اسیران جنگ کو غلام بنانے کا جواز

سوال: جاوید احمد غامدی صاحب کی راے یہ ہے کہ اسلام سے پہلے جنگی قیدیوں کو غلام لونڈی بنا لینے کا جو دستور تھا، قرآن مجید میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے؟
جواب: جناب جاوید احمد غامدی کی یہ رائے سورئہ محمد کی آیت ۴ پر مبنی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے نتیجے میں قید ہونے والے کفار کے حوالے سے یہ ہدایت کی ہے کہ یا تو ان پر احسان کرتے ہوئے انھیں چھوڑ دیا جائے اور یا ان سے فدیہ لے کر رہا کر دیا جائے۔ ارشاد ہوا ہے:
فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ۚ
”پھر جب کفار کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ ہو تو خوب ان کی گردنیں مارو۔ یہاں تک کہ جب اچھی طرح ان کی خون ریز ی کر چکو تو انھیں مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا۔ (ان کے ساتھ لڑائی جاری رکھو) یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔“
آیت بظاہر جنگی قیدیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو دو باتوں میں محصور کر دیتی ہے، یعنی یہ کہ یا تو انھیں احسان کرتے ہوئے بلامعاوضہ چھوڑ دیا جائے اور یا ان سے فدیہ لے کر انھیں رہا کر دیا جائے۔ حصر کا یہ اسلوب بظاہر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسیران جنگ کو فدیہ لے کر یا احسان کے طو رپر آزاد کرنے کے علاوہ کوئی ان کے حوالے سے کوئی تیسرا طریقہ اختیار کرنا جائز نہ ہو۔ تاہم اس ہدایت کے سیاق وسباق کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً کا حصر کا اسلوب اسیران جنگ کو غلام بنانے کی ممانعت کے لیے نہیں، بلکہ ایک مختلف تناظرمیں استعمال کیا گیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے زیر بحث ہدایت کی ترجمانی یوں کی ہے: ”یعنی اس کے بعد اگر یہ تمھارے ہاتھ سے چھوٹیں تو صرف دو ہی شکلوں سے چھوٹیں۔ یا تو تمھارے احسان کا قلادہ اپنی گردن میں لے کر یا فدیہ دے کر۔“ (تدبر قرآن ۷/۷۹۳)
میری طالب علمانہ رائے میں مولانا اصلاحی کی یہ رائے بے حد صائب ہے اور کلام کے موقع ومحل اور اس کے رخ کی نہایت درست ترجمانی کرتی ہے۔آیت کے موقع ومحل اور کلام کے دروبست سے واضح ہے کہ یہاں جنگی قیدیوں سے متعلق کسی قانون کا بیان پیش نظر نہیں، بلکہ اہل ایمان پر یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا انکار کرنے پر اہل کفر کو رسوا کرنے اور انھیں سزا دینے کے لیے اہل ایمان کو بطور آلہ وجارحہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا منشا یہ ہے کہ کفار کو اس جنگ میں خدا کا دشمن سمجھ کر میدان جنگ میں بھی ان کی خوب خون ریزی کی جائے اور پھر جب انھیں شکست ہو جائے تو قید کرنے یا قید سے آزا دکرنے کا معاملہ بھی پوری طرح ان کو نیچا دکھا کر اور ان کے کبر وغرور کو توڑ کر ہی کیا جائے۔ دشمن کے ساتھ جنگ میں ظاہر ہے کہ اسے زک پہنچانے کے یہی تین طریقے ہو سکتے ہیں اور قرآن نے یہاں یہ واضح کیا ہے کہ ان تینوں طریقوں میں دشمن کی کمر توڑنے، اسے زک پہنچانے اور اس کا حوصلہ توڑنے کے جذبے کا اظہار پوری طرح نمایاں ہونا چاہیے۔
اس تناظر میں دیکھیے تو ’اما منا بعد واما فدائ‘ میں حصر قیدیوں کو قتل کرنے یا غلام بنانے کے تقابل میں نہیں، بلکہ باعزت آزاد کرنے کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے اور اس سے مقصود اس بات کی نفی کرنا نہیں کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جائے یا انھیں غلام بنا لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ انھیں باعزت آزادی نصیب نہیں ہونی چاہیے۔ کلام کا یہ رخ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہاں مقصود اگر جنگی قیدیوں کے بارے میں کسی قانون کا بیان ہوتا تو اس کے لیے سادہ طریقے پر یہ کہنا کافی تھا کہ ایسے قیدیوں کو آزاد کر دینا ہی واحد قانونی آپشن ہے، چاہے بلا معاوضہ آزاد کیا جائے یا فدیہ لے کر، لیکن قرآن نے یہاں قیدیوں کو بلامعاوضہ آزاد کرنے کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہونے والا کوئی سادہ لفظ مثلاً ’تحریر‘ یا ’تسریح‘ نہیں، بلکہ ’منا‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔
کلام کا یہ محل اور رخ پیش نظر رہے تو یہ سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ یہاں قیدیوں کے بارے میں قتل اور غلامی کے آپشنز کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا۔ متکلم کا مقصود دراصل یہ ہے کہ ان اہل کفر کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے کسی پہلو سے نرمی یا مسامحت کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے، اس لیے اس نے انھی پہلووں کا ذکر کیا ہے جہاں اس کا خدشہ یا امکان ہو سکتا تھا۔ چنانچہ میدان جنگ میں انھیں تہہ تیغ کرنے میں رو رعایت کا امکان ہو سکتا تھا تو فرمایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خوب ان کی گردنیں ماری جائیں۔ قتل سے بچ جانے والوں کے بارے میں یہ امکان تھا کہ انھیں فرار ہونے دیا جائے تو فرمایا کہ نہیں، بلکہ انھیں خوب مضبوطی سے باندھ لیا جائے۔ پھر گرفتار کیے جانے والوں کے بارے میں یہ امکان تھا کہ انھیں باعزت طریقے سے رہا کر دیا جائے تو فرمایا کہ نہیں، ان کی رہائی بھی یا تو مسلمانوں کا ممنون احسان ہو کر عمل میں آنی چاہیے یا فدیہ ادا کر کے۔ چونکہ ان قیدیوں کے قتل کیے جانے یا غلام بنائے جانے کی صورت میں نرمی کا پہلو قدرتی طور پر مفقود ہے اور ان کا اختیار کیا جانا بدرجہ اولیٰ متکلم کے مقصود کو پورا کرتا ہے، اس لیے یہاں ان آپشنز کا ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہاں اگر ان کا ذکر کیا جاتا تو ظاہری طور پر اس کی ایک ہی صورت تھی، یعنی یہ کہ یہ کہا جاتا کہ ان قیدیوں کو قتل کرنے یا غلام بنانے ہی کو ترجیح دی جائے اور آزاد کرنے کا آپشن کم سے کم استعمال کیا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ اس طرح کی کوئی تحدید عائد کرنا بھی یہاں اللہ تعالیٰ کا مقصود نہیں۔ پس ازروے بلاغت قتل اور غلامی کا ذکر کرنے کی یہاں نہ صرف یہ کہ ضرورت نہیں تھی بلکہ ایسا کرنا غیر ضروری اور غیر مناسب ہوتا۔
مزید برآں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف غزوات میں جنگی قیدیوں کے بارے میں جو طرز عمل اختیار فرمایا، اس میں قیدیوں کو بلامعاوضہ یا فدیہ لے کر رہا کرنے کے علاوہ بعض قیدیوں کو قتل کرنا اور بعض کو غلام بنا لینا بھی شامل ہے۔ چنانچہ آپ نے بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن الحارث کو قتل کر ا دیا۔ بنو قریظہ نے بدعہدی کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا۔ پھر ان کے کہنے پر سعد بن معاذ کو حکم مقرر کیا گیا جنھوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے جبکہ ان کے عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، چنانچہ ان کے فیصلے کے مطابق ان کے مردوں کو قتل کر دیا گیا جبکہ عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر مسلمانوں کے مابین تقسیم کر دیا گیا۔ (بخاری، ۴۲۷۳، ۳۱۸۳) ان میں سے بعض قیدیوں کو مشرکین کے ہاتھوں بیچا بھی گیا۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ، رقم ۸۰۱۸۱)
خیبر کی فتح کے موقع پر آپ نے یہود کے جنگی مردوں کو قتل کرا دیا جبکہ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ ان میں حیی بن اخطب کی صاحبزادی صفیہ بنت حیی بھی تھیں جنھیں بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر کے ان کے ساتھ نکاح کر لیا۔ (بخاری، رقم ۵۹۸، ۹۷۶۲)
غزوئہ بنو المصطلق میں بھی آپ نے ان کے جنگی مردوں کو قتل کیا جبکہ عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر مجاہدین میں تقسیم کر دیا۔ ان میں قبیلے کے سردار کی بیٹی سیدہ جویریہ بھی شامل تھیں جو ابتداءثابت بن قیس کے حصے میں آئیں، لیکن پھر ان کی رضامندی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ثابت بن قیس سے خرید لیا اور انھیں آزاد کرکے ان سے نکاح کر لیا۔ (بخاری، رقم ۵۵۳۲، ۶۵۳۲۔ ابوداود، رقم ۹۲۴۲)
غزوئہ حنین میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا گیا اور انھیں اجازت دی گئی کہ وہ اپنی ملکیت میں آنے والی خواتین کے استبراءرحم کے بعد ان سے استمتاع کر سکتے ہیں۔ تاہم بعد میں اس قبیلے کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور درخواست کی کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس کر دیا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر ان سب کو آزاد کر دیا گیا۔ (بخاری، رقم ۲۴۱۲، ۱۱۹۲۔ مسلم، رقم ۳۴۶۲)
بنو فزارہ کے خلاف غزوے میں ان کی جو خواتین قید کی گئیں، انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کے مابین تقسیم کر دیا جبکہ ان میں سے بعض خواتین کو مکہ مکرمہ بھیج کر ان کے بدلے میں مسلمان قیدیوں کو رہا کرا لیا گیا۔ (مسلم، رقم ۹۹۲۳)
ایک موقع پر کچھ قیدی آپ کے پاس آئے تو ضباعہ بنت زبیر اور سیدہ فاطمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور درخواست کی کہ ان قیدیوں میں سے ایک ایک خادم انھیں دے دیا جائے، تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’سبقکن یتامی بدر‘ یعنی بدر میں ییتم ہونے والوں کا حق تم سے مقدم ہے۔ (ابوداود، رقم ۴۰۴۴)
ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب جنگی قیدیوں کو لایا جاتا تو آپ ان میں سے ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو اکٹھے کسی کی ملکیت میں دے دیتے تاکہ ان کے مابین تفریق نہ ہونے پائے۔ (ابن ماجہ، رقم ۹۳۲۲)
سیدنا علی کو ایک سریے میں یمن کی طرف بھیجا گیا تو بنو زید کے ساتھ لڑائی میں ان کے کچھ قیدی ان کے ہاتھ آئے۔ انھوں نے ان میں سے ایک عورت کو اپنے لیے چن لیا اور بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فیصلے کی تصویب فرما دی۔ (مسند احمد، رقم ۴۳۹۱۲)
عہد صحابہ میں اس ضمن کے بعض واقعات حسب ذیل ہیں:
عین التمر میں دشمن کے بہت سے افراد کو غلام بنا لیا گیا جن میں عبد الاعلیٰ شاعر کے والد ابو عمرہ، محمد بن سیرین کے والد سیرین اور سیدنا عثمان کے معروف غلام حمران بن ابان بھی شامل تھے۔ (ازدی، فتوح الشام، ص ۰۶)
سرزمین شام میں اردن کا علاقہ فتح ہوا تو اسلامی لشکر کے امرا میں اس حوالے سے اختلاف راے پیدا ہو گیا کہ مفتوحین کو غلام بنا کر مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے یا اہل ذمہ بنا کر ان پر جزیہ عائد کر دیا جائے۔ معاملہ سیدنا عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں نے عملی مصلحت کی روشنی میں دوسری راے کی تائید کی لیکن اصولی طور پر غلام بنانے کی ممانعت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ (ازدی، فتوح الشام، ص ۵۲۱)
غامدی صاحب کی رائے میں اس نوعیت کے واقعات میں قیدیوں کو مختلف افراد کے مابین تقسیم کرنا مستقل ملکیت کے اصول پر نہیں بلکہ ایک عارضی انتظام کے طور پر تھا تاکہ یہ افراد خود ان قیدیوں کے ساتھ فدیہ وغیرہ کے معاملات طے کر کے بالآخر انھیں آزاد کر دیں، لیکن یہ توجیہ اشکال کو حل نہیں کرتی، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہرحال جنگی قیدیوں کو غلام اور لونڈی بنایا اور اسی حیثیت سے لوگوں کو ان پر مالکانہ حقوق دیے ہیں، جبکہ اگر قرآن مجید نے سورئہ محمد کی زیر بحث آیت میں قیدیوں کو غلام بنانے کی ممانعت کی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں مملوک نہ بنایا جائے، چاہے یہ ملکیت وقتی اور عارضی نوعیت کی کیوں نہ ہو۔ پھر یہ کہ روایات میں اس کا بھی کوئی قرینہ موجود نہیں کہ یہ قیدی اس اصول پر تقسیم کیے گئے تھے کہ ان کے مالک ان کے ساتھ فدیے کا معاملہ طے کر کے انھیں آزاد کرنے کے پابند ہوں گے۔ بظاہر جس طریقے سے مختلف مواقع پر قیدیوں کو لوگوں کی ملکیت میںدیا گیا، اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ انھیں ان پر ملکیت کا حق مستقل طور پرحاصل ہو گیا تھا۔ ایسے کسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ بعد میں انھیں آزاد کرنا مالکوں پر لازم ہے۔ مزید برآں ایک ایسے معاملے کو جو نظم اجتماعی سے متعلق ہے، افراد کے سپرد کر دینے کی وجہ اور حکمت واضح نہیں ہوتی۔ اگر قرآن کا منشا یہی ہے کہ یہ قیدی لازماً آزاد ہو جائیں تو انھیں افراد میں تقسیم کر کے اس فیصلے پر عمل درآمد کو ان کی شخصی صواب دید پر منحصر کر دینا بظاہر کوئی قابل فہم حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔
ان وجوہ سے میری طالب علمانہ رائے میں اہل علم کے عام نقطہ نظر کے مطابق یہی بات درست ہے کہ قرآن نے اسیران جنگ کو غلام بنانے پر قانونی اور شرعی دائرے میں کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ ہذا ما عندی واللہ اعلم

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے