علی حیدر گیلانی کی واپسی اور۔۔۔درد دل

معمول کادن تھا،معمول کا کام ،فیڈرل بورڈ کی عمارت سے نکلتے ہی ایک فون کال موصول ہوئی جس نے میرے اوسان خطا کر کے رکھ دیئے۔خبر ہی ایسی تھی ۔ گرچہ اس خبر سے میراذاتی کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس معاشرے کا فرد ہوتے ہوئے میں خبریت کی نوعیت سے خود کو الگ نہیں کرسکا۔

فون کی دوسری جانب سے آواز آئی کہ یار تم کو خبر پتہ چلی ہے کہ تین سال سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا اغواء شدہ بیٹا علی حیدر گیلانی کو افغان اور امریکی فورسز نے افغانستان سے ایک آپریشن کے دوران بازیاب کرالیاہے

علی گیلانی ایک ایسی موت کے منہ سے واپس آیا تھا جس کا بظاہر کوئی نام نہیں تھالیکن درد دل ہونے کے ناطے ایک لمحے کے لیے جسم ضرورکانپا۔

فون بند ہوا تو میں نے ایک لمحے کے لیے گاڑی کی بیک سیٹ پر ٹیک لگائی اور سوچنے لگ گیا.

علی حیدر گیلانی کے اغواء اور تین سالوں تک لاپتہ رہنے کی سنگینی کا احساس کوئی ماں جان سکتی ہے۔
کوئی باپ محسوس کرسکتا ہے یا بھائی ہی جان سکتا ہے.

یہ سب میں نے ایک بھائی کے طور پر محسوس کی تو ٹھنڈی آہ سی نکلی اور محسوس ہوا کہ تین سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا۔

تین سو پینسٹھ دن ایک سال میں ہوتے ہیں تو تین سال کا مطلب ہوا ایک ہزار سے زائد دن۔

ایک دن میں چوبیس گھنٹے ،ایک گھنٹے میں ساٹھ منٹ ۔۔۔ایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈ۔۔۔اور لمحہ بس ایک سیکنڈ کے برابر ہی تو ہوتا ہے.

حساب سکھانا مقصد نہیں یہ لمحے گننا مقصد ہے جو ایک ماں پر گزرے ہوں گے،

چاہے لاکھ دفعہ جھٹلائیں مگریوسف رضا گیلانی نے اپنے ایک قریبی دوست کو آنکھوں میں آئے آنسوؤں کے ساتھ شکوہ کیا تھا کہ "یار تاوان بھی کوئی جواز والاہو تو بندہ دے،تین ارب روپے تاوان مانگیں گے تو میں کہاں سے دوں”۔
لیکن

مجھے بات تاوان سے زیادہ یہ محسوس ہوئی کہ گیلانی خاندان کو یہ یقین نہیں تھا کہ علی حیدر کو خدانخواستہ مارہی نہ دیا گیا ہو.

میں ابھی سوچ میں ڈوبے سوچ ہی رہا تھا کہ علی حیدر گیلانی کی ماں نے ضرور اپنے بیٹے کو یاد کر کے آنسو بہائے ہوں گے۔

ہر روز ضروریہ سوچا ہوگا کہ علی حیدر کس حال میں ہوگا۔

زندہ بھی ہوگا یہ نہیں،کئی دفعہ ضرور خیال آیا ہو گا کہ شاید گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا ہو۔
مگر
اللہ نے سچ میں علی حیدر گیلانی کو ایک نئی زندگی دی ہے۔

سوچ کا پہلو بدلا۔۔۔درد دل کے بارے میں سوچنا بند نہیں کیا÷
علی حیدر گیلانی کو ضرور اپنے وہ گناہ جو اس نے ایک وزیر اعظم کے بیٹے کے طور پر کیے ہوں گے وہ یاد آئے ہوں گے۔

اگر کسی کے ساتھ ظلم کیا ہوگا تو اس تین سال کی قید میں ضرور وہ یاد آئے ہوں گے۔

مگر اب گیلانی خاندان کو اس بات کا یقین ہوگیا ہوگا کہ اللہ نے جب کسی کو سبق سکھانا ہو تو اس کے لیے یہاں دنیا میں ہی ایسے ایسے آسان طریقے ہیں کہ انسانی سوچ کے دروازے بندہو جائیں،
اللہ نہ کرے علی حیدر گیلانی کسی جلسے میں خودکش دھماکے سے مر جاتا توفانی دنیا میں جیسے ہم باقی لوگوں کو بھول جاتے علی گیلانی کو بھول جاتے۔
آج تین سال بعد شاید اس کی برسی بھی منائی جاتی یا نہیں

لیکن قید سے واپسی پر جس طرح میڈیا نے علی حیدر گیلانی کی واپسی دکھائی ہے وہ اپنی جگہ لیکن خاندان کی خوشی کا اندازہ صرف درد دل والا ہی لگا سکتا ہے،گیلانی خاندان کی وکالت کرنا مقصد نہیں اور نہ ان کی صاف دامن ثابت کرنے کی کوئی کوشش کررہا ہوں

لیکن یہ تکلیف ایک جھونپڑی میں رہنے والی ماں کے لیے بھی اتناہی درد دے گی جتنا علی حیدر گیلانی کی والدہ کو ہواہوگا۔
کبھی کبھی انسان کا دل ایسے بجھ جاتا ہے جیسے گردش خون میں کوئی تعطل آگیا ہو۔

بیٹے کی موت یا ایسی گمشدگی سے انسان کو تکلیف تو ہوتی ہے۔انسان کو دل بجھتا بھی ہے اور محسوس بھی ہوتا ہے۔

بالکل جیسے سانس لینے کے لیے نظام تنفس ایک لمحے کے لیے ناکام ہوگیا ہو۔

درددل رکھنے والے ہر انسان پر یہ لمحے بہت دفعہ آئے ہوں گے۔

کبھی ہم نے سوچا ہے کہ درد دل رکھنے اور درددل ہونے میں کیا فرق ہے؟

درد دل ہونے سے تو اللہ سب کو بچائے لیکن درددل رکھنے کی اللہ سب کو توفیق دے،آمین،ثم آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے