بغداد میں چار دھماکے، 69 افراد ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکام کا کہنا ہے کہ چار بم دھماکوں میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان چار دھماکوں میں سے تین دھماکے شیعہ علاقوں میں جبکہ ایک دھماکہ اس علاقے میں ہوا ہے جہاں شیعہ اور سنی دونوں ہی رہائش پذیر ہیں۔

ان چار میں سے دو دھماکوں کی ذمہ داری اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

طبی عملے کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ان دھماکوں میں تین ماکیٹوں اور ایک ریسٹورنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

پہلا اور سب سے مہلک بم دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقے شاب کی ایک مارکیٹ میں ہوا جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

پہلے ایک دھماکہ دیوار کے ساتھ ہوا اور جب لوگ وہاں جمع ہوئے تو خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔

وزیر اعظم حیدر العابدی نے اس علاقے کے سکیورٹی انچارج کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس دھماکے کے کچھ دیر بعد فروٹ اور سبزیوں کی مارکیٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

تیسرا دھماکہ کار بم حملہ تھا جو صدر شہر کی مارکیٹ میں ہوا۔ اس دھماکے میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔

چوتھا دھماکہ ایک ریسٹورنٹ میں ہوا جس میں تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے