جنسی تعلیم یا جنسی بے راہروی

پچھلے دنوں ایک کالم نظر سے گزرا جس میں کالم نگار نے پیمرا کو خوب لعن طعن کی تھی کہ انھوں نے عوامی شکایات پر کنڈوم کے اشتہارات پر پابندی لگا دی ہے۔موصوف کے خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ جنسی تعلیم نہ دینے اور کنڈوم کے اشتہارات نہ دکھانے سے ہم بحیثیت قوم مندرجہ ذیل مسائل سے دوچار ہیں: اول: ایڈز کا مرض، دوم: آبادی میں اضافہ اور سوم : جہالت میں اضافہ۔ ان مسائل پرتو پھر کبھی بات ہوگی ، ابھی میں صرف اس موضوع کو سامنے رکھ رہاہوں کہ جنسی جذبے کی تسکین اور اس کی تعلیم کا سامان کیسے ہونا چاہیے۔

مقام شکر ہے کہ انھوں نےنتائج کے ذکر خیر میں ڈرون حملوں کا زکر نہیں کیا ورنہ یہ ایک سیاسی کالم بن جاتا۔ لیکن بہرحال یہ وہ رونا ہے جو سیکولر اور لبرل طبقے کی طرف سے اکثر رویا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرف دور میں میڈیا کو شتر بے مہار آزادی دی گئی۔ دوسری بہت سی لبرل اقدار کے ساتھ ساتھ کنڈوم کے اشتہارات صرف دکھائے ہی نہیں گئے بلکہ ان کے ترانے پڑھے گئے۔ لیکن دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ کیا واقعی جنسی تعلیم کا یہ اندازاتنا ہی ضروری ہے کہ جتنا موصوف کالم نگار نے زور دیا ہے یا یہ صرف بے حیائی پھیلانے کا ایک ڈھونگ ہے ۔اورتعلیم کی آڑمیں پاکستانی معاشرے کو بھی جنسی آزادی کا حامل معاشرہ(Free Sex Zone) بنانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنس انسان کی فطری ضرورت ہے۔ اور فطری ضروریات کی تسکین کے لیے اسے کسی خاص تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ لیکن پھر بھی اگر اسے ازدواجی تعلقات میں بہتری، جنسی بیماریوں سے بچاؤ اور مختلف مسائل سے بچنے کے لیے اس کی تعلیم دینا ضروری بھی ہے تو اسے کس اندازمیں دی جانی چاہیے۔

اس کے لیے دو نکتہ نظر ہیں:
ایک تو مغربی نکتہ نظر ہے جس کی ترویج موصوف نے کی ہے۔ یعنی کوئی چیز ڈھکی چھپی نہ رکھی جائے۔ ہر چیز کھول کر بیان کردی جائے۔جنسی آزادی کے ساتھ ساتھ جنسی تعلیم کو بھی بچپن سے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ کنڈوم کے اشتہارات دکھائے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ خود اس نکتہ نظر کے حامل مغربی معاشروں میں صورتحال ابتر ہوچکی ہے۔ یہ نکتہ نظر دراصل مغرب کےشخصی آزادی کے تصور کی دین ہے۔ یہ انسان کو کسی اخلاقی وجود کی بجائے ایک حیوانی وجود کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ جس کے لیے جنسی آزادی کی کوئی حدود و قیود نہیں۔ ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جیسے چاہے زندگی گزارے، ہم جنس پرست ہو، شادی نہ کرے، بچے پیدا نہ کرے وغیرہ وغیرہ ۔

آج مغرب کا معاشرہ ان تصورات کی چوکھٹ پر اپنے اخلاقی وجود کی قربانی دے رہا ہے ۔ جہاں خاندانی نظام تباہی کا شکار ہے۔ حرامی بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، یہاں تک کہ ایک امریکی صدر کو بھی کہنا پڑا کہ بہت جلد امریکی قوم کی اکثریت حرامی بچوں پر مشتمل ہوگی۔ بچے اپنے والد کے نام سے ناواقف ہیں ۔ اخلاقی صورتحال کی ابتری کا یہ عالم کہ کم عمر بچیاں جنسی ہوس کا شکار ہوکر مائیں بن رہی ہیں۔ محرم رشتوں کا تقدس ختم ہوچکا ہے۔ جرمنی کی اتھیسٹ کونسل نے بھائی بہن کی شادی کو جائز قرار دیے دیا ہے۔ لاکھوں امریکیوں نے اپنے محرم رشتوں سے جنسی تعلق کا اعتراف کیا ہے۔ عورتیں جنسی استحصال کا شکار ہیں۔جنسی زیادتیوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔اور سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلم معاشرے بھی انھیں تہذیبی اقدار کو اپنا کر دھڑا دھڑ اپنا معاشرتی وجود کھوکھلا کررہے ہیں۔

تو ایک طرف یہ مغربی نکتہ نظر ہے جس میں کسی چیز کو پردے میں رکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص اپنی فطری ضروریات کی تکمیل کے لیے آزاد ہے۔ بس اسے اس چیز کی تعلیم دینا ضروری ہےکہ وہ کہیں لاعلمی میں کسی بیماری کا شکار نہ ہوجائے یا بچوں کی پیدائش کو کنٹرول کرسکے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس کے نتیجے میں جو انتشار جنم لے رہا ہے ، وہ ہمارے سامنے ہے۔

دوسری طرف اسلام بھی اس حوالے سے کچھ احکامات دیتا ہے۔اسلام سب سے پہلے تو جنسی جذبے کی تسکین کو نکاح کی صورت میں قید کرتا ہے تاکہ فطرت کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہوکر معاشرہ اپنا اخلاقی وجود نہ کھو بیٹھے۔ دوم اسلام معاشرے میں ہر اس چیز پر پابندی لگاتا ہے جو اس جذبے کےلیے مہمیز کا کام دے ۔اور یہ جذبہ اپنی تسکین کے لیے حرام ذرائع یا محرم رشتوں کے تقدس کو پامال کرنا نہ شروع کردے۔ مثلا شہوت انگیز جنسی مناظر کی تشہیر، جنس کی بے قید تعلیم اور ہر وہ چیز جو اس بے سمت راہی کو ڈھیل دے، اسلامی معاشرے میں ممنوعہ ہوتے ہیں۔

اسلام کسی ایسی تعلیم اور تفریح کا قائل نہیں جو شہوت انگیز ہواور انسان کو جنسی بے راہروی کے راستے پر ڈال دے۔ یوں اسلام معاشرے میں اس جذبے کی تسکین کے لیے صرف جائز راستے کھلے چھوڑتا ہے اور دوسری طرف ہر ناجائز راستے پر بند باندھنے کی کوشش کرتا ہے۔اس طرح معاشرہ ان بہت سی بداخلاقیوں، بے راہرویوں اور قبیح جرائم سے محفوظ رہتا ہے جو اس میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔اور جن کا مشاہدہ خود ہم اپنے معاشرے میں کر رہے ہیں۔

لیکن بلاشبہ دوسری طرف اسلام جنسی بیماریوں، مسائل اور ازدواجی تعلقات کی بہتری کے لیے ،اس کی اس انداز میں تعلیم کی اجازت بھی دیتا ہےجس کی کچھ حدود و قیود ہوں۔ یہ تعلیم صرف انھیں دی جائے ، جنھیں ان کی ضرورت ہےیعنی وہ لوگ جو رشتہ نکاح میں بندھنے والے ہوں یا بندھ چکے ہوں۔ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ ایک طرف آپ فلموں ، ڈراموں اور اشتہاروں کے ذریعےبے حیائی اور فحاشی کی ترغیب کے ذریعے معاشرے میں جنسی بے راہروی کو فروغ دیں اور دوسری طرف انھیں کسی "ناگہانی” سے بچنے کے لیے کنڈوم کے استعمال کی تعلیم بھی دیں۔تاکہ وہ حرام عمل کی صورت میں کسی "غیر متوقع نتیجے” سے محفوظ رہ سکیں۔

اس لحاظ سےآج کی نوجوان نسل عموما اور غیر شادی شدہ لوگ خصوصا بہت ہی قابل رحم ہیں کہ ایک طرف تو ا ن کے سامنے جنسی لذت اور شہوت انگیزی کے بازار گرم ہیں جو انھیں اس جذبے کی اندھی تسکین کے لیے آمادہ کررہے ہیں۔ اور دوسری طرف ان کی معاشرتی ، مذہبی اور خاندانی اقدار اس بے راہروی کے آگے روک لگانے کی کوشش کررہی ہیں۔ گویا ایک طرف فطری اُبال ہےجسے حرارت دی گئی ہے اور دوسری طرف اخلاقیات کی بے بس تعلیم۔ بے چارے اس کھینچا تانی میں ربر کی گیند کی مانند لڑھک رہے ہیں۔گویا آج ہمارے مسلم معاشروں کا حال وہی ہے جس کا نقشہ غالب نے اپنے ایک شعر میں کھینچا تھا:
ایماں مجھے روکے ہے جوکھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے ، کلیسا مرے آگے

اسلام ہرگز ایسا معاشرہ نہیں چاہتا جہاں فطرت کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہو۔ وہ ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں فطری ضروریات کی تسکین کا جائز سامان موجود ہو۔جہاں مرد اور عورت کا تعلق محض حیوانی سطح پر نہ ہو بلکہ وہ دونوں مل کر ایک پاکیزہ اخلاقی وجود کی بنیاد رکھیں جو ایک مہذب معاشرے کی اکائی بنے۔افسوس کہ ہمارا معاشرہ آج اسلام سے کوسوں دور مغرب کی اندھی پیروی میں کھائی میں گرتا جارہا ہے۔ اور ہمارے نام نہاد دانشور اس گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دینے میں مصروف ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے