طاقت ور مافیا ، کمزور صحافت

نیو ز بیلٹن کو بریکنگ چا ہیے ، ہرگھنٹے بعد ، ایک گھنٹے کے نیوز بلیٹن میں بھی جتنی بریکنگ نیوز ہونگی ریٹنگ بھی اتنی ہی آئے گی ۔آجکل میڈیا انڈسڑی پر یہ سوچ کچھ ذیادہ ہی غالب ہے ۔کسی سیاست دان کی کرپشن کی سٹوری ہتھے چڑھ گئی تو سمجھیے اس دن تو رپورٹر کی عید ہو گئی ۔بیوروکریٹ کی ہوئی تو مہذب طریقے سے کور کر لی جائے گی ۔کوئی انصاف کی تلاش میں عدالت کے دھکے کھارہا ہے تو اس میں خبریت نہیں ، اور اگر طلبی ہو کسی ماڈل کی توہر بلٹین میں اس کی آنیاں جانیاں دیکھیے۔ میڈیا پر رنگین انڑیاں مارنے والیوں نے قانون کی جتنی مرضی دھجیاں بکھیری ہوں ، ہیڈ لائنز میں خصوصی رعایتی ائیر ٹائم ان کا ہی ہو گا ۔سب ریٹنگ کا چکر ہے۔

اب اگراسپتال میں ادویات ختم ہو گئیں ، سرکاری فنڈ کہیں اور استعمال ہو گیا تو ہمیں اس سے کیا ؟ کتنے اسکولوں کی تزئین و آرائش کی گئی اس کی کوریج تو بھرپور لیکن کتنی درس گائیں چھت ، پینے کے صاف پانی اور ٹوائلٹس کی سہولت سے محروم ہیں ۔ یہ سب روایتی خبریں کہلاتی ہیں ۔ہاں ذیادتی کے کیسز ز ہو ں ، قتل و غارت ، تیزاب سے چہرے جھلسا دئیے گئے ہوں ، تو ا س پر میڈیا ضرور آواز اٹھاتاہے ۔آپ چائیں یا نہ چائیں بار بار آپ کو یہ سب دیکھنا اور سننا پڑے گا ۔خبر منظر عام آنے کے بعد مظلوم پر کیا بیتی اس سب کی کھوج لگانے کے لئے مصروف میڈیا کے پاس وقت کہاں ؟

کچھ خبریں ذرا ہٹ کر ہوتی ہیں ، جن پر میڈیا کی توجہ نہیں یا پھر ہماری صحافت میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ ان پر آواز اٹھائیں ۔ان خبروں کے پیچھے فرد واحد نہیں بلکہ مافیا ہے جس کی شکلیں کئی ایک ہیں ۔ میڈیکل انڈسڑی ، ایجوکیشن انڈسٹری ، لینڈ مافیا ، نجی اور سرکاری محکمے اور خاص کر کچھ ایسی ان دیکھی طاقیتں جن کے بارے میں خبر یا تو پالیسی کے تحت فائل ہی نہیں کی جاسکتی یا پھر آپ کو پالیسی لائن سمجھا دی جائے گی ۔اگر پھر بھی صحافتی رگ پھڑکتی رہے ، آپ باز نہ آئے تو نتائج کے ذمہ دار آپ خود ۔

طاقت ور مافیا سرعام کرپشن کرے اور صحافی چھپ چھپ کر اس کی کوریج ، بتائیے کہاں کا انصاف ہے ؟ اگر صحافی یہ جانتا ہو کہ اس کا ادارہ اسے بھرپور تحفظ دے گا ، سچ کے آگے کوئی مصلحت ،پابندی یا پالیسی آڑے نہ آئے گی تو وہ بلا خو ف و خطر میدان میں اتر جائے گا۔لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ۔آئے روز ہمیں دھونس دھمکیاں ، کیمرے ، ڈی ایس این جی وینز توڑنے ، اور جان سے مارنے کی دھمکیاں نہ سہنی پڑیں ۔ہم میں سی کچھ بیرون ممالک سیاسی پناووں کی تلاش میں نہ بھٹکتے پھرتے ہیں ۔

فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی فرنٹ لائن پر ہوتے ہیں ،جن کے تحفظ کی ذمہ داری بحرالحال میڈیا ہاوسزز کی ہی ہے ۔اگر سٹوری اسائن کرنے سےلے کر گھر بحفاظت واپسی کی ضمانت میڈیا ہاوسزز نہیں دے سکتے ، تو ان کی زندگی کو مشکل میں کیوں ڈالتے ہیں؟ کچھ غلطیاں ہمارے بڑوں کی ہیں اور کچھ ہماری اپنی بھی ۔ ہم نے خود صحافت کو کمزور بنا رکھا ہے ۔ ہم کرپٹ افراد کے ہاتھوں یرغمال بنے بیٹھے ہیں ۔ہم ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنے کی جرات اس لئے نہیں کر پاتے کیونکہ ہم نے کبھی اپنے اداروں کے مالکان سے اپنے حقوق کے تحفط کی ضمانت نہیں مانگی نہ ایسی جرات کا سوچا ۔اگر ہم اتنی ہمت کر لیں تو نہ کوئی ہمارے قلم توڑے گا ، نہ کیمرے اور مائیک چھیننے کی جرات ہوگی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے