دو خبریں اور خطرےکی گھنٹی

آج کئی مختلف خبریں دیکھیں، مگر دو خبروں نے دل کو بہت مایوس کیا، میرا مزاج ایسا نہیں کہ میں نوحہ خوانی کروں لیکن بظاہر معمولی سے خبر محسوس ہونے والی خبروں نے بے چین کر رکھا ہے۔۔ سوچا تھا باقی بری باتوں کی طرح اس کو بھی بھلا دوں مگر ہاتھ مجبور کر رہے تھے کہ قلم اٹھاؤں اور کچھ لکھوں۔۔

خبریں بظاہر بہت معصوم اور سادہ سی لگتی ہیں مگر درحقیقت بہت گہری اور خوف ناک ہیں۔ پہلی خبر سپر پاور امریکہ کے صدر باراک حسین اوبامہ کا بیان ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کو ایک بار پھر گھوری مارتے ہوئے کہا ہے کہ ملا اختر منصور پر ہونے والا ڈرون حملہ پہلا اور آخری حملہ نہیں تھا، ایسی مزید کارروائیوں کے لیے پاکستانیوں کو ہمت پکڑنا ہوگی۔

دوسری خبر ۔۔ یہ بھی ہمارے داخلی اور خارجی معاملات کے حوالہ سے تھی، جس میں ذکر تھا ہمارے اذلی دشمن بھارت کے ہمارے برادر ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا۔

پہلی خبر پہ تو اب دکھ نہیں ہوتا کہ بہت دیر ہوگئی ہے، جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کو امریکی اڈا بنا دیا تھا، جب امریکہ نے پاکستان کو نائن الیون کے واقعہ کے بعد پرویز مشرف کو فون کرنے کا سوچا تو انہوں نے مارجن رکھا تھا کہ اگر ہمارے دس میں سے چار یا پانچ مطالبات بھی تسلیم کر لیے گئے تو یہ بہت بڑی سفارتی کامیابی ہوگی مگر ہمارے جرنیل صاحب نے بلاتوقف وہ تمام مطالبات مان کر فون ہینڈز فری پر کرتے ہوئے پیٹ پر ہاتھ باندھ کر جھکے جھکے پوچھا مادام۔۔ اس کے علاوہ بھی کوئی خدمت ہے تو بتایئے۔۔ امریکی وزیر خارجہ کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ وہ تمام مطالبات جو انہوں نے اضافی طور پر شامل کیے تھے وہ بھی مان لیے گئے تو وہ مزید کیا مانگیں۔۔ تاہم انہوں نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے جرنیل صاحب کو مزید ہدایات بعد میں پہنچانے کی یقین دہانی کرائی، وہ دن اور آج کا دن کہ ہم اپنی قومی خود مختاری کی بات کریں بھی تو امریکیوں کے ہانسے نکل جاتے ہیں۔

ہماری خودمختاری کا عالم یہ ہے کہ ہماری اعلیٰ ترین انٹیلی جنس ایجنسی کا چیف ۔۔ ریٹائرمنٹ کے بعد امریکی دفاعی تھنک ٹینک کا ملازم ہے اور کوئی بھی اس پر بات کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

دوسری خبر پر تشویش اس لیے ہے کہ ہم نے اپنے بچپن میں سکول کی کتب میں پڑھا تھا کہ پاکستان، ایران اور ترکی پر مشتمل ایک تعاون کی تنظیم آر سی ڈی ہوا کرتی تھی۔۔ آج وہ آر سی ڈی بالکل بدل گئی ہے کیونک ایران کا اتحاد ہمارے ایک اذلی دشمن کے ساتھ ساتھ ایک ایسے ملک کے ساتھ ہوا ہے جس کی آزادی کی جنگ لڑنے کی سزا ہم کئی سال سے بھگت رہے ہیں۔

اپنے بچپن میں ہم نے یہ جنگ ہوتے دیکھی۔۔ ہمیں قوم پرست جماعتوں کا موقف سمجھ نہیں آتا تھا کہ ایک کافر ملک سوویت یونین نے ہمارے دوست اسلامی ملک پر حملہ کیا تو ہمیں کیوں اس سے دور رہنا چاہیئے؟۔ سب نے دیکھا کہ پاکستان نے ایک اسلامی برادر ملک پر حملہ کے خلاف کافر ملک روس کے خلاف اعلان جنگ کیا اور ہم نے کئی مزید کافروں امریکہ و برطانیہ سے مل کر کافر روس کو مار بھگایا۔ اسلام کی فتح ہوئی مگر پھر وہاں جنگ شروع ہو گئی شیعہ سنی کی۔۔۔بہر حال اس دوران ہم نے لاکھوں افغان بہن بھائیوں کو پناہ دی۔۔

پاکستان ان پناہ گزینوں کے لیے امریکہ بن گیا۔۔ یہاں رہ کر انہیں ہمارا ممنون و مشکور ہونا چاہئے تھا مگر وہ ہمارے دشمن ہو گئے۔ ہمارے ملک میں ہیروئن ، کلاشنکوف کا کلچر آیا۔۔ پھر بھی ہمیں وہ پیارے رہے لیکن وہاں ہمارے خلاف ان کے دلوں میں نفرت پلتی رہی جو ہمارا مستقبل تباہ کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو کمزور کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کام میں ایران بھی ان کا پارٹنر اس لیے بنا کہ پاکستان نے شمالی اتحادکی بجائے طالبان کا ساتھ دیا۔ گوادر بندر گاہ بھی ایک وجہ تنازعہ ہے جس کے بعد چین خطہ میں مضبوط ہوگا جو ایران اور بھارت دونوں کے مفاد میں نہیں۔

اس تین ملکی معاہدہ کے بعد ہم نے جان بوجھ کر جن معاملات پر آنکھیں بند کر رکھی تھیں اب کھولنے کا وقت آ گیا ہے۔ کلبھوشن یادیو کا ایران کے راستے داخل ہونا، پھر ملا اختر منصور کے بارے میں بھی یہی اطلاعات ہیں کہ وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا۔گوکہ ایران نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے مگر خطہ کی صورتحال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کچھ ہے جسے واضح کرنے کے لیے ایران نے تین ملکی معاہدہ کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان پر امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے اسی دوران ایران ، افغانستان اور بھارت کا معاہدہ بھی ہمارے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی بنانے والے یا اس پر عمل کروانے والی حکومت اس پر کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے