حکمرانوں کی زباں پر تالے کیوں؟

امریکہ کی طرف سے بلوچستان پر ڈرون حملہ ٹویٹر والی سرکار کی مکمل خاموشی اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کا لندن کے یخ بستہ ماحول میں گلچهڑ ے اڑانا..دل خون کے آنسو رو رہا ہے ،کسے پکاروں .

عجب مخمصے کا شکار ہوں کہ پاکستان کی قیادت کن کے ہاتھوں میں ہے ؟فوج یا سویلین . . . گتھی ہے جو سلجھ نہیں رہی ..اس موقع ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کا اوریانا فلاسفی کو دیا گیا انٹرویو یاد آتا جس میں‌انہوں نے کہا کہ پاکستان چاروں طرف سے لوہے کی دیواروں میں گرا ہوا ہے .چالیس سال قبل ان کے کہے ہوئے یہ الفاظ آج ایک سچ کی صورت ہمارے سامنے ہیں .

اس وقت ایک تصویر میرے سامنے ہے جس میں ہمارا ازلی دشمن مودی ، حسن روحانی اور اشرف غنی تہران میں بیٹھ کر ایک معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں ..دوسری طرف ہمارے وزیراعظم میاں نوازشریف ڈنگ ٹپاو پالیسی پر عمل پیرا ہیں .

پاکستانی ہونے کے ناطے ہم ان سے پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ حضور والا! ہم اپنا اور بچوں کا پیٹ کاٹ کر آپ کو اس لیے ٹیکس نہیں دیتے کہ آپ لندن میں گلچهڑے اڑائیں .

عسکری اداروں کے کرتا دھرتا اپنے ہی ہم وطنوں کو تڑیاں دکھاتے ہیں . ٹینک اس لیے نہیں بنائے گئے کہ اوکاڑہ کے کسانوں پر چڑھائے جائیں.

اس موقع پرٹویٹر والی سرکار کی خاموشی بهی معنی خیز ہے ..کیا راولپنڈی میں بجلی نہیں یا وائی فائی خراب ہے ..جب سیاستدانوں کو تهلے لگانا ہو تو ٹویٹر والی سرکار کی انگلیاں کی پیڈ پر بے ساختہ ناچنےلگتی ہیں اور فوری ایک ٹویٹ آ جاتا ہے .

جب آپ بے رحم احتساب کی بات کرتے ہیں تو سیاستدانوں میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے . محض نصف درجن جرنیلوں کا احتساب کافی نہیں ہوتا .نئے بننے والے جی ایچ کیو کے لیے چین سے فرنیچر کی خریداری میں جو ککس بیک لیا گیا ،اس کا بهی احتساب ہونا چاہیے .فوج کاروبار کرے گی تو سرحدوں کی رکھوالی کون کرے گا ارے آپ تو سرحدوں کے رکھوالے تهے آپ کو کاروبار پر کس نے لگا دیا .

دوسری طرف ہمارے سیاستدان بهی کسی سے کم نہیں محض اپنی تجوریاں بهر نے کے سوا ”تنکا توڑ کر دو نہیں کرتے ” انهوں نے جب دیکھا کہ ہر طرف لوٹ مار ہو رہی ہے تو وہ کیوں کسی سے پیچھے کیوں رہتے . کہا جاتا ہے کہ جن کے منہ میں دانت نہیں ہوتے وہ صرف باتیں کرتے ہیں.ادهر معاملہ ہی الٹ ہے . ایسا لگتا ہے دانتوں کے ساتھ ساتھ ان کے منہ میں زبان بهی نہیں .

کل کلاں امریکہ کا ایک ڈرون اسلام آباد پر آ گرا تو آپ اس بادشاہ کی طرح حلوہ کهانے میں مصروف رہیں گے جس کی سرحدوں پر دشمن نے حملہ کیا تو اس کے سپاہیوں نے کہا کہ دشمن نے حملہ کر دیا. جواب میں بادشاہ نے کہا کہ حلوے کی مقدار بڑها دی جائے . وہ حلوہ کهاتا رہا اور دشمن نے اس کے ملک پر قبضہ کر لیا .

خدا کے لیے اس قوم و ملک پر ترس کهاہیں اور حلوہ کهانا بند کر کے ملک کے درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے کوئی حل تجویز کریں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے