی کے بعد آرمی کو طلب کر لیا گیا۔

اس آپریشن کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں پلاننگ کا فقدان ، محدود اسلحہ اور خوراک کی کمی جیسے اہم عناصر کار فرما تھے۔

محکمہ پولیس اپنے مبینہ جعلی مقابلوں کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور راجن پور کا آپریشن اس خدشے کو یقین میں تبدیل کرنے کا سبب ہوا چاہتا ہے کہ واقعتاً محکمہ پولیس کی یہ شہرت صرف شہرت نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔

ضرورت اس بات کی تھی پولیس وہاں بھر پور انداز سے کاروائی کرتی اور محکمہ پولیس کے خلاف تمام خدشات کو ختم کرتی لیکن شاید پنجاب پولیس یہ سمجھی تھی کہ "چھوٹو گینگ” کو ہتھکڑی لگی ہوگی اور جا کر بآسانی ان کو نشانہ بنا سکیں گے مگر یہاں معاملہ بالکل برعکس تھا جس پر انھیں سخت ہزیمت اٹھانی پڑی۔

پولیس کی کارکردگی حکومت پنجاب کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، ضرورت اس امر کی ہے کہ گڈگورننس محکمہ پولیس میں بھی نظر آئے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے