سعودیہ: منشیات اسمگلنگ کا الزام، پاکستانی کا سر قلم

ریاض: سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں ایک پاکستانی کی سزائے موت دے دی گئی جس کے بعد رواں سال میں اب تک سزائے موت پانے والوں کی تعداد 86 ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سعودی وزارت داخلہ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پاکستانی شہری شاہ زمان خان سعید پر ملک میں منشیات اسمگنلگ کا الزام ثابت ہوا تھا جس پر اس کا سرقلم کردیا گیا۔

مذکورہ سزائے موت پر عمل درآمد ریاض میں ہوا۔

سعودی عرب میں سزائے موت کے مجرموں کے سر قلم کیے جاتے ہیں۔

[pullquote]سعودی عرب: رواں سال کی 85ویں سزائے موت
[/pullquote]

سعودی حکام نے رواں سال میں اب تک 86 افراد کی سزائے موت دی جاچکی ہے۔

سعودی عرب میں رواں سال 2 جنوری کو 47 افراد کی سزائے موت دی گئی جن کے بارے میں سعودی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال سعودی عرب دنیا میں سزائے موت دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پرتھا۔

ایمنسٹی کے اعداد شمار کے مطابق گذشتہ سال پاکستان نے 326 افراد کو سزائے موت دی جبکہ ایران سزائے موت دینے والے ممالک میں پہلے نمبر پر تھا، جس نے 977 افراد کو سزائے موت دی تھی۔

گذشتہ روز برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم نے باراک اوباما پر زور دیا تھا کہ وہ سعودی حکام کے ساتھ ان تین افراد کی سزائے موت پر بات کریں جو گرفتاری کے وقت بالغ نہیں تھے۔

ان میں شیعہ مذہبی رہنما نمر النمر کا بھتیجا بھی شامل ہے جن کا سر 2 جنوری کو سزائے موت دیئے جانے والے 47 دہشت گردوں کے ساتھ قلم کیا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے