خواتین کے حقوق اور مغرب کے اندھے پُجاری

ہمارے معاشرے میں لبرل ازم، سیکولر ازم اور روشن خیالی کے نام پر مذہب کے خلاف جو صف آرائی ہو رہی ہے اس کے دور رس نتائج نکلنے ہیں۔ یا تو یہاں اسلام کی وہی حیثیت کردی جائیگی جیسا کہ مغرب میں عیسائیت کی ہوگئی ہے یا اسلام ایک غالب قوّت بن کر ابھرے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کے بیان کے ایک حصّے کو ،جو بہت قلیل تعداد کی خواتین کی اصلاح کے بارے میں ہے اور 1400 سال سے موجود ہے، جس طرح روشن خیال حضرات مذہب سے منافرت پھیلانے کے اپنے مذموم مقاصد کے لیئے استعمال کر رہے ہیں وہ باعث تشویش ہونا چاہیئے۔ یہاں نظریاتی کونسل کی سفارشات کا نہ دفاع مقصود ہے اور نہ ہی ان سفارشات کی شرعئی حیثیت کو جانچنا ہے کہ خاکسار اس کا مکلّف ہی نہیں ہے۔ بات ایک خاص طبقے کے طرز عمل کی ہے جو لبرل اور روشن خیال جانا جاتا ہے۔

یہ ظاہر اور ثابت ہے کہ نام نہاد روشن خیالی اور ترقّی پسندی کی فکری اور نظریاتی بنیاد عموماًایمانی مخمصوں یا الحاد پر ہوتی ہے۔ غیر ثابت شدہ نظریات جو کائنات، زندگی اور انسان کی تخلیق اورانکی حقیقیت بتانے کی صلاحیّت نہیں رکھتے وہی ان حضرات کی علمی موشگافیوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ جبکہ یہ واضح رہے کہ اسلام کے عقائد ٹھوس نظریات پر مبنی ہیں جنکی بنیاد وحی ہے۔

بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ مغرب سے مرعوب اذہان سوشل میڈیا میں کثرت سے در آئے ہیں۔ بغیر سوچے مغربی افکار کی پیروی ان سب کا منتہائے مقصود نظر آتا ہے۔ زندہ قوم اپنے نظریات اور افکار کی حفاظت کرتی ہیں ،لیکن جو لوگ اپنے اجداد کے نظریات کے حوالے سے خود احساس ِ کمتری میں مبتلا ہوں اُن سے یہ توقع عبث ہے۔ اپنے ہی نظریہ حیات میں کیڑے نکالنا دراصل اس منفی باطن کا اظہار ہے جو مغربی افکار سے متاثر ہونے کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ مذکورہ بیان کے حوالے سے اسلام پر بالواسطہ یا بلا واسطہ تنقید عقل کی غربت ہی ہے لیکن اس غربت کا ادراک ہونا احساس ِکمتری میں مبتلا ان لوگوں کے لیئے ناممکن ہے جو اپنی آنکھوں پر مغرب کی اندھی تقلید کی پٹّی باندھ چکے ہیں۔

[pullquote]عورت اور مرد:
[/pullquote]

عورت کے حقوق کے حوالے سےاب دیکھتے ہیں کہ عورت اور مرد کی برابری کے کیا پیرائے ہو سکتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت اور مرد طاقت اور صلاحیّتوں میں نہ کبھی برابر ہوئے اور نہ ہوسکتے ہیں۔ دونوں جدا صلاحیّتیں رکھتے ہیں۔

اکر عورت ہر لحاظ سے مرد کے برابر ہوتی تو ہزاروں سال پر پھیلی تاریخ میں آدھی دنیا پر انکی حکومت ہوتی۔

لہٰذا یہ حقیقت تو مان لینی چاہیئے کہ عورت اور مرد اللہ کی تخلیق ہیں اور دونوں کے الگ الگ دائرو کار ہیں۔

اسلامی معاشروں میں خاندانی نظام مستحکم اسی لیئے ہے کہ اسلامی ڈسپلن اوراخلاقیات وحی سے ماخوذ ہیں جس میں بیوی اور شوہر کے فرائض اور حقوق واضح کر دیئے گئے ہیں۔

عورت ایک کمزور صنف ہے اور وہ مرد سے عزّت اور احترام چاہتی ہے۔ اسلام مرد کو عورت، اسکے وقاراور عزّت کا محافظ بناتا ہے۔

عورت کوجسم /ستر ڈھانپنے کا حکم اس کی اپنی عزّت اور وقار میں اضافے کے لیئے ہے۔ اسلام مرد کو عورت کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔

اسلام عورت کو نہ صرف معاش کی ذمّہ داریوں سے بری الذمّہ کرتا ہےبلکہ عورت کو وراثت میں حصّہ دیتا ہے۔

اسلام عورت اور مرد کی طبعئی اور باطنی خصوصیات کو سامنے رکھ کر حقوق اور فرائض کا متوازن نظم تجویز کرتا ہے جو خاندان کی بقا کے لیئے ضروری ہے۔

خاندان کا سربراہ مرد ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی نظم کا ایک لیڈر ہوتا ہے۔ دنیا کا ہر انتظام اسی اصول پر ہے تو خاندان میں دو سربراہوں کا ہونا غیر فطری ہوتا۔

گھر سے باہر بے شمار خواتین اپنے سربراہوں کی اجازت سے کام کرتی ہیں اور ہر جگہ برابر کے مواقع اور عزّت پاتی ہیں۔

مگر دوسری طرف جہاں صرف عورت ہی سربراہ ہے تو سارے کنبے کے فیصلے بھی وہی کرتی ہے۔

[pullquote]تو پھر مسئلہ کیا ہے؟
[/pullquote]

مسئلہ اور کچھ نہیں بس مردوں کے انفرادی طرز عمل کا ہے کہ بہت سے لوگ اپنی عورتوں کو انکا حق نہیں دیتے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلّق نہیں۔

لہٰذا اسلامی احکامات اور تعلیمات پر تنقید نہ کریں بلکہ مردوں کو عورتوں کے جائز حقوق کا احساس دلائیں، یہی مناسب ہے۔

عورت پر تشدّد:
[pullquote]

دیکھئے دنیا کا دستور یہی ہے کہ طاقتور ہی کمزور پر حکومت اور اسکی سرزنش کرتا ہے۔

مرد بھی کمزور مرد کو دباتا ہے۔ سپر پاور دنیا کو کچلتی ہیں۔

ہر نافرمان کی سرزنش طاقتور اور غالب کرتا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ نافرمان اور حد سے گزرنے والی خود سرعورت اس سے مستثنیٰ کیونکر ہوسکتی ہے۔

نافرمان اور سرکش اولاد کی طرح سرکش بیوی کی سرزنش خاندان کی وحدت کے لیئے ضروری ہے ۔

خاندان کی عزّت اور وقار کو برقرار رکھنا مرد کی ذمہ داری ہے اور ٖغیر معمولی حالات میں ہنگامی اقدامات تو معمول کی بات ہے۔

خاص حا لات کے لیئے خاص احکام ہوتے ہیں جو خاندان کی بہتری کے لیئے ہوتے ہیں۔

لیکن عورت کی جسمانی نزاکت کے پیش نظر اس کی سرزنش کے مختلف درجے رکھے گئے ہیں۔

اس کو کھینچ تان کر عورت کے حقوق پر ڈاکہ قرار دینا بد دیانتی ہے۔

یہ بہت سے لا علموں کو بتانا ضروری ہے کہ یہ قرآن کا صریح حکم ہے اور ہرمسلمان جانتا ہے کہ قرآن کا حکم اپنے اندر حکمت لیئے ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ یہ احکام کل نہیں اترے بلکہ 1400 سال سے منقول چلے آرہے ہیں۔

آج اُن پر واویلا کرنے سے پہلے آپ سو دفعہ سوچیئے کہ :

آپ خالق کے حکم کا مذاق اڑا رہے ہیں۔یہ بڑی ہی سنگین گستاخی ہے۔

مسلمانوں کو خبردار ہونا چاہیئے کہ ان نام نہاد مغرب زدہ سیکولر لوگوں کی تقلید میں کہیں اپنے ایمان کو ہی غارت نہ کرلیں۔

انتہائی قلیل تعداد کی عورتوں کے بارے میں کسی حکم کو عمومی پیرائے کی شکل دینا اور منفی تشہیر انتہائی قابل ِ مذمّت ہے۔

یہاں لبرل اور سیکولرحضرات کا خبث ِباطن روز ِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ وہ مذاہب کے حوالے سے لاکھ غیرجانبداری کا ڈھونگ کریں ان کی یہ نقاب اتر چکی ہے۔

یہ واضح رہے کہ اسلام ایک عقلی اور فطری نظریہ حیات ہے جس کے احکامات انسان کی مجموعی فلاح کے لیئے ہی ہیں۔

اسی وجہ سے پوری دنیا میں الحاد کے خلاف سب سے موثر مزاحمت مسلمانوںمیں ہے۔

[pullquote]مغرب اور خدا:
[/pullquote]

دوسری طرف مغرب میں خدا اور مذہب کو ذاتی مسئلہ قرار دیکراقتدار کے ایوانوں سے نکال دیا گیا اور اقتدار ِ اعلیٰ پر انسان خود قابض ہوا ۔

نئے عمرانی قواعد شخصی آزادی، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پراستوار کیئے گئے۔

مذہب کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں جنگل کی سفِلی روایات کی طرف مغرب کے بڑھتے قدم صرف عقل کے اندھوں کو نظر نہیں آئیں گے۔

کیونکہ مغرب میں قانون سازی اکثریتی رائے کی بنیاد پرانسانی عقل کے پرتو کی جاتی ہے لہذٰا وہاں کی اقدار کا ہوتا حشر بھی دیکھ لیں کہ۔۔۔۔

ہم جنسوں کی شادی ! قانونی ہوگئی ہے۔

بغیر شادی کے رہنا قانونی ہوگیا ہے یہاں تک کے باہمی رضامندی سے سگے رشتوں کے نامناسب تعلّق پر قانونی قدغن نہیں۔

عورت کو برابری کا درجہ دیا تو طلاق پر شوہر کی آدھی دولت کی حقدار مانی گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ مرد نے بغیر شادی رہنا شروع کردیا تاکہ اپنی محنت کی کمائی کسی اور کو نہ دینی پڑے۔

لا مذہب مغرب میں مرد نے چالاکی سے عورت کو برابری اور آزادی کا جھانسہ دیکر ایک کھلونا بنادیا۔

مگر مغربی مرد کے باطن کا تماشہ یہ ہے کہ برابری کے نعرے کے باوجود مرد نے خود تو لباس پورا پہنا لیکن عورت کو آدھا پہنایا۔

عورت کو ہر سطح پربرابری کے سحر میں مبتلا کرکے خاندانی نظام کو متزلزل کردیا۔

عورت کو آزادی کے نام پر جتنا بے توقیر جدید تہذیب نے کیا اتنا ہی شاید جہالت کے ادوار میں ہوتا رہا ہے لیکن۔۔۔

اب فرق یہ ہے کہ عورت کی ذہن سازی ایسی کردی گئی ہے کہ عورت آزادی ِعمل اور برابری کے جھانسے میں آکر خوش ہے۔

آزادی کے نام پر عورت کو نیم عریاں یا بے لباس کرنا اوربازاری شئے بنادینا اسکا حق دینا نہیں بلکہ اسکی عزّت کی بے توقیری اور پامالی ہے۔

مغرب میں انسان مادّی ترقّی تو کررہا ہے لیکن شرم و حیا کی اخلاقی اقدار زمیں بوس ہورہی ہیں۔

ماں باپ کی اہمیت اس لیئے ختم ہو رہی ہے کہ مادّہ پرستی نے آخرت کی جوابدہی بھی خدا کے ساتھ ایک کنارے کردی ہے۔

انسان خود غرض اس لیئے ہورہا ہے کہ اسے یہی سبق بتایا جاتا ہے کہ سب کچھ یہ دنیا ہے لہٰذا جتنا عیش کرنا ہے کرلو۔

رشتے نمائشی ہوتے جارہے ہیں اور ہرمقدّس رشتے کے لیئے ایک ایک دن مقرّر کردیا تاکہ اس کو یاد کرلیں ، منا لیں اور بس۔

خدا کے بغیر معاشرتی ترقّی کی سمت آگے کی منزلوں کی خود ہی نشان دہی کر رہی ہے۔

جو نظریہ انسان کو معاشرتی حیوان قرار دے تو اس کی پیروی کرکے کیا انسان معاشرتی حیوان کی سطح سے گر کرصرف حیوان نہ رہ جائے گا؟
————-

تو کیا ہم اندھوں کی طرح اس طرف چلنا شروع کردیں جدھر مغرب کے اندھے پجاری ہمیں لے جانا چاہتے ہیں یا ہم اپنے دین کے احکامات کا کشادہ دلی سے جائزہ لیکر اسپر خوش دلی سے عمل کریں کیونکہ ہمارا ایمان تو یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کی اطاعت میں ہی ہماری نجات اور دین و دنیا کی فلاح ہے۔

ذرا سوچیئے !

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے