دو ماہ میں دو رہائیاں، کوشش یا حسن اتفاق؟

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کی رہائی سے محض دو ماہ بعد علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی خبر حسن اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی خصوصی کوششیں کارفرما تھیں؟

علی حیدر گیلانی القاعدہ سے منسلک ایک تنظیم کی تحویل میں تھے مگر یہ تنظیم ہے کون سی؟ اس رہائی کے پیچھے بھاری تاوان کی ادائیگی بھی مسترد کر دی گئی ہے۔

٭ سابق وزیر اعظم کا مغوی بیٹا تین برس بعد بازیاب
٭ پیپلز پارٹی کی کارنر میٹنگ پر حملہ: علی حیدر گیلانی اغوا

ان کے جوابات شاید علی حیدر گیلانی اور ان کے والد سابق وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی ہی کو معلوم ہو سکتے ہیں۔

لیکن حالات و واقعات کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ جب علی حیدر گیلانی کو ملتان سے عام انتخابات سے تین روز قبل اغوا کیا گیا تو اس وقت اطلاعات تھیں کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (شہریار گروپ) کی تحویل میں ہیں۔ اس گروپ کا القاعدہ سے تعلق ثابت ہے۔

لیکن اغوا کے ایک سال بعد علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ پاکستانی طالبان کی تحویل میں نہیں بلکہ کسی اور گروپ کے پاس ہیں۔

انھوں نے اس وقت اس گروپ کا نام نہیں لیا تھا لیکن وہ کس کی تحویل میں تھے، اس بارے میں کسی شدت پسند تنظیم نے باضابطہ کبھی کوئی اعلان نہیں کیا۔ تو کیا وہ ویڈیو پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی؟

160510093248_shahbaz_taseer_624x351_ispr
شہباز تاثیر کو رواں برس نو مارچ کو کوئٹہ کے علاقے کچلاک سے بازیاب کروایا گیا تھا.

جب پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں میں کارروائیاں تیز کیں تو علی حیدر گیلانی کو افغانستان منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ افواہیں بھی گردش میں رہیں کہ اغوا کاروں نے کئی ارب روپے اور چند قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

گیلانی خاندان تاوان کے کسی بھی کے مطالبے سے انکار کرتا رہا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ شہباز تاثیر کی طرح علی حیدر کی قسمت بھی اچھی تھی کہ بظاہر دونوں بغیر کسی شرط کے رہا ہو گئے۔

اس خطے میں القاعدہ کی کئی فرینچائزز رہی ہیں، جن میں پاکستان اور افغان طالبان کے کئی دھڑے شامل ہیں۔ خالد شیخ محمد سے لے کر الیاس کشمیری سے ان کے روابط ظاہر کیےجاتے رہے ہیں۔

بظاہر نہیں لگتا کہ نیٹو اور افغان فورسز کی یہ کارروائی علی حیدر گیلانی کی موجودگی کی کسی اطلاع پر ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کی کسی کارروائی کی اطلاع پر حرکت کی۔ ان فوجیوں کے لیے یقیناً یہ ایک زبردست دریافت تھی۔

علی حیدر تو کچھ زیادہ ہی خوش قسمت ثابت ہوئے کہ اتنی شدید جھڑپ، جس میں ان کے چار اغوا کار مارے گئے، وہ زندہ سلامت رہے اور انھیں جسمانی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

دو بڑے ہائی پروفائل اغوا کے مقدمات کا اس طرح بخوبی اختتام یقیناً کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے