کرپشن میں ملوث پاک فوج کے 12 افسران برطرف

راولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کے 12 افسران کو کرپشن کے الزام پر برطرف کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بد عنوانی کے الزامات پر برطرف ہونے والوں میں ایک لیفٹننٹ جنرل، 5 بریگیڈیئر ،3 کرنل اور ایک میجر سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق برطرف افسران میں لیفٹیننٹ جنرل عبیداللہ خٹک اور میجرجنرل اعجاز شاہد شامل ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے ذریعے برطرف کیے جانے والے دیگر افسران میں بریگیڈیئر رشید، بریگیڈیئر سیف اللہ، بریگیڈیئر عامر ، بریگیڈیئراسد، بریگیڈیئر حیدر، بریگیڈیئر آصف کے نام بھی سامنے آئے ہیں جبکہ کرنل حیدر اور میجر نجیب کے نام بھی برطرف افسران میں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطرف کیے جانے والے افسران نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) بلوچستان میں خدمات انجام دیں، ان افسران کو ایف سی سے حاصل ہونے والی مراعات بھی واپس کرنا ہوں گی۔

فوج کی جانب سے افسران کے نام کی تصدیق نہیں کی گئی جبکہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات بھی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

2 روز قبل ہی آرمی چیف نےکوہاٹ میں سگنل ریجمنٹل سینٹر کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان کی یکجہتی، سالمیت اور خوشحالی کے لیے بلاتفریق سب کا احتساب ضروری ہے.

[pullquote] بلاتفریق سب کا احتساب ضروری ، آرمی چیف
[/pullquote]

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں اُس وقت تک پائیدار امن اور استحکام نہیں لایا جاسکتا جب تک کرپشن کا جڑ سے خاتمہ نہ ہوجائے.

قبل ازیں موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اگست 2015 میں نیشنل لوجسٹک سیل (این ایل سی) میں ہونے والی بدعنوانی کے اسکینڈل میں 2 فوجی افسران لیفٹیننٹ جنرل افضل مظفر اور میجر جنرل خالد ظہیر کو برطرف کرنے کی منظوری دی تھی۔

[pullquote]این ایل سی اسکینڈل: 2 فوجی افسران کو سزا
[/pullquote]

خوردبرد ثابت ہونے پر میجر جنرل خالد ظہیر اختر کو فوجی سروس سے برطرف کیا گیا تھا، ان سے فوجی منصب، میڈلز اور ایوارڈ واپس لے کر ان کی پنشن اور میڈیکل سہولیات ختم کر دی گئی تھیں، دوسری جانب لیفٹیننٹ جنرل افضل مظفر کو ‘شدید ناپسندیدگی’ کی سزا دی گئی تھی۔


[pullquote]آرمی چیف نے جو کہا وہ کردکھایا ، تجزیہ کار
[/pullquote]

پاک فوج کے افسران کے خلاف کارروائی پر تجزیہ نگار طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے جو کہا وہ کردکھایا۔

تجزیہ نگار رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے اس فیصلے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو لوگ فوج کا حصہ ہیں، وہ احتساب سے بچے ہوئے ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کرپشن میں ملوث سیاسی رہنماؤں کا بھی احتساب کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک اس قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، کرپٹ حکمرانوں سے نجات ناممکن ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف نے نئی مثال قائم کردی ، ماضی میں اس قسم کی مثال نہیں ملتی اور انھوں نے دیانتداری سے کرپشن کے کیس کو ہینڈل کیا۔

سینئر صحافی طلعت حسین نے کہا کہ مالی بد عنوانی پر افسران کے خلاف کارروائی اچھا اقدام ہے لیکن اس عمل کی بھی نشاندہی ہونی چاہیے جس کے ذریعے یہ افسران کرپشن کرنے میں کامیاب ہوئے۔

تجزیہ نگار حسن عسکری کا کہنا تھا کہ آج یہ ثابت ہوا کہ صرف بیان بازی نہیں بلکہ آرمی چیف نے فوج کے اندر کارروائی کرکے دکھائی، جس سے ایک نئی روایت قائم ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی یہ رہی کہ جب بھی احتساب کی بات کی جائے تو سویلین حکمران یہ کہتے کہ سب کا اور خاص کر فوج کا بھی احتساب کیا جانا چاہیے, اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاستدان پاناما لیکس اور دیگرمعاملات میں اس سے کیا سبق لیتے ہیں۔

تجزیہ نگار مظہر عباس کے مطابق یہ ایک ‘تاریخی فیصلہ’ ہے، جس کے بعد پاناما لیکس کی تفتیش اور کمیشن کے مطالبات زور پکڑیں گے اور وزیراعظم پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

مظہر عباس کے مطابق اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ فوج کے ماتحت ادارے احتساب سے بالاتر ہوتے ہیں، لیکن آج جو فیصلہ سامنے لایا گیا ہے وہ پاکستان کی سویلین حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

آرمی چیف کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماء شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو کرپٹ مافیا کے خلاف کام کرنا ہوگا، ہمارے پاس نیب ہے، پورا میکانزم موجود ہے لیکن سیاسی صلاحیت نہیں ہے لیکن آرمی چیف نے جو فیصلہ کیا ہے یہ ایک تاریخی قدم ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان نعیم الحق کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت ہی اچھا قدم ہے اور ہم نے پہلے ہی خیبر پختونخوا میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔

عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل) کے سربراہ شیخ رشید احمد نے آرمی چیف کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما زاہد خان کا کہنا تھا کہ فوجی افسران کو برطرف کیے جانے کا عمل پیغام ہے کہ ہر ادارے کو اپنا احتساب کرنا چاہیے، جبکہ جمہوریت کو بچانا ہے توسیاست دانوں کو اپنا احتساب کرنا ہوگا۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماء قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حکومت تردید کرے کہ میڈیا میں جو باتیں آئی ہیں وہ غط ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیشن بنے۔

قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ ہم حکومت سے ایک احتسابی عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں، اگر حکومت سنجیدہ ہے تو وہ آگے آئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے