دو مئی کا سبق

۔سعودی عرب کے بڑے کاروباری خاندان اور اخوان المسلمون سے منسلک شیخ اسامہ نے جب پہلی بار جہاد افغانستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو انکی تنظیم نے انہیں صرف مہاجرین کو ادویات و مالی وسائل فراھم کرنے کی ھدایت کی اور کہا کہ وہ پاکستان میں یہ سارا سامان منصورہ لاھور میں جماعت اسلامی کے حوالے کرکے واپسی کا راستہ دیکھیں ۔۔۔۔۔
اسامہ پاکستان پہنچے تو پھر منصورہ تک محدود نا رھے بلکہ اپنے لئیے الگ راہ منتخب کی ۔۔ یہاں تک کے اخوان المسلمون کو انکا اخراج کرنا پڑا ۔۔۔۔
بعد کے برسوں میں ، اخوان کی اعلی قیادت میں سے ایک راھنماء نے غالبا 1989/90 میں ان سے پشاور میں ملاقات کرکے دوبارہ اخوان کا حصہ بننے کی پیشکش کی لیکن تب اسامہ بن لادن اتنے آگے آچکے تھے کہ انہوں نے واپسی کے پیغام کو شکریہ کیساتھ مسترد کرتے ھوئے کہا کہ اب انکا دائرہ کار بالکل مختلف ھے اور وہ پرامن جدوجہد کی طرف نہیں پلٹ سکتے ۔۔۔۔۔
عبد اللہ عزام کے بعد مکتب الخدمت کی سربراھی اسامہ کے پاس آئی اور یوں امریکا کو براہ راست نشانہ بنانے کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہوا ، جس کی کچھ شکلیں ریاض و خبر میں امریکی فوجیوں پر حملے ، یمن میں یو ایس ایس کول کو نشانہ بنانے اور پھر گیارہ ستمبر کو امریکہ میں گھس کر کاروائی کی انوکھی مثال قائم کرکے سامنے لائی گئی
ان حملوں کو مہمیز 1993 میں موغا دیشو صومالیہ سے ملی جب اسامہ بن لادن کے پیروکاروں نے بلیک ھاک ھیلی کاپٹر مار گرائے اور امریکی کمانڈوز جنگ کا ایندھن بنے ۔۔۔ افغان جہاد میں سویت یونین کی شکست نے جہادیوں کو یقین دلا دیا تھا کہ اب وہ امریکہ سے جنگ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ اور جیت سکتے ہیں ۔۔
ایسا نہیں تھا کہ اس عرصے میں امریکی خاموش تھے، انہوں نے 90 کی دھائی سے ہی اسامہ کو خطرناک شخص قرار دے دیا تھا 1996/97 میں سوڈان و افغانستان پہ امریکی حملے اسامہ کو نشانہ بنانے کے لئیے ہی کئیے گئے تھے ۔۔۔۔
واقف تو دونوں ہی ایک دوسرے سے خوب تھے لیکن امریکیوں کو قطعا اندازہ نہیں تھا کہ اسامہ انکے ملک کے اندر بھی خوفناک حملے منظم کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔
ان حملوں سے متعلق ابتدائی برسوں میں جان بوجھ کر خاموشی اختیار کرنے کے بعد ایک بار اسامہ نے فلسطین کے تناظر میں کہا تھا کہ اگر تم تک ہمارے احتجاج کی آوازیں پہنچتیں تو ہمیں جہاز نا بھیجنے پڑتے ۔۔۔۔۔
عراق و افغانستان میں برطانوی افواج کی مداخلت کو جواز بنا کر القاعدہ نے لندن میں حملے کئیے ۔۔۔۔ اسکے بعد اسامہ نے یورپی ممالک کو پیغام دیا تھا کہ اگر وہ خود کو امریکی سربراھی میں لڑی جانے والی اس جنگ سے الگ کرلیں گے تو انکے خلاف حملے روکے جاسکتے ہیں، اسامہ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے حالت اس آدمی جیسی ھے جو سمندر میں طوفان میں گھرا ہو اور اس پہ تیز بارش ہورہی ہو ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں ، لیکن تمہارے پاس بہت کچھ ھے ۔۔۔
یورپ نے یہ دعوت ھنسی میں اڑا دی البتہ ایک یورپی ملک نے اس پہ مثبت ردعمل ظاھر کیا تھا، حالیہ عرصے میں پیرس اور برسلز حملوں نے اس پیشکش کی یاد پھر سے تازہ کردی ھے۔۔۔۔
گزرے کئی برس امت مسلمہ پہ بہت کڑے رھے بلکہ اسکا سلسلہ جاری ھی ھے لیکن اسامہ کا خیال تھا کہ غلامی سے نجات کی قیمت بہرحال چکانی پڑے گی ۔۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ اسامہ بن لادن نے عرب بہار میں عوامی شمولیت کو مثبت سمجھا ۔۔۔۔ اور انکے نائب ڈاکٹر ایمن الظواھری نے ان تبدیلیوں کو القاعدہ کے لئیے خوش گوار قرار دیا ۔۔۔۔
شخصی آزادی مغرب کا فخر ھے انکی فکر کا کل حاصل ھے ، لیکن دھشت گردی کیخلاف جنگ نے یورپ و امریکہ کی آذادی کے اس تصور کو بری طرح مجروح کیا عام شہری سے لیکر سربراھان مملکت تک کی جاسوسی کی گئی گوانتا ناموبے کی صورت میں مہذب دنیا کے ماتھے پہ کلنک کا ٹیکہ لگا ابو غریب و بگرام سمیت متعدد نامعلوم حراستی مراکز کے قصے عام ھوئے کئی دھائیوں سے وہاں مقیم مسلمان مشتبہ ھوگئے اور ایک انجانا خوف اھل یورپ پہ مسلط ھوا ۔۔۔۔۔ جنگ کا معاشی پہلو تو الگ سے باب کا متقاضی ھے ۔۔۔
اسامہ بن لادن کے ناقدین کہتے ہیں کہ جو راستہ انہوں نے اختیار کیا اسکے نتیجے میں اسلامی ممالک تباھی سے دوچار ھوئے لاکھوں مسلمان موت کی وادیوں میں گم ہوئے ۔۔بدقسمتی سے اسلامی ممالک میں ایسی قیادت کا فقدان ھے جو امت مسلمہ کے مسائل کا درست ادراک رکھتی ھو اور اسے عوامی تائید بھی حاصل ہو ۔۔۔۔
دو مئی کا دن القاعدہ و امریکہ کے لئیے یقینا اہم ہوگا لیکن بطور پاکستانی اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس شب ہماری سرحدوں کی پامالی ھوئی اور امریکی ایبٹ آباد آپریشن میں کامیاب ھوئے یہ اور بات ھے کہ حالیہ دنوں میں ایک امریکی صحافی نے اس کاروائی کی بابت کہا ھے کہ اسمیں پاکستانی معاونت شامل رھی ھے ۔۔۔
اسامہ دنیا میں نہیں رھے، لیکن حقیقت تو یہی ھے کہ کل تک قندھار و جلال آباد تک محدود القاعدہ اب کئی خطوں میں مختلف ناموں سے سرگرم ھے اور شام و یمن کی صورت میں اسے نئے مگر محفوظ ٹھکانے میسر آچکے ہیں اور ایسے میں دولت اسلامیہ کے قیام کے بعد جہادیوں کی ایسی انتہا پسند شکل سامنے آچکی ھے جو اپنی انفرادیت اور خوفناک کاروائِوں کے باعث ماضی کے جہادی گرھوں کو پیچھے چھوڑ گئی ۔۔۔۔
اسلامی ممالک کے مسائل میں انصاف کی عدم فراھمی تعلیم و شعور کی کمی ، دین کا صحیح فہم نا ھونا ، غربت ، کرپشن ، فرقہ واریت مغربی یلغار، ظاغوت کی حکمرانی اور وہ تنازعات ہیں جن میں سے اکثر کا حل یورپ و امریکا کے پاس ھے، جب تک یہ مسائل سنجیدگی سے حل نہیں کئیے جاتے تب تک پرامن دنیا کا خواب ، خواب ہی رھے گا اور بے گناھوں دھشت و بر بریت کی آگ میں جھلستے رہیں گے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے