پاکستان کی شہادت

بنگلہ دیش میں پاکستان کو 1971ء میں متحد رکھنے کی کوششیں کرنے والوں کو عدالتوں کے ذریعے قتل کرانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، حسینہ واجدکی حکومت کے قائم کردہ نا م نہاد جنگی ٹربیونل نے ایک ظالمانہ ، متعصبانہ اور غیر منصفانہ فیصلے کے ذریعے 73 سالہ بزرگ رہنما امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مولانا مطیع الرحمن نظامی کو 10 اور گیار ہ مئی کی درمیانی شب تختہ دار پر لٹکا دیا، 45 سال پہلے اپنے ایک بازو کی حفاظت کے لئے ان کا شاندار کردار اور مادرِ وطن کی حفاظت ان کے لئے جرم بن گیا، جس کی بنیاد پر انہیں 1971 مین مکتی باہنی کے خلاف مادرِ وطن پاکستان کا ساتھ دینے پر 71 سال کی عمر میں جان کا نذرانہ پیش کرناپڑا ۔

اس ضیف العمری میں مطیع الرحمٰن نظامی کی شہادت پہلا واقع نہیں، بلکہ بھارت نواز بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے یہ متعصبانہ پھانسیاں2010 سے تسلسل کے ساتھ شروع ہوئیں، جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں ، کارکنوں اور ہمدردوں کیخلاف بنگلہ دیش میں قہرآلود فضاء قائم ہے ۔۔۔۔۔ان کو ملک دشمن اور غدار سمجھا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ قید و بند کی صعوبتیں ، پابندیوں کا سلسلہ ، جبروتشدد اور بے لگام پھانسیاں یہ صرف ایک جرم کی سزا ہے۔ وہ جرم اور گناہ فقط یہی ہےکہ انہوں نے اپنے ملک کے نظرئیے کیلئے قربانی دی۔۔۔۔۔۔ اپنے گلشن کے تحفظ کیلئے جان لڑائی۔۔۔۔۔ اپنی مادرِ وطن کو دو لخت ہونے سے بچانے کی کوششیں کیں۔۔۔۔۔۔ اپنے دیس سے خلوص،محبت اور عقیدت کا رشتہ رکھا ۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ جرم جس کی سزا بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کو چالیس سال بعد مل رہی ہے، اسی جرم کی پاداش میں ان کی تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی، ملک سے غداری کے طعنے، ظالمانہ سزائیں اور پابندیاں ان کا مقدر بنا دی گئیں ہیں۔۔۔۔۔

بنگلہ دیش کی بھارت نواز متعصب حکومت اپنی سیاسی مخالفت کی وجہ سے 1971 میں مشرقی پاکستان میں ہندوستانی شاطرانہ چال کے خلاف ڈٹنے والے وطن کے عظیم سپوتوں کو عشروں بعد تختۂ دار پہ لٹکاتی جارہی ہے۔۔۔ بنگلہ دیشی متعصب حکومت کے ہاتھوں پے درپے عبد القادر عودہ، سید قطب، قمر الزماں ، عبد القادر ملا، علی احسن مجاہد، اور اب مولانا مطیع الرحمٰن نظامی کی پھانسی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو ایک سیکیولر حکومت کہنے والی بنگلہ دیشی حکومت نے بھارت کی خو شنودی کیلئے یہ تمام ظالمانہ اور آمرانہ فیصلے کئے، ۔۔۔۔۔ بلکہ آمریت میں بھی اس قدر سفاکی، تعصب اور بے مروتی سے کام نہیں لیا جاتا۔۔۔۔۔۔ یہاں تو ستر سال کے ضعیف کو بھی پھندے پہ لٹکا دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔ کس قدر سفاکیت ہے۔۔۔۔۔ کس قدر سنگ دلی ہے کہ جس سفید ریش سے خدا کو حیاء آتی ہو۔۔۔۔۔ ان ظالموں کو ان ضعیفوں سے بھی حیاء نہ آئی۔۔۔۔۔۔ مگر وہ ضعیف بھی استقامت کے کوہِ گراں تھے۔۔۔۔۔ جنہوں نے ہر جبر کو سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔ سولی چڑھ گئے۔۔۔۔۔پھندہ پہنا۔۔۔۔ ،مگر اپنے پائے استقلال میں لمحہ بھر کیلئے جنبش نہ آنے دی۔۔۔۔۔ کس قدر قابلِ رشک ہے یہ روش۔۔۔۔۔ اللہ اکبر !

مولانا نظامی کی ولادت 1943 میں ہوئی تھی.اس اعتبار سے ان کی عمر 73 سال تھی۔۔۔۔ اس بزرگی میں بھی ان پر رحم نہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔ لیکن اس ضعیف العمر مجاہد کی جرات و ثابت قدمی تو دیکھئے۔۔۔۔۔۔ کہ جب سزائے موت پر رحم کی اپیل کرنے کا کہا گیا تو اسے ٹھکراتے ہوئے کہا کہ "میں رحم کی اپیل نہیں کروں گا.زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے.اللہ نے شہادت قبول فرمالی تو اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوگی "۔۔۔۔۔۔۔

یہ ایمان افروز کلمات انہوں نے اہل خانہ سے آخری ملاقات کے موقع پر ادا کیے. اس کے کچھ دیر کے بعد انھیں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا اور وہ اس سزا کو گلے سے لگا کر بارگاہِ الٰہی میں سرخرو ہوگئے۔ ۔۔۔۔۔اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کس کی موت ہوئی؟ یا کب ہوئی؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی موت کیوں ہوئی؟اسے کس جرم کی پاداش میں جان جانِ آفریں کے سپرد کرنی پڑی ۔۔۔۔۔اس کا جرم یہی تھا کہ وہ اللہ کا نام لینے والا اور اس کا کلمہ بلند کرنے والا تھا، اور اسی جرم کی سزا میں دنیا کے فرعونوں نے اسے جینے کے حق سے محروم کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے سیکیولرازم والے ملک بنگلہ دیش میں اسی ملک کے ایک شہری کو اس کے نظرئیے کیوجہ سے سزا دی گئی۔۔۔۔۔۔ لیکن عالمی سطح پر انسانی حقوق کے نام لیوا اس سفاکیت اورظالمانہ اقدام پر حسبِ سابق مجرمانہ خاموشی اپنائے ہوئے ہیں۔۔۔۔ ستم تو یہ ہے کہ اپنوں نے بھی بے رخی کی انتہاء کی ہے۔۔۔۔۔

حقیقت میں مولانا مطیع الرحمٰن نظامی نے پاکستان کیلئے قربانی دی۔۔۔۔۔ اپنے خون کا نذرانہ نظریۂ پاکستان اور اسلام کیلئے پیش کیا ۔۔۔۔۔لیکن افسوس ! اپنوں کے ہاں ہی وہ خون لاوارث رہا۔۔۔۔ سوائے مذہبی طبقے کے پاکستان کی تمام اعلیٰ سطحی قیادت بھی اس پر مہر بہ لب ہے ۔۔۔۔

پاکستان کو چاہیئے تھا کہ اپنے ان حقیقی نظریاتی ہیروں کے حق میں عالمی سطح پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے بھارت اور بنگلہ دیش کی ملی بھگت کیخلاف اقوام متحدہ جاتا۔۔۔۔۔۔۔ بنگلہ دیش میں ہونے والی انسانی حقوق کی مسلسل اور بے لگام خلاف ورزی کو روکنے کی کوشش کرتا مگر اب تک ذیلی قیادت کی جانب سے روایتی مذمت کے چند الفاط سے آگے بات نہیں بڑھی۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اپنوں اور بیگانوں کی ان جفاؤں کے باوجود بھی نظامی شہید اور انکے ہم نوا اپنے رستے سے ہٹنے والے نہیں۔۔۔۔۔ بنگلہ دیش کی حکومت کوشاید یہ علم نہ ہو کہ افراد کی موت سے نظریات کی موت نہیں ہوتی۔۔۔ بلکہ نظریات پر جنتی قربانی لگتی ہے اتنا ہی اس کا درخت تناور ہوتا ہے۔۔۔۔

کوئی یہ نہ سمجھے کہ اسلامی نظرئیے کے پرچار اور اس کی حفاظت کرنے کے جرم میں جانیں لٹانے والوں کے بعد کوئی آواز نہیں اٹھے گی۔۔۔۔ بلکہ دنیاکو یاد رہنا چاہیئے کہ اسلامی نظرئیے پر لگنے والے خون کا ایک ایک قطرہ اپنے نظرئیے کے وجود کی آبیاری کرتا رہے گا اور وہ وقت دور نہیں جب یہ خون ایک انقلاب بن کر ابھرے گا۔۔۔۔۔ اور ان ظالمانہ، غیر منصفانہ اور وحشیانہ تمام فرعونی قوانین کو بہا لے جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے