صحافت کے گندے انڈے

میرے ساتھی صحافی دوست جو کہ پریس کلب میں ایک اہم عہدے پر فائز ہے کو قصہ خوانی سے موبائل فون پررابطہ کیا گیا فون کرنے والا بتا رہا تھا کہ ایک لڑکا ہاتھ میں مائیک لیکر آیا ہوا ہے اور ایک دکاندار سے بیس ہزار روپے مانگ رہا ہے فون کرنے والا ایک وکیل تھا جسے دکاندار نے بلایا تھا- جس کی جان پہچان میرے صحافی دوست کیساتھ تھی- فون کرنے والے نے ساتھ میں یہ بھی بتا یا کہ جو لڑکا اپنے آپ کو رپورٹر ظاہر کررہا ہے اس کے پاس دفتر کا کارڈ بھی نہیں نہ ہی پریس کلب اور نہ صحافیوں کے کسی یونین کا ، لیکن اس کے ہاتھ میں مائیک ہے اور کیمرے کے زور پر دکاندار سے یہ ڈیمانڈ کررہا ہے کہ بیس ہزار روپے دو تاکہ تمھارے خلاف سٹوری شائع نہ کرو ں ورنہ تمھارے خلاف بڑی شکایات ہیں تم دو نمبر ادویات بیچتے ہو — اور میں اسے چیک کرنے آیا ہوں-

فون کرنے والے شخص نے میرے دوست سے پوچھا کہ چونکہ ہم بیشتر صحافیوں کو جانتے ہیں اس لئے بہت سے صحافیوں کے ناموں کے بارے میں اس سے پوچھا تو موصوف کسی کو جانتا بھی نہیں تھا لیکن اپنے آپ کو صحافی کہلوانے پر بضد تھا- میرے دوست نے فون کرنے والے شخص کو کہہ دیا کہ میری اس سے بات کرواؤ – اور اس شخص نے فون اس شخص کے ہاتھ میں تھما دیا جو اپنے آپ کو رپورٹر کہلوانے پر بضد تھا- میرے ساتھی نے فون پر اس سے پوچھا کہ بھائی میرے تم کس طرح اپنے آپ کو صحافی کہلواتے ہوں اگر متعلقہ شخص کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس شخص کا موقف لو اور چلے جاؤ -اب اس میں پیسوں کی ڈیمانڈ کی کیا بات ہے- ساتھ میں صحافیوں کو بدنام کرنے کیلئے اس طرح کے کاموں سے بھی منع کیا-اس لڑکے نے جواب دیا کہ ہمیں شکایات ملی تھیں اسی لئے ہم یہاں پر آئے ہیں- اور پھر فون بند کردیا-صحافی دوست جو کہ ساتھ بیٹھا ہوا تھا سے میں نے واقعے کی تفصیلات معلوم کی اسی دوران میرے دوست نے دوبارہ اس وکیل سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ کچھ دینے کی ضرورت نہیں- لیکن ہاتھا پائی کی آواز آئی- پھر کسی نے فون پر بتا دیا کہ قصہ خوانی کے دکانداروں نے متعلقہ شخص کی پٹائی کردی اور اسے پولیس کے حوالے کردیا-

یہ واقعہ ایک دن قبل کا ہے پتہ نہیں اس طرح کے واقعات میں مسلسل اضافہ کیوں ہوتا جارہا ہے ایک وقت تھا کہ اس طرح کا واقعہ سال میں ایک آدھ دفعہ ہوا کرتا تھا لیکن اب تو حال یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات ہر ہفتے سننے کو ملتے ہیں کبھی ایک علاقے میں اور کبھی صوبے کے دوسرے علاقے میں ، کہ نام نہاد صحافی نے لوگوں کو بے وقوف بنا کر پیسے بٹور ے- لیکن سب سے افسوسناک بات تو اب یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد رپورٹ نہیں ہوتے- پتہ نہیں ہمارے صحافی اس معاملے میں کیوں خاموش ہو جاتے ہیں حالانکہ بیشتر صحافی اس طرح کے کاموں کے خلاف ہیں لیکن نہ تو اس کے خلاف کوئی لکھتا ہے نہ ہی پولیس ایسے دونمبرلوگوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے جو چارسوبیسی کے ذریعے لوگوں سے رقوم لوٹتے ہیں اور پھر سارے صحافیوں کو گالیاں سننی کو ملتی ہیں-
زمانے کا عجیب دستور بنتا جارہا ہے کہ جن کو لکھنا نہیں آتا وہ اپنے آپ کو صحافی ، سینئر صحافی اور بڑے بڑے لکھاری لکھتے اور بولتے ہیں اس شعبے میں ایسے لوگ بھی ذاتی تجربے میں دیکھنے کو ملے ہیں جنہیں مادری زبان لکھتے ہوئے بھی درد اٹھتا ہے انگریزی زبان تو بہت دور کی بات ہے لیکن وہ بھی اخبارات و ٹی وی کے بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہیں اس شعبے میں ایسے لوگ بھی آگئے ہیں جن کا اصل میں "کام کچھ اور”ہے لیکن اسی ” کچھ اور کام” کی بدولت بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ گئے ہیں-پاپی پیٹ تو ہر ایک کیساتھ لگا ہوا ہے لیکن اس پاپی پیٹ کو بھرنے کیلئے ایسے "پاپ”صحافت کے شعبے میں کئے اور کروائے جاتے ہیں کہ بولتے اور لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے-لیکن ان سب چیزوں میں سب سے اہم کردار مالکان کا ہے جو صرف اپنے مفادات کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں- مالکان کو ایسے بندے مل رہے ہیں جو اپنے جیب سے پیسے لگا کر اس شعبے میں آتے ہیں اور پھر اسی کی آڑ میں ایسے کام پولیس افسران اور بیورو کریٹس کیلئے کرتے ہیں اور ان سے کرواتے ہیں جنہیں دیکھ کر اور سن کر” کانوں کی لویں”سرخ ہوجاتی ہیں-جب اس شعبے سے وابستہ اداروں کے مالکان کایہ حال ہو کہ پیسے کیلئے "غیر اخلاقی اشتہارات”تک چھپوا دیں یا آن ائیر کروائیں تو ایسے میں ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ پروفیشنل صحافیوں کو آگے آنے کے مواقع فراہم کرینگے بہت بے وقوفی ہے-

صحافت کے شعبے میں مخصوص مقاصد کیلئے آنیوالے افراد کی تعلیمی قابلیت بس اتنی ہی رہ گئی ہے کہ انہیں "یس سر”کہنا آتا ہے یا پھر وہ "مختلف چیزوں کی سپلائی” اچھی طریقے سے کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہی لوگ ہر جگہ پر دکھائی دیتے ہیں اخبارات میں چھپنے والی تصاویر اور سرکاری اداروں کے سربراہوں سے ملاقاتیں اور پھر انہیں تصاویر کے ذریعے کیش کرنا بھی انہیں اچھی طریقے سے آتا ہے یہی وجہ ہے کہ عام لوگ انہی تصاویر کے ذریعے انہیں ” بڑی چیز”سمجھتے ہیں اور پھر یہی "بڑی چیزیں” تعیناتیوں اور تبادلوں کے کاروبار سے لیکر ہر وہ کام کرتے ہیں جن سے انہیں پیسے ملیں لیکن ان کا کام پوری صحافی برادری کو بدنام کرتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرا سب کو ایک نظر سے دیکھتی ہے اور انہیں سارے صحافی ” لفافے والے” ہی نظر آتے ہیں – حالانکہ سومیں سے صرف 2 فیصد ایسے صحافی ہونگے لیکن ان دو فیصدکی کرتوتوں کی وجہ سے "ساری برادری بدنام ہوتی ہیں-

اس طرح کے روئیوں سے جہاں صحافت کے شعبے میں نئے آنیوالے نوجوان صحافیوں کی دل شکنی ہورہی ہے وہیں پر اس شعبے میں کام کرنے والے پروفیشنل اور سینئر صحافی بھی تنگ آگئے ہیں کہ ہم لوگ "کدھر پھنس گئے” ہیں کیونکہ نہ تووہ ایسی صحافت کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں حرام کی کمائی کا شوق ہوتا ہے – اس شعبے میں غیر پروفیشنل لوگوں کی آمد کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ جس طرح حکمرانوں کو عوام اور عوامی مسائل سے بس نام کی حد تک دلچسپی ہوتی ہے اسی طرح یہ نام نہاد لوگ بھی عوامی مسائل سے اتنی ہی غرض رکھتے ہیں اس لئے ان روزناموں، میگزین ، ٹی وی چینل میں صرف مخصوص چیزیں ، سیاستدانوں کے چہرے اور بیانات ہی نظر آتے ہیں عوامی مسائل پر کوئی فیچر ، رپورٹ اور خبر دیکھنے کو نہیں ملتی-خوش آئند ہے اور ہو جائیگا جیسے بیانات اور پریس ریلیز کو ہر اخبارات میں اور ٹی وی چینل پر دیکھنے کو ملیں گی لیکن "مسئلہ سامنے آگیا اور مسئلہ حل ہوگیا ” جیسی خبر / فیچر/ رپورٹ دیکھنے اورسننے کو نہیں ملےگی-جیسی روح ویسے فرشتے کے مصداق حکمرانوں ، بیورو کریٹس افسران کو بھی ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو انہیں خوش فہمیوں میں مبتلا رکھیں اور حقیقت کی دنیا سے دور رکھیں-

ان حالات میں جہاں پریس کلب اور صحافتی یونین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نام نہاد صحافیوں کے خلاف ایکشن لیں بلکہ مالکان کو بھی صحافت کی آڑ میں دونمبری کرنے والے افراد کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی تبھی اس شعبے میں آنیوالے گندے انڈوں سے نہ صرف صحافتی برادری اور عام لوگوں کی جان چھوٹے گی بلکہ اس سے اس شعبے میں نوجوان صحافی بھی سامنے آئینگے اور لوگوں کے مسائل بھی حل ہونگے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے