’امریکا سے تعلقات 3 ماہ سے تناؤ کا شکار ہیں‘

اسلام آباد: مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے، ایف 16 طیاروں کی خریداری کی فنڈنگ کے لیے لگائی جانے والی شرائط کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات، گزشتہ 3 ماہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔

سرتاج عزیز نے اس بات کا اعتراف، سینیٹ کے اجلاس میں امریکا کی جانب سے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت روکنے جانے کے حوالے سے تحریک التوا پر بحث سمیٹتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات 2011 میں اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب وکی لیکس، ریمنڈ ڈیوس، ایبٹ آباد آپریشن، دتہ خیل اور سلالہ کے واقعات پیش آئے تھے، لیکن 2013 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کافی بہتری آئی۔

تاہم امریکی کانگریس کی جانب سے ایف 16 طیاروں کی خریداری کے لیے پاکستان کو دیے جانے والے فنڈز روکے جانے کے فیصلے کے بعد، گزشتہ 3 ماہ سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے امریکا کی جانب سے پاکستانی فنڈنگ، نیوکلیئر پروگرام پر واشنگٹن کے تحفظات کے باعث روکی گئی ہو، جنہیں پاکستان پہلے ہی دوٹوک الفاظ میں مسترد کرچکا ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ہم امریکی حکومت اور کانگریس کی جانب سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ بھی مسترد کرچکے ہیں، جبکہ امریکی حکام، کانگریس، تھنک ٹینکس اور میڈیا کی جانب سے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے، پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی حمایت کا الزام لگایا جارہا ہے۔

تاہم اس وقت حقانی نیٹ ورک کا معاملہ، امریکا کے تحفظات میں سرفہرست ہے، جبکہ امریکا میں موجود ہندوستانی لابی بھی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔

انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ پاکستان، معاملے کی اہمیت کے مدنظر امریکی انتظامیہ سے ایف 16 طیاروں کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

افغان امن عمل کے حوالے سے بات کرتےہوئے سرتاز عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان، امریکی اور افغان حکومت پر زور دے رہا ہے کہ مفاہمتی کو مزید وقت دینے کی ضرورت ہے، جبکہ امن مخالف عناصر کو مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد ٹارگٹ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ معاملہ 18 اور 19 مئی کو، چار ملکی مصالحتی گروپ کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں تفصیل سے زیر بحث آئے گا۔

مشیر خارجہ کی تقریر کے بعد چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے امریکا سے ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ سینیٹ کی دفاعی اور خارجہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا اور ہدایت کی مشترکہ اجلاس منعقد کرکے اس کا جائزہ لیا جائے اور اس میں پیشرفت کے حوالے سے ایوان کے ہر اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے۔

انہوں نے سینیٹ اراکین کو بتایا کہ وزارت خارجہ کی درخواست پر، انہوں نے مارچ میں امریکی ہم منصب کو لکھے گئے خط میں دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی، تاہم اب وہ اپنی اس دعوت پر نظرثانی کریں گے اور کمیٹیوں کی رپورٹ کی روشنی میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے