مولویوں کی مساجد پہ قبضہ کہانی

” دو انتہائی دلچسپ فون کا لز کا احوال ”
السلام علیکم
وعلیکم السلام
آپ اے آر وائی میں اینکر ہو ؟
جی نہیں ، رپورٹر ہوں ۔۔۔
دوسری جانب کچھ دیر وقفہ { شاید مایوسی ہوئی }
اچھا ۔۔۔ ایک مسئلے میں کوریج کروانی ھے ؟
جی جی، حکم کیجئے سن رہا ہوں ۔۔۔۔
آپ نے پٹیل اسپتال دیکھا ھے ؟
وہ گلشن اقبال والا ؟
جی جی ۔۔۔۔
اسکے قریب ایک مسجد ھے عمر ابن خطاب کے نام سے ، اس پہ قبضہ ہونے جارہا ھے ہم چاھتے ہیں آپ اسکی کوریج کریں تاکہ قبضہ رک سکے ۔۔۔۔۔دیکھئیے جناب
پہلے تو میں عرض کردوں کہ میڈیا اس قسم کی خبریں نہیں چلاتا کیونکہ یہ خاصا حساس معاملہ ھے ، ہمیں اور بھی اس طرح کی رپورٹس ملتی ہیں لیکن اسے درگزر کرتے ہیں ۔۔۔۔
اچھا یہ تو بات خراب ہو جائے گی ۔۔۔۔۔
چلیں یہ بتائیں کون قبضہ کر رہا ھے اور مسجد کس مسلک کی ھے ؟
مسجد تو دیو بند کی ھے اور قبضہ مفتی نعیم کرنا چاھتے ہیں ۔۔۔
کیا مطلب ھے ؟ دیو بندیوں کی مسجد پہ مفتی نعیم کیوں قبضہ کرنے لگے ؟ خیریت ھے ؟
ہاں جی ۔۔۔ آپ کو اندازہ نہیں یہ چندوں کا مسلہ ھے، وہ امام مسجد کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر قبضہ نہیں چھوڑا تو سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کا نام دیکر بند کروادوں گا ، یہی وجہ ھے کہ امام صاحب اب چھٹی پہ گاوں جارھے ہیں اور وہ اتنے شریف ہیں انہوں نے ابھی تک ذاتی گھر بھی نہیں بنایا دس بارہ سال امامت کرتے ہوئے ھوگئے ۔۔۔۔
دیکھو بھائی گھر تو میرے پاس بھی ذاتی نہیں یہ باتیں جانے دو لیکن مفتی نعیم پہ الزامات میری سمجھ سے باھر ہیں دل نہیں مانتا کہ ایسا کچھ ہوسکتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔ دال کالی لگتی ھے مجھے ۔۔۔
جناب ۔۔۔ مفتی صیب نے پولیس کو بھی پیسے کھلا دئیے ہیں ۔۔۔
اچھا، آپ مجھ سے کیا چاھتے ہیں ؟
آپ آئیں پولیس کی ویڈیو بنائیں انٹرویو کریں تاکہ کسی اشتعال کے بغیر قصہ ٹل جائے کیونکہ ایک ایک ہی مسلک کا معاملہ ھے۔۔۔۔۔
چلیں میں دیکھتا ہوں جو ہوسکا، ویسے اسکی کوریج ممکن نہیں ۔۔۔۔۔
گفتگو ختم ہوگئی میں نے کامران کیساتھ بہادر آباد میں نہاری سے انصاف کیا اسکے بعد قہوے کا دور چل رہا تھا کہ ایک اور کال موصول ہوئی ۔۔۔۔
آپ اے آر وائی میں ہوتے ہیں ؟
بولنے والے کی شستہ انگریزی سن کر لگا کہ پڑھا لکھا آدمی ھے ۔۔
جی جناب بالکل میں نے قومی زبان میں جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
اچھا ایک بریکنگ اسٹوری ھے میں چاھتا ہوں آپ اسکی کوریج کریں ۔۔۔
انگریزی و اردو کی مشترکہ زبان میں نفیس آدمی نے کہا ۔۔۔
جی بتائے ؟
طارق روڈ پہ رحمت شیریں کے عقب میں غوثیہ مسجد ھے کل بارے بجے سے ڈیڑھ بجے کے درمیان وہاں تصادم ہوگا ، آپ اسے کور کرلیں ۔۔۔
ہیں کیا کہا مسجد میں لڑائی ؟؟؟ کیا کیوں کیسے ؟اور کیا یہ بریلوی مسلک کی مسجد ھے ؟
جی جی یہ حنفی بریلوی مسجد ھے اور اس پہ حنفی بریلوی ہی قبضہ کرنا چاھتے ہیں ہم امام صیب کیساتھ ہیں اور کمیٹی دوسرا امام لانا چاھتی ھے اور جمعے کو تصادم کی تیاری مکمل ھے ۔۔۔۔
بخدا ایک لکھے پڑھے کے منہ سے ایسے لفاظ خاصے تکلیف دہ تھے ۔۔۔
دیکھئیے جناب ہم ایسے کسی معاملے کی کوریج سے گریز کرتے ہیں کیونکہ پھر آپ سب کی توپوں کا رخ ” دجالی میڈیا ” کی جانب ہو جائے گا میری پٹائی و دھلائی تو ہوگی سو ہوگی ، عزت سادات بھی لٹنے کا امکان ھے، اس لئیے معذرت ۔۔۔۔
لیکن ایک راستہ ھے ۔۔۔
میرے اندر کا شیطانی و فسادی صحافی اچانک انگڑائی لیکر بیدار ہوا ۔۔۔
کل جیسے ہی جھگڑا ہو آپ دو چار چیتے موبائل کیمروں کیساتھ تیار رکھئیے، وہ فوری ویڈیو بنا کر مجھے بھیج دیں پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ھے ۔۔۔۔۔
چلیں ٹھیک ھے جناب بہت بہت شکریہ پھر بات ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
{ وہاں کے رہائشی اس معاملے کی اصل تحقیق کرسکتے ہیں میں نے صرف کالز کا احوال لکھا }

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے