پرائی آگ سے اپنا گھر جلادیا

عالمی سطح پر پاکستان کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ تواتر سے جاری تھااورہے اور اقوام عالم کا چوہدر ی امریکہ مختلف طریقوں سے اپنے مقاصد کی جنگ کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرتا رہاہے اور ایسا کرنے کے لیے اسے کسی مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا، ننگ دین راہنماوں کی کوئی کمی نہیں ملک خداد میں !

پاکستان میں چھپے طالبان پر ڈرون حملوں سے طالبان کے خاتمے کا تو پتا نہیں مگر اس سے ہزاروں بیگناہ معصوم لوگوں کی جانیں ضرور جا رہی ہیں، اور جو ان حملوں میں بچ گئے ان کو چلتا پھرتا ڈرون بنے میں کسی اور خاص عمل سے نہیں گزرنا پڑا اور ان سے طالبان کی ایک اور مضبوط جماعت سامنے آئی کہ جس کا بس ایک ہی مشن تھا سب کو ختم کر دو!
2004 میں MQ-9 ڈرون طیارے سے پاکستان میں جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کو نشانہ بنایا گیا اور جو خونی کھیل عالمی طاقت کی طرف سے شروع ہوا تھاوہ تاحال جاری ہے ۔
ڈرون حملوں کو اقوام متحدہ اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے غیر انسانی اور ظلم قرار دے چکے ہیں۔مگر امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ان ڈرون حملوں سے طالبان کے بہت سارے سرکردہ راہنماوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔

جس کی تازہ ترین مثال طالبان لیڈر ملا منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت ہے جس پر حکومت پاکستان کی طرف سے کہا جا رہاہے کہ اس حملے سے پہلے پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ بلا کوئی پوچھے اس حکومت سے جناب 5اگست2009کوبیت اللہ معصود،یکم نومبر2013کوحکیم للہ معصودسمیت کتنے طالبان کو ڈرون سے مارتے وقت حکومت پاکستان کو آگاہ کیا گیا تھا؟

آگاہ کرنے سے یاد آیا وزیر داخلہ چوئدری نثار نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے کہ حالیہ دنو ں میں پاکستانی آرمی نے جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملنے والی پاک افغان سرحد پر قائم انگور اڈا کی چیک پوسٹ جو کہ جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں واقع ہے افغان حکام کے حوالے کر دی گی ۔ وزارت داخلہ کو اس کی حوالگی کا علم پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ علامیہ سے پتا چلا اور ایسے کرنے سے پہلے وزارت داخلہ کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجا گیا ۔
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کو ایک اہم سٹیک ہولڈر ہونے کی وجہ سے پہلے اعتمادمیں لینا ضروری تھا ۔

اپنے ملک کے اندرونی ادارے ایک دوسرے سے تعاون کرنے میں کوسوں دور ہیں اور یہاں حکومت کا یہ بیان کے ڈرون حملوں سے پہلے حکومت پاکستان کو اعتماد میں نہیںلیا جاتااور ایسا کرنا ہماری داخلی خودمختاری اور قومی سلامتی کو زک پہنچاناہے۔کیا خوب مزاق ہے !جہاں بڑے بڑے قومی فیصلوں کا نہیں پتا چلتا کہ کس کی ایما اور کس کے اشارے پر ہوتے ہیں وہاں قومی سلامتی، داخلی خودمختاری جیسی باتیں کس منہ سے کی جاتی ہیں میری سمجہ سے بالاتر ہیں۔

اسامہ کہ ہلاکت بعد ازبرآمدگی پاکستان ہو یاحالیہ ڈرون حملوں میں طالبان راہنماوں کی ہلاکتیں پاکستان کو امریکہ نے کبھی بھی منہ نہیں لگایا ، ہاں کچھ لوگوں کو راتب ڈالنا وہ کبھی نہیں بھولتاکیوںکہ وہ ہی توہیں جو اس کے مفادات کی چوکیداری کرتے ہیں۔

مگر پاکستان کے عوام کا د شمن اور ہمارے بے ضمیر سیاستدانوں اور ان جیسے دوسرے اشرافیہ کا دوست امریکہ کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا کہ جس میں پاکستانی سلامتی اور داخلی خود مختاری کو اس نے چیلنج نہ کیا ہو۔

ہمارا بھی جواب نہیں کچھ عرصہ پہلے انڈیا نے ایک فلم ریلیزکی جس میں ڈیلاگ تھا کہ پاکستان میں گھس کے ماریں گیں!توپورا پاکستان قومی جوش و جذبےسے کھڑا ہو گیا تھا ،،،اور دوسری جانب حال یہ ہے کہ امریکہ نے قومی سلامتی ،داخلی خود مختاری اور عالمی قوانین کو جوتی کی نوک پے رکھتے ہوے پاکستان کی سرزمین میں گھسکر اپنے دشمن اسامہ کو مارا اس وقت کے صدر اور وزیراعظم مبارک باد دینے میں پیش پیش تھے اور ہماری نام نہاد سیکورٹی کے ادارے منہ چھپاتے پھر رہے تھے ،تو بندہ پوچھے اس وقت کہاں تھی ہماری قومی سلامتی اور داخلی خود مختاری؟

پچھلے دس سال سے قوم کی بیٹی اغیار کے ہاں پابند سلاسل ہے اور دوسری جانب یہی آپ کا دوست نما دشمن اپنے ایجنٹ کو کہ جس نے دن دھاڑے دوبندوں کو خون میں نہلا دیا تھا اس کو لے گیا بلکہ آپ نے بصد حترام اسکو حوالے کیا ،اور اب ایف سولہ طیارے کے جس کی کافی حد تک رقم ادا کی جاچکی ہے ان کی پاکستان کو حوالگی امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار شکیل آفریدی کی باعزت رہائی سے مشروط کر دی گی ہے ۔تو جناب پاک سر زمین شاد باد، قومی سلامتی ، داخلی خود مختاری، قومی راز،وطن کے لیے جان قربان، اور تازہ ترین نعرہ بد ترین سے بدترین جمہوریت آمریت سے بہتر ہے تو یہ سب اثباق عوامی ہیں بیس کروڑ کے ہجموم کو پرجوش رکھنے کے لیے۔

وار ان ٹیرر کی اس جنگ کہ جس کو ہمارے حکمران اپنی جنگ قرار دیتے ہیں پاکستان کی بیس کروڑ کی عوام کو ایک ایسے اندھے غار میں دھکیل رہی ہے جہاں سے واپسی ناممکن نہیں تو مشکل ضرو ر ہو چکی ہے۔

پیراسائٹ نماحکمرانوں اور قرضوں میں جکڑی اس قوم کو دہشت گردی کی اس زلیل جنگ نے معاشی اور جانی نقصان جو پہنچایا وہ اپنی جگہ ایک اٹل حقیت ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہماری سیکورٹی میرمنٹس اور ہماری عسکری اداروں کا بھرم بھی تباہ کر ڈالا،کہ جس کو بنانے میں وطن عزیز کے ساٹھ سے زائد سال صرف ہوے ، کوئی روز گزرتا ہے جب عرض وطن کے مٹی خون سے رنگین نہ ہوتی ہو .

اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے اداروں جن میں چاہے سولین گورنمنٹ ہو یا عسکری ، سب کا احتساب سنجیدگی کے سے کریں اورنہایت ہی باریک بینی سے چھان بین کرنا ہو گی اور اس اینٹ کو تلاش کرنا ہو گا کہ جس کی وجہ سے پوری دیوار ٹیرھی جا رہی ہے کیونکہ ہمارے یہ ادارے کہ جن کی تزہین و آرائش اور سازوں سامان کی فراہمی اور تعلیم و تربیت پر قوم کا اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے اور جس کا اندراج کسی آڈٹ بک میں نہیں ہوتا صرف اس لیے کہ یہ ادارے ملک و قوم کے امن کو ممکن بنایئں اور داخلی سلامتی اور خد مختاری جسے الفاظ کی پاسداری عملی طور پر ادا کار سکیں۔

مگر عوا مل چاہے کچھ بھی ہوں جب بھی قوم کسی بحران کا شکار ہوتی ہے تو ہمارے یہ ادارے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں ،دہشت گردی کا نشانہ بنے والا کوئی بھی ہو چاہے عام شہری ، فوجی افسر یا جوان ،ہے تو انسان ،ہے تو پاکستانی وہ بھی کسی کا بھائی ،بیٹا ہے اور آج جب ہمارے یہ ادارے نشانہ بنتے ہیں تو تکلیف سے پوری قوم تڑپ اٹھتی ہے۔

غیرت اور عزت جیسے الفاظ سے عاری یہ لیک زدہ حکمران اور ان کے پیش رو وفاداری نبھانے کی خاطر امریکہ کو اپنا قبلہ مان چکے ہیں جو ہماری داخلی سلامتی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوے جب اور جس وقت چاہتا ہے ہمیں گھس کر مارتا ہے اور بتانا تک گوارا نہیں کرتا ۔

مگر دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا ،کے مصداق اتنا کچھ کرنے کے باوجود نہ ہم اپنی عوام کا اعتماد اور نہ ہی عالمی بھروسہ جیت سکے ہیں ۔جس کے نتیجے میں ساری دنیاں پاکستان کو طالبان نواز قرار دیتی ہے اور طالبان ہی ہماری کٹائی کرنے میں لگے ہوے ہیں۔

پاکستانی حکومتیں خود کو لاحق کمزوری کے باعث صورتحال کو تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتیں اور وہ زیادہ سے زیادہ اقتدار سے چمٹے رہنے کی لالچ میں طاقتور اندورونی مہم جو دھڑوں کے ہاتھوں کھیلتی رہتی ہیں اور بیرونی دنیاں پاکستان کے اندرونی مسائل کو سمجنے کو تیار نہیں اور نہ ہی ہم اپنا کیس بہتر طریقے سے لڑنے کے لیے تیارہیں(خارجہ معاملات میں حکومت کتنی سنجیدہ ہیں کہ جس کے پاس پچھلے تین سال سےو زیر خار جہ ہی نہیں اندازہ ہو جانا چاہے) نتیجہ میں عالمی سطح پر نہ صرف پاکستان کی تنہائی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے بلکہ پاکستان کے مخالفین کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جو عالم اسلام اور پاکستان کو بالخصوص اپنے لیے خطرہ تصور کرتی ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کا ہیڈ کوارٹر۔
اب بھی وقت ہے کہ کرپشن کی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اپنی فارن پالیسی پر بھی سنجیدگی سے توجہ دیں اور اس کی از سر نو تشکیل کریں اور اپنے دشمن اور دوست کی واضح تعریف وضح کریں اور جن ملکوں سے ان کا تعلق ہے اپنی بقا کی خاطر کھل کر ان سے بات کریں مزاکرات کریں اور اس کے لیے ہر وہ حربہ آزماہیںجس سے ملک عزیز میں امن اور سکون ہو سکے۔اور جلد سے جلد دہشتگردی کی یہ لعنتی پرائے گھر کی آگ جو ہم اپنے گھر کی دہلیز تک لے آے ہیں اس پیچھا چھوٹ سکے۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے