کوہ نور ہیرے سے متعلق ہندوستان کا موقف تبدیل

نئی دہلی: ہندوستانی حکومت نے اپنا موقف تبدیل ہوئے انمول ہیرہ کوہ نور برطانیہ سے واپس لینے کا عزم ظاہر کردیا، جس پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کچھ دن قبل ہندوستان کے قانونی مشیر رنجیت کمار نے کہا تھا کہ کوہ نور ہیرا برطانیہ نے چوری نہیں کیا بلکہ سکھ بادشاہ رنجیت سنگھ نے 19 ویں صدی میں یہ ہیرا بطور تحفہ اسے دیا تھا۔

کوہ نور ہیرے کو 1850 میں جنگ کے دوران ملکہ وکٹوریہ کو تحفے کے طور پر دیا گیا تھا۔ ان جنگوں میں برطانیہ نے سکھ سلطنت کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا، آج یہ علاقہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔

[pullquote] ‘برطانیہ نے کوہ نور چوری نہیں کیا’
[/pullquote]

سکھ بادشاہ رنجیت سنگھ نے اس ہیرے کو ایک افغان بادشاہ سے حاصل کیا تھا جو ہندوستان میں پناہ لینا چاہتے تھے۔

108 قیراط کے کوہ نور ہیرے کی ملکیت متنازع رہی ہے جبکہ ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور ایران اس ہیرے کی ملکیت کا دعویٰ کرچکے ہیں۔

کوہ نور ہیرا افغان بادشاہوں کے پاس بھی رہا جبکہ اس سے پہلے یہ فارس کے شاہی خاندانوں کے پاس رہا، تاہم اس کا حقیقی مقام اب تک ایک راز ہے۔

خبر رساں ایجنسی ‘اے پی’ کے مطابق ہندوستانی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ہیرے کو ‘پرامن’ طورپر واپس لانے کی ہر مکمن کوشش کی جائے گی۔

بیان کے مطابق ‘حکومت پرامن نتائج کے لیے پُرامید ہے جس کے تحت ہندوستان کو تاریخی حیثیت رکھنے والا یہ نادر ہیرا واپس ملے گا’.

دوسری جانب ہیرے کی واپسی کی حامی ہندوستان کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت پر بیان بدلنے کا الزام لگایا۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان سنجے جھا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں نریندر موودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘کوہ نور ہیرے کے لیے مودی حکومت نے صرف ‘فلپ فلاپ’ (Flip- Flop) نہیں بلکہ ‘فُل فلاپ’ کیا ہے۔’

[pullquote]کوہ نور ہیرے کی واپسی کیلئے عدالت میں درخواست
[/pullquote]

اس سے قبل برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ہیرے کو ہندوستان کو واپس کرنے کی مخالفت کرچکے ہیں۔

2010 میں این ڈی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ کسی ایک درخواست پر ہاں کردیں گے تو جلد ہی برطانوی میوزیم خالی ہوجائے گا۔’

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے