چاچا جی کی سیاسی پیش گوئیاں۔۔

ویسے حد ادب کا تقاضا ہے کہ کچھ نہ کہا جائے، معاملہ ہی ایسا ہے، رشتہ چاہے خون کا نہ ہو لیکن ہے تو وہ میرا چاچا۔۔ اس شہر کے رہنے والے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ادب و احترام کا رشتہ ہے، اسی بنیاد پر وہ میرے والد مرحوم کے دور سے سیاست کے میدان کا کھلاڑی ہیں اور میرے والد اس دور میں بھی سینئر صحافی تھے جب ان موصوف نے سیاست کا آغاز کیا۔ ظاہر ہے ان دنوں اخبارات کم ہوا کرتے تھے اور فیکس، ای میل یا واٹس ایپ کا زمانہ تو نہیں تھا، اس لیے تمام سٹوڈنٹ لیڈرز سے لے کر بڑے سے بڑے پھنے خان ٹائپ کے سیاستدانوں تک سب خبر چھپوانے کے لیے خود اخبارات کے دفاتر میں جاتے تھے۔۔

یہیں اسی راولپنڈی شہر میں چوہدری نثار بھی ایسے چاچاؤں میں سے ایک چاچا ہیں، میں دل سے ان کی اچھی اور صاف ستھری سیاست کا معترف ہوں ، ناراض اس لیے ہوتا ہوں کہ وہ اب صحافی صرف ان کو سمجھتے ہیں جو پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کے چیمبر میں باقاعدہ حاضری دیں، اس گدی اور گدی نشین کے دیدار سے محروم رہ جانے والے ۔۔انہیں صحافی نہیں محسوس ہوتے۔لیکن سینہ ٹھوک کر یہ کہتا ہوں کہ چوہدری نثار علی خان (چاچا) ایک اصولی سیاستدان ہیں جنہوں نے سیاست کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا۔

حکومت اور اپوزیشن کے تمام لوگ پاکستان بھر میں ایک شخص سے ڈرتے ہیں جس کا نام ملک ریاض ہیں کیونکہ اس سے فائدہ لیا ہوا ہے، پلاٹ، مکان یا کسی عزیز کے لیے روزگار کی صورت میں۔۔ مگر چوہدری نثار کے دور میں اسے یہاں سے بھاگ کر سندھ میں پناہ لینا پڑی۔ کھوکھروں کے ڈیرے پر بھی ویرانی کا راج ہوا۔

اسی شہر میں ایک اور چچا بھی ہیں پرویز رشید ۔۔ وہ بھی جانے مانے سٹوڈنٹ لیڈر تھے، کہتے ہیں تمہارے والد انوار فیروز صاحب کے پاس خبر لے کر جاتے تو وہ خبر بھی لگاتے تھے اور چائے بھی پلاتے تھے۔ اپنے ان چاچا سے ہماری گاڑھی چھنتی ہے کیونکہ انہیں صحافیوں کے کسی بھی مسئلہ سے آگاہ کیا تو انہوں نے فوری طور پر اسے حل کرنے کی کوشش کی ۔

بہرحال اپنے جس چاچے کی بات میں نے آغاز میں کی، ایسے چاچے کم ہی ہوا کرتے ہیں لیکن کئی خاندانوں میں ایسے نوجوان ہوتے ہیں جو اپنی شوخیء طبع کے باعث مشہور ہوتے ہیں، جو کسی بھی کیس میں پکڑے جانے پر فخر محسوس کرتے ہیں چاہے کیس کی نوعیت کچھ بھی ہو۔۔ یہ سال 1985 کے غیرجماعتی انتخابات کے نتیجہ میں راولپنڈی شہر کے حلقہ 38 سے الیکشن جیتے پھر اس کے بعد جنرل ضیاء کی بنائی مسلم لیگ میں شامل ہوئے، ایک اخبار نویس کا بیٹا ہونے کے باعث میں روزانہ اخبار ضرور پڑھا کرتا،اس لیے مجھے ایک خبر یاد ہے ایک تقریب میں راولپنڈی کے ایک اور ایم این اے راجہ شاہد ظفر کو جنرل ضیاء الحق نے پوچھا، راجہ صاحب آپ کب مسلم لیگ میں شامل ہو رہے ہیں؟؟؟

راجہ شاہد ظفر نے برجستہ کہا: جناب میں راجہ ہوں شیخ نہیں۔۔

اس گستاخی کے بعد راجہ شاہد ظفر تو سیاسی منظر نامے سے غائب ہوگئے، تاہم شیخ رشید احمد 2002 تک راولپنڈی شہر کے مستقل رکن قومی اسمبلی بن گئے، 2002 میں کہا جاتا ہے ،ہمارے چاچا شیخ رشید احمد نے الیکشن مہم کے دوران کہا میں این اے 55 اور 56 کی دونوں نشستیں جیت کر نواز شریف کو تحفہ دوں گا، بعد میں وہ اپنے اس بیان سے تائب ہوئے اور مشرف بہ حکومت ہوئے۔۔ اسی لیے شہر کی دوسری نشست جو خالی کی اس پر اپنے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو کھڑا کیا۔ بس یہاں سے کہانی خراب ہوئی اور سیٹ جو ہارنا شروع ہوئے تو وہ کہانی 2013 میں رکی۔ جب کپتان خان نے چاچا شیخ رشید کو سہارا دیا۔۔

اس دوران سیاست میں ہمارے چاچا جی نے مختلف سیاسی گُر سیکھنا شروع کیے بالآخر بات رکی ۔۔ حضرت پیر پگارا پر۔۔ جنہیں ان کی ذومعنی سیاسی پیشگوئیوں کی بنا پر شہرت حاصل تھی۔چاچا جی نے سیاست کے حوالہ سے پیشگوئیاں کرنا شروع کر دیں۔ سگار بھی ان کے سٹائل میں ہی پینا شروع کردیا۔ پیشگوئی کا کیا ہے، ضروری تھوڑا ہے کہ درست ہو، بس ایسے ہی لاحاصل دعوے کرو، اخبار اور ٹی وی میں دیہاڑی لگی رہی۔۔ اور کیا چاہیئے؟اور پھر اب تو ریٹنگ کا جن بھی سب کو پتا ہے کیسے قابو کرنا ہے، میرے چاچا جی کو بلاؤ اور ون آن ون شو کرو، ریٹنگ چھت پھاڑ قسم کی ملے گی، ہر پروگرام میں ایک نیا دعوےٰ۔۔ دعویٰ پورا ہونا کوئی ضروری نہیں۔۔ بس کانوں سے دھواں نکال دو۔۔ایسی گفتگو ہو۔۔

اپنے کپتان کو دھرنے کے نام پر پیشگوئی کی کہ نئی شیروانی سلوا لیجئے عنقریب آپ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے، اس غریب نے بھی کہا مان لیا سلوا لی نئی اچکن، انتظار کر کر کے آخر کار اس شیروانی کے لیے شادی رچانا پڑی۔بے چاری حلف کے لیے تو نہیں بس نکاح کے کام آئی۔

کنٹینر پر بھی کھڑے ہو کے روز نئی پیشگوئی، کبھی عید سے پہلے عید، پھر عید کے بعد کبھی دس روز اور کبھی بیس روز کا تڑکا لگتا رہا مگر ہانڈی اب تک تیار نہیں ہوسکی۔ اب پھر پانامہ پیپرز کا سکینڈل سامنے آتے ہی ایک بار پھر دکان کھل گئی۔ اب تک بات ٹھیک تھی ۔۔۔ لیکن آج جب وزیر اعظم اوپن ہارٹ سرجری کرانے برطانیہ موجود ہیں ایسے موقع پر چاچا جی کی یہ پیشگوئی انتہائی بھدی معلوم ہوئی ہے کہ نواز شریف کی سیاسی فاتحہ خوانی 2016 میں ہو جائے گی۔ ایسے موقع پر تو لوگ اپنی خاندانی دشمنیاں بھلا دیتے ہیں آپ کی تو صرف اتنی ناراضی ہے کہ نواز شریف نے آپ کو پارٹی میں واپس نہیں لیا۔۔ بیماری کے حوالہ سے ایسا تبصرہ مناسب نہیں۔ سیاست کے موقعے اور بھی ملیں گے، اس موقع پر دشمن کی طرح کی سہی دعا ضرور کرنی چاہئے۔ آخر کل کلاں بات ہو گی تو صرف آپ کی وجہ سے تمام پنڈی والوں پر بات آئے گی۔

۔۔۔اور پنڈی والوں پر بات آئی تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا۔۔ چاہے آپ میرے چاچا ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے