پانامہ لیکس اور سیاسی مداری

آج کل پاکستان میں سیاسی شعبدہ بازوں کا بازار خوب گرم ہے۔موقع پرست اور مفاد پرستوں کی محفلوں میں ایک دوسرے پر لعن طعن رمضان مبارک میں ذکر و اذکار کی طرح عروج پر ہے۔حکومت اور حزبِ اختلاف میں بیٹھے سیاسی پہلوان اپنی اپنی زبانوں کی کرشمہ سازیوں سے عوام کو ذہنی اور فکری طور پر گومہ گوں کی کیفیت میں مبتلا کرنے کی اپنی سنتِ قدیمہ ادا کر رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر اپنے اپنے قائدین سے تمغہء اوفاداری حاصل کرنے کی تگ و دو میں سرگرم سیاسی پیادے قبر و آخرت کو داؤ پر لگا کر بنیادی اخلاقیات کے دائرے کو پھلاندکر دوسروں کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کو دین و دنیا کی کامیابی اور ملک و قوم سے محبت کا جزوِ لازم سمجھتے ہیں۔رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا اپنی بریکنگ نیوز کے قیامت خیزیوں سے پورا کردیتی ہے۔ ایسے حالات میں عہد و وفا کے متلاشی، قوم پرستی اور وطن دوستی کے ثناء خواں،دیانت و امانت کے طلبگار اور غریب عوام کے حالتِ زار پر اشک بار آنکھیں اور رنجیدہ دل ایک بے آواز سی آہ اور ایک دردناک سا سوال ہونٹوں پے لئے اس ملک کی بد قسمتی پر ماتم کناں عجیب شک و افراتفری کا شکار نظر آتے ہیں۔

پانامہ لیکس نے جہاں دنیائے سیاست کے عالمی افق پر ایک ہیجان برپا کیا ہے وہاں اس نے پاکستانی سیا ست کے ایوانوں میں بھی ایک بھونچال اور کہرا م کی سی کیفیت پیدا کی ہے ۔ ۲۰۰ پاکستانی ناموں میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز وزیرِ اعظم کا خاندان ہے۔ میاں نواز شریف پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا خواب لے کر چلے ۔ پر چلتے چلتے اپنے صاحبزادوں کو پاؤنڈز اور ڈالرز کا ٹائیگر بناکر چلے گئے۔

اب ایک طرف ملک کے موجودہ حکمران ہیں جو نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ غریب کے سینے پر پاؤں رکھ کر اسکے بے بسی پر خندہ زن ہیں۔وہ اپنی طاقت کے نشے میں چور اپنے ان گناہوں کوحرم و مدینہ کے نمازوں اور دعاؤں کی برکت قرار دے رہے ہیں۔ جو شاید عمرِنوح کے برابر سجدہ ریزی سے نہ دھلیں۔ حکومت کو مرحوم میاں شریف کی خاندانی جاگیر کی طرح اپنے عزیز و اقارب میں تقسیم کرنے والے اور کس دیانت داری کے علمبردار ہوسکتے ہیں۔یہ وہ معززینِ وطن ہیں جو غریب کے احسا سات، جذبات اور نظریات کے بیوپاری ہیں۔ بڑی بیباکی سے انکو بیچ کر اپنے محلات کی شان و شوکت بڑھاتے ہیں۔انکے محلات میں گاؤ تکئے اور سامانِ زیبائش غریب کی امید و آس کا خون کرکے تیار کئے جاتے ہیں۔

دوسری طرف حزبِ اختلاف کے وہ شہسوار ہیں جواپنے حریفوں سے غرور و تمکنت کا تاج چھیننے کے لئے ہر وقت تاک میں رہتے ہیں۔یہ ٹولہ ملک و ملت کے درد کی تختی آویزاں کرکے اپنے شاہانہ مستقبل کی تگ و دو میں حکمرانِ وقت کے نیچے سے چادر کھینچ کر انکی بساط لپیٹنے کے لئے ہر وقت سر بکف ہوتا ہے۔انکو ملک کی تقدیر بدلنے کے سواء کچھ سوجتا نہیں لیکن اے کاش انکو ملک و قوم کے غربت زدہ عوام کے بیچ وقت گزارنے کے لئے وقت نہیں ملتا۔انکی زبانوں پر ہر وقت تبدیلی کا نعرہ ہوتا ہے لیکن یہ معززین وطن کبھی اپنی اور اپنے پیاروں کا کلچر تبدیل نہیں کر سکے۔غریب کی حالتِ زار کو زم زم و عطر سے دھونے والے یہ رہنما غربت اور غریب کے احساس سے عملا عاری ہیں۔اقتدار کی ہلکی کرن دیکھ کر ایسے خم ٹھونک کر میدان میں اترے۔ جیسے کئی دن کا بھوکا پیاسا من ا سلوی کے پلیٹوں پر ٹوٹ پڑے۔

میرا ماتم پانامہ لیکس کی داستانِ ہوشربا اور اس سے جڑے خاندانوں کی جعل سازیاں اور خیانت نہیں اور نہ ہی میرا رونا حزبِ اختلاف کا حکومت کی سوندھی خوشبو کے پیچھے دیوانہ وار لپکنے کا ہے۔کہ یہ انکا پیشہ اور کاروبار ہے۔
میرا افسوس اور ماتم تو یہ ہے۔کہ اس قوم کا احساس شاید ابدی نیند سوگیا۔کہ ہر دوسرے روز ان سیاسی شعبدہ بازوں کے نت نئے نعروں اور شعبدوں پر دھوکہ کھا جاتے ہیں ۔ میرا احساس زخمی ہے اور مجھے وطن سے محبت کرنے والی جفا کش اور غریب عوام سے گلہ ہے۔ کب اس ملک کے عوام اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کر سکیں گے۔ کب میری قوم وفا شعاروں اور مفاد پرستوں کے بیچ فرق کرسکے گی؟؟کب اھلِ حق اور وطن کے فرزند قوم کی عزت و پیار کے حقدار ہوں گے؟؟؟

مجھے پانامہ لیکس کے ان کرداروں سے، جنہوں نے قوم و ملک کے دولت کو بے دریغ لوٹا، گلہ نہیں ہے کہ چور کا کام ہی چوری کرنا ہوتا ہے۔ مجھے اگر گلہ ہے تو ان ہاتھوں سے جو انکے گریبان تک پہنچنے کی بجائے انکی طاقت بن جاتے ہیں۔

ذرا سوچئے کہ دنیا میں ہر طرف اس بھونچال پر ردعمل حکومتوں کی طرف سے آرہا ہے۔ کہیں استعفے آرہے ہیں تو کہیں بے رحم تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں۔اب آگے کرپشن ثابت ہو یا نہ ہو پر وہاں کے راہنماؤں نے ملکی محبت یا پھر بنیادی انسانی اخلاق کی عملی مثالیں تو پیش کردیں۔ کہ انہوں نے جمہور کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ہر اس شخص کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ جس پر شک کی انگلی اٹھی تھی۔

لیکن ہمارے حکمران چور مچائے شور کی مصداق صرف زبانی جمع خرچ پر گزارہ کر رہے ہیں۔عملی اقدام سے گریزاں یہ حکمران کچھ ایسے شاہی وفاداروں کی تلاش میں ہیں جو اگر اس معاملے پر بد قسمت عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے تفتیش کرے بھی ۔ تو فیصلہ ظلّ الٰہی کی پاکیزگی، وطن دوستی، ایمانداری ، بے گناہی اور پاک دامنی پر گواہ رہے۔بیشما ر دفعہ روضہء رسول پر حاضری دیتے ہوئے اے کاش میاں صاحب ایک دفعہ بھی اسوہء رسول سے ایک مسلمان حاکم کی ذمہ داریاں ہی سیکھ لیتے یا پھر رسولؐ کے پہلو میں سوئے حضرت ؑ عمرؓ کا عدل و مساوات ہی زندگی میں لے آتے۔

خدا کرے کہ میرے ملک کے غریب عوام کا شعور بیدار ہو۔انکے احساس کی دنیا میں ہلچل پیدا ہو۔پانامہ لیکس جیسے کئی وطن دشمن کہانیوں کے مرکزی کردار چاہے وہ آج کے حکمران ہوں یا ماضی کے حکمران ، انکے محاسبے اور انجام تک پہنچانے کے لئے قوم کی حمیت و ضمیر جاگ اُٹھے۔ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کا دن دھاڑے خون کرنے والوں کے ھاتھ سے جمہوریت کو آزاد کرالیں ۔ یہی مسائل کا حل ہوگا، ور نہ ما ضی کی طرح آج بھی پانامہ لیکس کی حقیقتیں جبر و قوت کے طوفانِ کے سامنے ٹھہر نہیں سکیں گی۔ اور اشرافیہ کمال معصومیت کے ساتھ اپنی بے گناہی کا کتبہ لئے غریب عوام کی سادہ لوحی پر خندہ زن ہوگی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے