ملا اختر منصور کی ہلاکت

افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور اطلاعات کے مطابق اکیس مئی کی شام جب وہ پاکستان کے شہر کوئٹہ کی طرف آرہے تھے تو اسے ایک امریکی ڈرون نے نشانہ بنایا، یہ خبر دینا بھر کی میڈیا کیلئے ایک بریکنگ نیوز تھی اور محتلف چینلز پر تبصرے شروع ہوئے۔ ملا اختر منصور افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی موت کے بعد طالبان کے امیر بنے تھے، جب ملا اختر امیر بنے تو یہ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ مذاکرات کے حامی ہے، کچھ حد تک یہ درست بھی تھی کیونکہ ان کے امارت سنبھالنے کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مزاکرات کے کئی کوششیں بھی ہوئی۔۔ لیکن ان کے اس فیصلے سے طالبان کے کچھ حلقے خوش نھیں تھے اور وہ ان مذاکرات کے خلاف تھے، جب اختر منصور امیر بنے اس وقت بھی طالبان کے کچھ دھڑے ان کے خلاف تھے اور وہ ان کو اپنا امیر نھیں مانتے تھے، لیکن پھر طالبان کے سینئر رہنماؤں کی کوششوں سے وہ دھڑے ملا اختر کو اپنا امیر ماننے پر تیار ہوئے، اسلئے مزاکرات پر وہ مزید کسی نئی مشکل میں پڑنا نھیں چاہتے تھے۔ اسلئے افغان طالبان نے موسم بہار کی آپریشن کا اعلان کیا اور اس بار اس آپریشن کو عمری آپریشن کا نام دیا، اور ابتدا میں بڑے حملے بھی کئے جس میں کئی افراد لقمہ اجل بنے۔۔

گزشتہ دن جب ملا اختر منصور کو نشانہ بنایا گیا تو وہ ایک ٹیکسی میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ کی طرف آرہے تھے، جس گاڑی پر حملہ کیا گیا وہ حملے کے نتیجے میں جل گئی تھی، اس میں موجود دو لاشیں بھی جلی ہوئی تھی اور ان کا پہچان بھی ممکن نھیں تھا، لیکن ہسپتال انتظامیہ نے ڈرایئور کی لاش کی شناخت محمد اعظم کے نام سے کیا جبکہ دوسرے شخص کی لاش کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا جو ممکنہ طور پر افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کا بتایا جاتا ہے، حملے کے بعد سب سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات کی تصدیق کی کہ افغان طالبان کے امیر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور آرمی چیف کو حملے کے بارے میں اطلاع دی تھی، اس کے بعد افغان نیشنل سیکورٹی نے اور پھر افغان چیف ایگزیکٹوں عبداللہ عبداللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی، ابھی تک طالبان کی جانب سے تصدیق یا تردید کی خبر تو نھیں آئی لیکن ماضی بھی ایسا ہی ہوا کہ طالبان نے ابتدا میں تصدیق نھیں کی لیکن پھر بعد میں اپنا بیان جاری کرتے ہے، اگر یہ بات درست ہے تو پھر جب تک افغان طالبان اپنا نیا امیر منتخب نھیں کرتے اس وقت تک وہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نھیں کرے گے۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے