جہیز کے لئیے پچیس ھزار قتل

انڈیا کی پارلیمان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2012 سے2014 میں تین برس کے درمیان جہیز کے لین دین سے منسلک 24,700 اموات درج کی گئیں۔

نیشنل کرائم بیورو کے ریکارڈ کے مطابق سنہ 2012 میں 8,233 نئی شادی شدہ خواتین کی جہیز کے لین دین کے حوالے سے موت ہوئی۔
سنہ 2013 میں 8,083 اور 2014 میں 8,455 نئی شادی شدہ خواتین موت کا شکار ہوئیں۔تین برس کی اس مدت میں جہیز کے 30 ہزار سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے تھے۔

پولیس کے کرائم ریکارڈ بیورو کے پورے ملک سےجمع کیے گئے اعداد و شمار کےمطابق تین برس کی مدت میں 24,700 خواتین کی موت رجسٹر کی گئی ۔ اس لحاظ سے اوسطً ہرروز 22 نئی شادی خواتین جہیزکی بھنٹ چڑھیں۔بہت ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ اموات جہیز سے متعلق نہ ہوں

۔ متعدد اموات کی وجہ حادثاتی اور قدرتی بھی ہو سکتی ہے لیکن چونکہ بیشتر واقعات میں اموات شادی کے کچھ ہی مہینوں یا ابتدائی برسوں میں رونما ہوتی ہے اور بیشتر اموات جلنے، خودکشی، پراسرار حالات میں اور اچانک ہوتی ہیں اس لیے والدین کی جانب سے عموماً جہیز کا مقدمہ درج کیا جا تا ہے۔ بہت سےمعاملات میں موت کی مشتبہ نوعیت کی بنیاد پر خود پولیس جہیز کا مقدمہ درج کرتی ہے۔

سنہ 1990 کی دہائی تک جہیز کا انڈیا میں رواج اتنا زیادہ تھاکہ جہیز کی لالچ میں ہزاروں خواتین کو ہر برس موت کےگھاٹ اتارا جاتا تھا۔
یہ اتنا بڑا سماجی مسئلہ بن گیا تھا کہ حکومت کو انتہائی سخت قوانین وضع کرنے پڑے۔ قانون کے ساتھ جہیز کے خلاف معاشرے میں زبردست مہم چلائی گئی اور اسے ملک اور سماج کے لیے ایک لعنت قرار دیا گیا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم اور معاشرتی بیداری سے لوگوں کے رجحان میں تبدیلی آئی اور اب یہ لعنت اتنی سنگین نہیں ہے جتنی یہ سنہ 1980 اسی اور 1990 کے عشرے میں تھی۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ تین برس میں جو 25 ہزار خواتین موت کا شکار ہوئیں وہ سبھی جہیز کےلیےقتل کر دی گئیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ان سب کی موت اچانک، عوماً کسی بیماری کے بغیر اور پراسرار حالات میں ہوئیں۔ یہ مقدمات برسہا برس تک چلتے رہیں گے۔ بھارت میں انصاف کا نظام اتنا پیچیدہ طویل اور فرسودہ ہے کہ جرائم کے بیشتر معاملات میں انصاف نہیں ہو پاتا۔

ایک جمہوری ملک ہونے کےباوجود بھارتی معاشرہ خواتین کےمعاملے میں اب بھی تفریق اور بے حسی سےدو چار ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک میں اگر سال بھر میں آٹھ ہزار خواتین جہیز یا کسی اور معاملے کےلیے قتل کر دی جاتیں تو یہ اس ملک کاقومی مسئلہ بن گیا ہوتا لیکن بھارت میں 25 ہزار خواتین کے مشتبہ قتل کی خبر بیشتر اخباروں میں شائع تک نہیں ہوئی ہے۔ ایک سرکردہ اخبارنے اس خبر کو 13 ویں صفحہ پرشائع کیا ہے۔

بھارت میں آئین کی رو سے مرد اور عورت کو برابر کا درجہ حاصل ہے لیکن بچیوں کےساتھ تفریق بچپن سے ہی شورع ہو جاتی ہے۔ بھارتی معاشرہ اور مذاہب سبھی عورتوں کےساتھ تفریق اور جبر میں شامل ہیں۔
بھارت اقتصادی طور پر تیزی سےبدل رہا ہے لیکن اس کی مناسبت سے فرسودہ قدامت پسد اور عورت مخالف سوچ میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے