فاٹا کے نوجوان اور پولیس

فاٹا میں کشیدہ صورتحال کے باعث لاکھوں قبائلی خاندانوں نے خیبرپختونخوا کے بندوبستی علاقوں کی جانب نکل مکانی کی۔ فاٹا اور خیبرپختونخوا کی سرحدیں ملتی ہیں۔ روزمرا اشیاء کی خریدوفروخت کے لئے بھی قبائلی بندوبستی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے قبائلیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور تشددکی شکایات سامنے آنا شروع ہوگئیں چند نوجوانوں کو صرف شک کی بنیاد پر پولیس نے حبس بے جا میں رکھا۔ دوسری جانب پولیس کا موقف ہے کہ قبائلی علاقوں سے دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے۔

دہشت گرد شہری علاقوں میں کاروائی کے بعد واپس قبائلی علاقوں کی طرف فرار ہوتے ہیں جہاں ان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔2014 کے آغاز میں خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے ایک مراسلہ صوبائی حکومت کو لکھا۔ جس میں تجویز دی گئی کہ قبائلی نو جوانوں کو پولیس میں بھرتی کیاجائے۔ ان نوجوانوں کو خیبرپختونخوا اور فاٹا کے سرحدی علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ تاکہ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔ یہ تجویز پڑھے لکھے قبائلی نوجوانوں کے لئے بھی نوید بنی۔ چونکہ قبائلی نوجوان صرف وفاقی پولیس کا حصہ بن سکتے ہیں اس لئے مراسلہ میں ضروی ترامیم کا فیصلہ کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قبائلی بندوبستی علاقوں میں رہائش، صحت، کھانا پینا اور تعلیم کی سہولیات سے مستفید ہوسکتے ہیں تو پولیس میں بھرتی کیوں نہیں ہوسکتے؟؟

پھر یہ سلسلہ ایک قدم اور آگے بڑھا۔ اکتوبر 2014 میں وزیر اعلی پرویز خٹک نے ایک مراسلہ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کو لکھا۔ جس میں درخواست کی گئی کہ فاٹا کے تین ہزار پڑھے لکھے نوجوانوں کو خبیرپختونخوا پولیس میں بھرتی کیاجائے۔ مراسلے میں لکھاگیا کہ فاٹا ایک عرصے سے دہشتگردوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ اگر خیبرپختونخوا پولیس میں نئی آ ٓسامیاں پیدا کی گئیں۔ تو ایک طرف انہیں روزگار ملے گا اور وہ دہشت گردوں کے آلہ کار بننے سے بچ جائیں گے۔ تجویز دی گئی کہ ایک خصوصی پیکیج کے ذریعہ محکمہ پولیس میں تین ہزار آسامیاں پیدا کی جائیں اور تریاسی کروڑ روپے فراہم کئے جائیں۔ قبائلی نوجوانوں کو اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اور کانسٹیلز کے طور پر بھرتی کیاجائے۔ وفاق سے جواب نہ آیا تو نومبر دو ہزار چودہ میں عارضی بنیادوں پر چار سو قبائلی نوجوان پولیس میں بھرتی کئے گئے۔ جو وزیرستان آئی ڈی پیز کے کیمپوں پر تعینات رہے۔ پھر جون دو ہزار پندرہ آیا تو وفاقی بجٹ میں خلاف توقع اس منصوبے کو شامل نہ کیاگیا۔ اور تاحال یہ منصوبہ وفاقی حکومت کی اجازت اور بجٹ کا منتظر ہے۔ تریاسی کروڑ روپے کی منظوری وفاقی حکومت کیلئے کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن اسے وفاق اور خیبر پختونخوا میں برسراقتدار جماعتوں کی باہمی سرد جنگ کہیں یا لاپرواہی۔کہ ایک قابل عمل اور بہترین منصوبہ ردی کی ٹوکری کی نذر ہوگیا۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ فاٹا میں ایسی شدت پسندتنظیمیں موجود ہیں جو ماہانا بیس ہزار سے ایک لاکھ روپے تنخواہ پر دہشتگرد بھرتی کرتی ہیں۔ جب بیروزگاری عام ہوتو نوجوانوں کا ان تنظیموں کی جانب راغب ہونا تعجب کی بات نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے