بنگلا دیش میں جماعت اسلامی پر آزمائش کی گھڑیاں

جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیر مطیع الرحمن نظامی کو بھی 1971ءکے فساد کے دوران ”جنگی جرائم“ کے ارتکاب کے جھوٹے الزام پر ایک متنازع اور خود ساختہ ”وار کرائم ٹریبونل“ کے ذریعے سزا سنانے کے بعد منگل کے دن علی الصبح ڈھاکا جیل میں پھانسی دے دی گئی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس سے قبل جماعت اسلامی کے چار رہنماو¿ں محمد قمر الزمان، پروفیسر غلام اعظم،عبد القادر ملا اور علی احسن مجاہد، جبکہ بنگلا دیش کے معروف سیاستدان، اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے مرکزی رہنما اور چھ مرتبہ رکن پارلیمان منتخب ہونے والے صلاح الدین قادر چودھری کو بھی اسی جھوٹے الزام کے تحت اسی ٹریبونل کے ذریعے سزا سنائے جانے کے بعد پھانسی دی جاچکی ہے۔ بنگلا دیش کی بھارت دوست حسینہ واجد حکومت جس انداز میں ماضی کے ایک ایسے واقعے کی بنیاد پر جو دو متعلقہ فریقوں کے لیے الگ الگ انداز میں سانحے اور حادثے کا درجہ رکھتا ہے، سیاسی مخالفین کی دار و گیر اور ان کے وجود کے خاتمے میں مصروف ہے، وہ انتہائی افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ظالمانہ بھی ہے۔ حسینہ واجد جس واقعے کے پس منظر میں جوش انتقام میں اندھی بہری ہوکر ایک وحشی جلاد کا روپ دھار چکی ہیں، اس واقعے کے بنیادی ذمے داروں میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمن بھی شامل تھے۔ وہی اس سارے فساد کے بنیادی محرک تھے، جس نے سابقہ مشرقی پاکستان میں ہزارہا فرزندان زمین کو اپنی لپیٹ میں لیا اور نتیجے میں عالم اسلام کے ایک اہم ملک پاکستان کا ایک بازو کٹ کر اس سے الگ ہوگیا۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ واقعہ ”سقوط ڈھاکا“ کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ اس سانحے کے پینتالیس سال بعد آج جن الزامات کے تحت بنگلادیش میں عدالتی قتل کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے، انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ان میں اس قدر جان نہیں کہ ان کی بنیاد پر کسی کی جان لی جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے قومی مجرموں، غداروں اور باغیوں کے ساتھ کسی طرح کی نرمی نہیں برتتا۔یہ دنیا کا پرانا دستور اور اس پر دنیا میں بسنے والی تمام اقوام کا غیر تحریری اتفاق پایا جاتا ہے۔ بنگلادیش کی حکومت نے بھی اسی ”جواز“ کے سہارے اپنے سیاسی مخالفین کے لیے دار و رسن کا اہتمام کر رکھا ہے، مگر کیا جن لوگوں کو سزا دی گئی اور جو لوگ اب بھی اسی منطق کے تحت سزاو¿ں کے منتظر ہیں، کیا وہ واقعی قوم کے مجرم تھے؟ حسینہ واجد حکومت کا الزام ہے کہ ان لوگوں نے بنگلا دیش کی ”جنگ آزادی“ کے دوران ”قابض قوت“ کا نہ صرف ساتھ دیا، بلکہ اس کے ساتھ مل کر اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والے فرزندانِ زمین کا قتل عام کیا۔ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کوئی بھی موقف رکھے یا دعویٰ کرے، مگر جب اس کا موقف یا دعویٰ متعدی ہو کر دوسروں کی جان کو لاگو ہو تو اس بات کی ضرورت دو چند ہوجاتی ہے کہ اس کے دعوے اور موقف کی غیر جانبدار ثالث کے ذریعے مکمل تفتیش اور تحقیق کر لی جائے۔ بنگلادیشی حکومت کا یہ دعویٰ ایسے واقعے سے متعلق ہے، جس میں تین ملک بطور فریق حصہ دار رہے ہیں، جبکہ الزام لگایا گیا ہے ”جنگی جرائم“ کا۔ کیا دنیا میں اس قدر اندھیر نگری ہے کہ ایک بین الاقوامی واقعے کے کچھ مبینہ کرداروں کے معاملے کو یک طرفہ طور پر سطحی انداز میں آگے بڑھا کر اس انجام سے دو چار کردیا جائے؟ یقینا ایسے واقعات اور مقدمات سے نمٹنے کے لیے دنیا میں ایک آئینی اورقانونی طریق کار اور راستہ موجود ہے، مگر حسینہ واجد حکومت نے اس طریق کار کو یکسر نظر انداز کرکے ایک خانہ ساز ٹریبونل سامنے لا کر سیاسی مخالفین کی پھانسیوں کا جواز حاصل کرلیا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو جنگی مجرم اور قوم کی ”آزادی“ کے مخالف قرار دیا گیا یا جن کو اب بھی ان الزامات کا سامنا ہے، وہ 1971ءکی نام نہاد ”جنگ آزادی“ کے بعد باستثنائے چند بنگلا دیش چھوڑ کر کہیں نہیں گئے اور جنہوں نے ملک چھوڑا، وہ بھی شیخ مجیب کی بے جا اذیت رسانیوں سے اکتا کر اس فیصلے پر مجبور ہوگئے تھے، تاہم 1975ءمیں شیخ مجیب الرحمن کے اپنے انجام کو پہنچنے اور جنرل ضیاءالرحمن کے Military Coup کے بعد ملک چھوڑنے والے بھی واپس آگئے اور ان سبھوں نے پورے خلوص کے ساتھ پہلے کی طرح ملک کی تعمیر و خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ انہوں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ ملک کی نئی نقشہ گری چونکہ ان کی فکر و نظر کے مطابق نہیں ہوئی ہے، اس لیے مسلح یا فکری و نظری بغاوت کا راستہ اختیار کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے بنگلا قوم اور دیش کی اپنی بساط کے مطابق جتنی شعوری خدمت کی، اس کا موازنہ اگر ان کے سیاسی مخالفین کے کردار و عمل سے کیا جائے تو بلاشبہ ان معتوبوں کی خدمات کا پلا بھاری نظر آئے گا۔ حسینہ واجد حکومت نے انہیں جس طرح چارج شیٹ کیا ہے،اس کی روشنی میں سہی، انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو 1971ءکے واقعے میں ان ستم رسیدگان کا کردار اس سے زیادہ کچھ نہ تھا کہ انہوں نے اپنے وطن، جو اس وقت ”متحدہ پاکستان“ کہلاتا تھا، کا دفاع کیا تھا، ان کی تمام تر عملی، نظری اور سیاسی جد و جہد صرف اور صرف اپنے اس وطن کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے تھی۔ وہ اگر لڑے بھی تھے تو جذبہ حب الوطنی کے تحت رضا کارانہ طور پر ان لوگوں کے خلاف لڑے تھے، جو دوست کی شکل میں دشمن کا ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے ان کے ملک کو توڑنے کے درپے تھے یا وہ اس دشمن سے ٹکرائے تھے، جو بذات خود آکر ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے ملک کی بنیادوں کو کھودنے میں مصروف تھا۔

اس واقعے کو پینتالیس سال سے زائد ہوچکے ہیں، حسینہ واجد کو جان لینا چاہیے کہ ان ساڑھے چار عشروں کے دوران پلوں کے نیچے سے بے حساب پانی گزر چکا ہے۔ اگر اس مقدمے میں سچائی ہے اور یہ اتنا ہی اہم ہے تو ان سے پہلے بنگلا دیش کی کسی حکومت کو اس کا خیال کیوں نہیں آیا؟ ان کے والدشیخ مجیب الرحمن بنگلا بندھو یعنی بابائے قوم تھے، انہیں کی کوششوں سے بنگلا دیش کا قیام عمل میں آیا تھا، بایں ہمہ انہوں نے تو 1974ءمیں ایک معاہدہ کرکے عملاً ماضی کی اس تلخی کو دفن کردیا تھا، یہی نہیںوہ تو شاہ فیصل شہید کی کوششوں سے اپنے سیاسی حریف ذو الفقار علی بھٹو کے ساتھ صلح کرکے فروری 1974ءمیں چوتھی اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان کے دورے پر بھی آئے، اس موقع پر بادشاہی مسجد لاہور میں بھٹو صاحب کے ساتھ انہوں نے جو پیمان کیا، وہ تو ماضی کو رفت گزشت کرنے کا ہی پتا دیتا ہے۔ اسی سال نومبر میں پاکستان، بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اس میں تینوں ملکوں نے یہ طے کیا کہ سابقہ مشرقی پاکستان کی لڑائی کے تناظر میں کوئی ملک دوسرے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔اسی معاہدے کے تحت پاکستان اور بنگلادیش میں سقوطِ ڈھاکا سے جڑے ہوئے مختلف رنگ و روپ کے کرداروں کے خلاف کارروائیاں روک دی گئیں، یہاں تک کہ پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت سابقہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص، جو پاکستان کا طیارہ اغواءکرنے میں ملوث تھا، کی باقیات بنگلا دیش کے حوالے کی اور بعد کے دنوں میں پاکستان کے ساتھ بنگلا دیش کے تعلقات معمول پر آگئے، جماعت اسلامی بھی بنگلا دیش کی سیاست میں متحرک رہی، تنظیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی بہترین رول پلے کرتی رہی، اس کے نامزد کردہ امیدوار انتخابات میں اچھے مارجن کے ساتھ عوامی نمائندگی حاصل کرتے رہے، حسینہ واجد کی تیغِ جفا کے تازہ شکار مولانا مطیع الرحمن نظامی نہ صرف کئی بار رکن پارلیمان منتخب ہوئے، بلکہ دو بار وزیر صنعت و پیداوار کی حیثیت سے اپنے شعبے میں بنگلا دیش کی تاریخ کے سب سے کامیاب وزیر بھی ثابت ہوئے، اپنے دورِ وزارت میں اس ”جنگی مجرم“ نے بنگلا دیش کی صنعت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس وقت بنگلا دیش میں عوامی لیگ کی حکومت ہے، یہ اس پارٹی کی مسلسل دوسری مدتِ اقتدار ہے، 2006ءمیں محترمہ بیگم خالدہ ضیاءکی بی این پی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے مقابلے میں جیتنے کے بعد سے بھارت کی غلامی میں مری جانے والی اس پارٹی نے پر پرزے نکالنے شروع کردیے تھے۔ اقتدار کے اس پہلے دور میں اپنی بد ترین کارکردگی کے باعث آئندہ الیکشن جیتنے کے آثار معدوم دیکھ کر عوامی لیگ نے اقتدار کے اختتامی لمحات میں ماضی کے قبرستان سے سقوط ڈھاکا کے گڑے مردے کو اٹھانے کا فیصلہ کیا، اس اقدام کا ایک مقصد اپنی سیاست کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنا تھا، جبکہ دوسرا اور اہم مقصد جماعت اسلامی کے سیاسی کردار کا خاتمہ کرکے ملک کو بھارتی اشاروں پر سیکولر ازم کا بتسما دینے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ بنگلا دیش کی سیاست پر اسلام پسندوں کا غلبہ ہوتا جا رہا تھا اور اس میں جماعت اسلامی کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔ جماعت کی اس مقبولیت سے ایک تو عوامی لیگ کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا، دوسرے ان حلقوں کی ساری محنت پر بھی پانی پھر رہا تھا، جو بنگلا دیش کو سیکولر ازم کے نام پر بھارت کی ایک باجگزار ریاست بنانا چاہتے تھے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بھارت اس مقصد کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ بنگلا دیش کو سیکولرائز کرنا بھارت کا سقوط ڈھاکا کے بعد دوسرا بڑا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کی راہ میں جماعت اسلامی سے بڑھ کر رکاوٹ اور کون سی جماعت ہوسکتی تھی، سو 1974ءکے ”مٹی پاو¿ معاہدے“ سے پہلے کی صورتحال پیدا کرکے ایک بار پھر جماعت اسلامی کا کانٹا نکالنے کا منصوبہ تراشا گیا۔ جماعت کے ایمان و یقین کی دولت سے مالامال پر عزم رہنماو¿ں کی دار و گیر اور تعذیب کا اصل پس منظر یہی ہے۔ بلاشبہ اس وقت بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کو اسی صورتحال کا سامنا ہے، جس سے سابقہ امتوں کے اہل حق کو دوچار ہونا پڑتا تھا، جن کا جرم محض یہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کی خدائی کا انکار کرکے خدائے واحد و لاشریک کی کبریائی کا کلمہ پڑھتے اور اس کی طرف بھولی بھٹکی انسانیت کو دعوت دیتے تھے۔

حسینہ واجد اور اس کی عوامی پذیرائی کھوتی عوامی لیگ کا منصوبہ بہت خوفناک ہے۔ اگر اس کا ہاتھ نہ روکا گیا تو آنے والے دنوں میں بنگلا دیش میں اس سے زیادہ ظلم و ستم کا دور دورہ ہوجائے گا۔ عوامی لیگ کا منصوبہ یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں جماعت کے صف اول کے رہنماو¿ں کو اس تیز گام ٹریبونل کے ذریعے سزائیں دے کر ایک ایک کرکے پھانسیاں دی جائیں۔ اس وقت اسی کیٹیگری کے جماعت کے مزید کئی رہنما جیلوں میں سزاو¿ں پر عمل در آمد کے منتظر ہیں۔ اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ جماعت اسلامی کو ملک دشمن جماعت قرار دے کر اس پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔ اس کے بعد وہاں اسلام پسندوں کا جو قتل عام شروع ہوگا اس کا تصور بھی نہیںکیا جاسکتا۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ اس صریح ظلم پر پھانسی کی سزاو¿ں کی مخالفت کرنے والی عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی خاموش ہے۔ وہ پاکستان جس کے ساتھ وفا داری کا صلہ آج جماعت اسلامی بنگلا دیش کو اس اندھے بہرے ظلم کی شکل میں دیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس معاملے کو عالمی قوانین اور معاہدات کے احترام کے انسانی رواج کی روشنی میں دنیا کے ہر فورم پر اٹھا کر بنگلا دیشی حکومت کی ان انتقامی کارروائیوں کا راستہ روکنے کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ معاملہ ایسا نہیں کہ اسے ”امہ کا درد“ کی شرما حضوری (جو آج کل ہمیں لاحق ہے) میں نظر انداز کردیا جائے، اس میں امہ کے درد سے زیادہ پاکستان سے اس کیس کا تعلق ہمارے لیے معنی رکھتا ہے۔ اگر ہم اپنی فوج کو اس واقعے سے جڑے الزامات سے بچانے کے لیے معاہدہ تک کر سکتے ہیں تو اس واقعے میں قومی جذبے سے فوج کا ساتھ دینے والوں کی تعذیب کو ”بنگلا دیش کا اندرونی معاملہ“ قرار دینا کس منطق کی رو سے جائز ٹھہر سکتا ہے؟ ہم بحیثیت قوم اس مسئلے میں فریق ہیں اور جماعت اسلامی بنگلا دیش پاکستان ہی کی وجہ سے مصائب و آلام میں گرفتار ہے، اس مرحلے پر پاکستان کی خاموشی کا صاف مطلب یہی ہوگا کہ جن جرائم پر جماعت اسلامی کو چارج شیٹ کیا جا رہا ہے، اس کے ارتکاب میں پاکستان کا بھی حصہ ہے، سو اگر جماعت اسلامی مجرم ہے تو پاکستان بھی مجرم ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان جماعت اسلامی کے مقدمے کی بھرپور وکالت اور پیروی کرے!

جہاں تک شہادتوں کا معاملہ ہے، یہ تو اہل حق کا سرمایہ افتخار ہے، راہ الفت میں یہ مقام نہ آئے تو کیسے پتا چلے عاشقِ صادق کون ہے اور کون صرف دودھ کا مجنون ہے….

یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے