اسلامی نظریاتی کونسل برائے خواتین

فیض نے کہا تھا کہ روزگار کے غم ،غمِ جاناں سے بھی دلفریب ہوتے ہیں۔ (اس پر جاناں نے کیا جواب دیا اور کیا خط و کتابت کا سلسلہ آگے بھی چلتا رہا ، مورخین خاموش ہیں)۔اور ایک اور صاحب نے فرمایا ہوا ہے کہ تین دن تک کتاب نہ پڑھوں تو گفتگو بے مزہ ہو جاتی ہے۔ ان دونوں اقوالِ زریں کو جمع کروں تو حاصلِ کلام یہ ہے کہ جب سے کمانے لگا ہوں، کتاب پڑھنا بھی ایک عیاشی لگتی ہے ۔روزگار کے غم ، کتب بینی سے زیادہ دلفریب تو نہیں مگر سدِ راہ ضرور ہیں۔ کسی موضوع پر لکھنا تو کجا پڑھنا بھی جوئے شیر لانے کے ارابر برابر ہے۔ مگر اسلامی نظریاتی کونسل کی تازہ ’واردات‘ نے مجبور کر دیا کہ کچھ نہ کچھ لکھوں۔

حال ہی میں کونسل نے خواتین کے لیے ایک قانون تجویز کیا ہے جس پر بہت لے دے ہو رہی ہے۔ تحقیق پر پتہ چلا کہ اس قابلِ احترام کونسل نے خواتین کے لیے بل تو بنا لیا ہے مگر اس کونسل میں صرف ایک خاتون ممبر شامل ہے۔اس لیے اسے اسلامی نظریاتی کونسل (م) کہا جا سکتا ہے جو زیادہ تر مردوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اب شیرانی صاحب اس کو تسلیم کریں یا نہ کریں، مگر اسلام میں تو خواتین کے حقوق مردوں کے شانہ بشانہ ہی ہیں ۔

مردوں کی کونسل خواتین کے بارے میں قانون پیش کر سکتی ہے تو خواتین کی کونسل مردوں کے بارے میں اپنی سفارشات کیوں نہیں رکھ سکتی؟چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل (خ)، جس کا میں اکلوتا مذکر ممبر ہوں، کی چند سفارشات پیشِ خدمت ہیں:

۱۔ اگر کوئی شوہر بیوی کے نان نفقہ سمیت دوسری شرعی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا تو بیوی کو اجازت ہو کہ شوہر کی ہلکی پھلکی مرمت کر سکے۔ اس نکتے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قانون کی منظوری سے قبل ہی یہ مملکتِ خداداد میں رائج ہے۔

۲۔ غیر ملکی خاتون سربراہانِ مملکت کا استقبال مرد حضرات نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ اگلی بار ملکہِ برطانیہ یا جرمن چانسلر انجیلا مرکل پاکستان تشریف لائیں تواس وقت اگر مرد صدر اور وزیرِ اعظم ہوں توخود جانے کی بجائے اپنی زوجہ محترمہ کو برقع میں بھیج دیں تا کہ ایر پورٹ کے نا محرم عملے سے پردہ رہے۔

۳۔خواتین کو پرائمری کے بعد مخلوط نظامِ تعلیم صرف اُس وقت قابلِ قبول ہو گا جب مرد حضرات شرم و حیا کے زیور سے آراستہ ہوں گے۔

۴۔ مردوں کی ہاف سلیو ٹی شرٹ اور ڈریس شرٹ دونوں پر پابندی ہو گی کیونکہ اگر کسی کے ڈولے دیکھ کر کسی معصوم دوشیزہ کا دل بہک گیا تو بات حدود آرڈیننس تک جا سکتی ہے۔ خواتین کی یہ کونسل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہاف سلیو شرٹس پر پابندی کی وجہ مضبوط ڈولے نہیں بلکہ کاٹھی جیسے بازو وں والے مرد ہیں جن کی وجہ سے گھر کی خواتین محلے میں بے عزت ہوتی ہیں۔

۵۔ جو مرد حضرات انسٹاگرام اور فیس بُک پرنامحرم خواتین کی تصاویر کو لائک یا کمنٹ کیا کریں گے، ان کو تین دن تک گھر آنے کی اجازت نہ ہوگے۔ نامحرم خواتین کی تصاویر شیئر کرنے پر بیوی کو اجازت ہو گی کہ شوہر کو آہستہ یا زور سے مار سکے۔

۶۔ مردوں کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہ ہوگی کیونکہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے دل پر حکومت نہیں کر سکتا وہ مُلک پر کیا خاک حکومت کرے گا؟ اور جو اپنی بیوی کے دل پر حکومت کرتا ہے اُسے کسی اور حکومت کی ضرورت ہی نہیں۔

۷۔مرد حضرات کسی خاتون ڈاکٹر سے علاج کے لیے رجوع نہیں کر سکتے کیونکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اگر ڈاکٹر خوبصورت ہو تو مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔مردانہ وارڈ میں صرف ریٹائرڈ پہلوانوں کو کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

۸۔ مردوں کو شائستہ و ناشائستہ دونوں قسم کے اشتہارات میں کام کرنے کی اجازت نہ ہوگی کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر خواتین اپنے شوہرکا موازنہ حمزہ علی عباسی اور فواد خان سے کرنے لگ جاتی ہیں جس کا نتیجہ گھریلو ناچاقی کی صورت میں نکلتا ہے۔

۹۔ قلم کاروں پر پابندی ہوگی کہ اپنے ناولز ، ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کو فرشتہ صفت دکھانے کی بجائے انسان کے روپ میں دکھایا جائے کیو نکہ بہرحال یہ خطا کا پُتلا ہی اشرف المخلوقات ہے۔

گو ہمیں اُمید نہیں ہے کہ مرد حضرات ان سفارشات کو کھُلے دل و دماغ کے ساتھ قبول کریں گے لیکن بہرحال مایوسی کفر ہے۔ اُمید پہ دنیا ، جی ہاں گائناکولوجسٹ کی دنیا، قائم ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے