بجٹ میں کیا بتایا گیا، کیا چھپایا گیا. صحافیوں کی کہانیاں

[pullquote]اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2016-17ءکے وفاقی بجٹ میں آئی ڈی پیز کی بحالی اور سیکیورٹی کے لئے 100ارب روپے رکھنے کی تجویز دیدی ، [/pullquote]

جمعہ کو وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار نے بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ دہشت گردوں کیخلاف قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی جس پر افواج پاکستان مبارکباد کے مستحق ہیں ،انہوں نے آگاہ کیا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دوران شمالی وزیر ستان سمیت قبائلی علاقوں سے بے دخل ہونیوالے آئی ڈی پیز کی با عزت واپسی اور دوبارہ آباد کاری کیلئے حکومت نے وفاقی بجٹ میں سو ارب روپے رکھے ہیں ،

[pullquote]اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) حکومت نے رواں مالی سال کے مقابلے میں آئندہ مالی سال 2016-17ءکے وفاقی بجٹ میں دفاعی بجٹ کیلئے 79ارب روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 860ارب روپے مختص کر دیئے ۔ [/pullquote]

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال 781ارب روپے کا دفاری بجٹ منظور کیا تھا تاہم نظر ثانی کے بعد یہ بجٹ بڑھا کر799ارب روپے کر دیا گیا اور آئندہ مالی سال میں دفاع کی مد میں 860ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، رواں مالی سال کے اصل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں دفاعی بجٹ میں 79ارب جبکہ نظر ثانی بجٹ کے مقابلے میں 61ارب روپے کا اضافہ ہو گا ۔ دستاویز کے مطابق پاک فوج کا 371ارب روپے سے بڑھا کر 409ارب روپے کر دیا گیا ہے، رواں مالی سال کا پاک فضائیہ کے 164ارب روپے کا بجٹ ّآئندہ مالی سال کیلئے بڑھا کر 182.7ارب روپے کر دیا گیاجبکہ پاک بحریہ کیلئے رواں مالی سال کیلئے منظور شدہ 84.9ارب سے بڑھا کر آئندہ مالی سال میں 93.36ارب روپے کر دیا گیا، دفاعی پیداوار کے اداروں کیلئے رواں مالی سال 160.79ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی جسے بڑھا کر آئندہ مالی سال کیلئے 174.84ارب روپے کر دی گئی جو دفاعی بجٹ کا حصہ ہے ۔

پاک فوج ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق اخراجات پر آئندہ مالی سال میں 229ارب ، فضائیہ 38ارب اور نیوی 25ارب روپے خرچ کرئے گی ، فوج نے آپریٹنگ اخراجات کی مد میں 73.6ارب روپے، فضائیہ نے 31ارب اوربحریہ نے 11ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، فوج کے فزیکل اثاثے نئے مالی سال میں 49.96ارب کے ہونگے ، ائیر فورس کے 88.3ارب جبکہ پاک بحریہ کے 43.3ارب روپے ہونگے ، تینوں افواج کے فزیکل اثاثوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، تینوں فورسز کے ملازمین کی تنخواہوں کی اخراجات میں رواں سال کے مقابلے میں ایک ارب روپے کا اضافہ ہو گا اور یہ 326ارب روپے سے بڑھ کر 327ارب روپے ہو جائینگے ۔

کی جانب سے پیش کئے گئے آئندہ مالی سال 2016-17کے وفاقی بجٹ میں وزیر اعظم آفس رواں مالی سال کے مقابلے میں ۔۔۔کروڑ روپے (رواں سال 7کروڑ) کا اضافہ تجویز کیا گیا، جبکہ وزیر اعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کیلئے مختص بجٹ میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا،

[pullquote]اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) حکومت نے وزیر اعظم آفس کے بجٹ میں بھی4کروڑ روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ [/pullquote]

بجٹ دستاویز کے مطابق وزیر اعظم آفس کا بجٹ رواں مالی سال کے 84کروڑ20لاکھ روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال کیلئے 88کروڑ15لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جس میں ملازمین اور افسران کی تنخواہوں ، الاونسز کی مد میں59کروڑ93لاکھ روپے سے زئاد خرچ ہونگے جبکہ آپریٹنگ اخراجات کی مد میں 12کروڑ 58لاکھ روپے تجویز کئے گئے ہیں ، ریٹائرڈ ہونیوالے ملازمین کی بہبود کیلئے 79لاکھ روپے روپے، گرانٹ سبسڈیز اور قرضوں کی معافی کی مد میں7کروڑ50لاکھ روپے، فزیکل اثاثوں کیلئے 1کروڑ23لاکھ روپے، روپے، گاڑیوں اور دیگر سامان کی مرمت کیلئے 2کروڑ23لاکھ روپے مختصکئے گیا ہے، دستاویز کے مطابق وزیر اعظم آفس پبلک کا بجٹ رواں مالی سال کے38کروڑ60لاکھ روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال کیلئے 40کروڑ 69لاکھ روپے ہو گا جبکہ وزیر اعظم آفس انٹرنل کا بجٹ 48کروڑ روپے سے زائد ہو گا ۔ وزیر اعظم کی خیرات اور تحائف دینے کی رقم کی حد 25لاکھ روپے سے بڑھا کر40لاکھ روپے کر دی گئی ، وزیر اعظم کے گاڑیوں کے قافلے پررواں مالی سال کے 3کروڑ73لاکھ روپے سے بڑھا کر3کروڑ90لاکھ ورپے کر دیا گیا ۔وزیر اعظم کے اسٹیٹ گارڈن پر رواں مالی سال کے2کروڑ74لاکھ روپے سے کم کرکے آئندہ مالی سالکیلئے 2کروڑ61لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔۔۔
[pullquote]
اسلام آباد ( ) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ 2016-17ءمیں کھیلوں کے شعبے کو ایک بار پھر نظر انداز کرتے ہوئے کھربوں روپے کے وفاقی بجٹ میں پاکستان سپورٹس بورڈ کے ذریعے ملک میں کھیلوں کے ترقیاتی منصوبوں پر صرف 63کروڑ 8لاکھ روپے روپے مختص کر دیئے [/pullquote]

، غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں پاکستان سپورٹس بورڈ کیلئے آئندہ مالی سال میں 99کروڑ50لاکھ روپے مختص کئے جائینگے جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے حلقہ میں جاری سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کومکمل کرنے کیلئے 45کروڑ روپے کے کثیر فنڈز بھی شامل ہیں ۔ بجٹ دستاویز کے مطابق مالی سال 2016-17ءکیلئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں پاکستان سپورٹس بورڈ کی صرف دو نئی سکیموں کو شامل کیا گیا ہے جن میں مختلف شہروں میں ہاکی کے آسٹرو ٹرف کیلئے 5کروڑ روپے جبکہ سوات میں ہاکی کی نئی آسٹرو ٹرف کیلئے 6کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ، دستاویز کے مطابق جاری 4ترقیاتی منصوبوں کیلئے آئندہ مالی سال 2016-17ئمیں 52کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی کمیشن احسن اقبال کے حلقہ ناروال میں اڑھائی ارب روپے کی لاگت سے شروع کئے گئے سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کیلئے رواں مالی سال 1ارب 14کروڑ روپے خرچ ہونے کے بعد آئندہ مالی سال 2016-17ءکیلئے 45کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں بائیو میکینکس لیب قائم کرنے کیلئے 1کروڑ88لاکھ روپے، نیشنل گیمز کیلئے 5کروڑروپے اور گلگت میں ہاکی ٹرف کیلئے 20لاکھ روپے شامل ہیں ۔بجٹ دستاویز کے مطابق غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں پاکستان سپورٹس بورڈ کیلئے آئندہ مالی سال میں 99کروڑ50لاکھ روپے مختص کئے جائینگے جو پاکستان سپورٹس بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں ، پنشنز، سپورٹس فیڈریشنز کو دی جانیولای گرانٹس، انٹرنیشنل ایونٹس میں پاکستانی دستوں کی شرکت سمیت دیگر امور پر خرچ کئے جائینگے ۔۔۔(افضل جاوید )

[pullquote]اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )
قومی سلامتی ڈویژن کیلئے مختص بجٹ میں بھی 20لاکھ روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے [/pullquote]

اور وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ کے ماتحت قومی سلامتی ڈویژن کا بجٹ 4کروڑ30لاکھ روپے سے بڑھا کر 4کروڑ50لاکھ روپے کر دیا گیا ۔ بجٹ دستاویز کے مطابق مختص شدہ رقم میں سے 2کروڑ30لاکھ روپے ملازمین کی تنخواہوں اور الاونسز پر خرچ ہونگے جبکہ آپریٹنگ اخراجات کیلئے ایک کروڑ62لاکھ روپے، ریٹائرڈ ہونیوالے ملازمین کیلئے 20لاکھ روپے، فزیکل اثاثوں کیلئے 18لاکھ اور گاڑیوں کی مرمت وغیرہ کیلئے 10لاکھ سے زائد رقم مختص کی گئی ہے ۔

[pullquote]وفاقی وزراء،وزراءمملکت ، وزیر اعظم کے مشیران اور معاونین خصوصی سمیت انکے اسٹاف پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 93لاکھ روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے [/pullquote]

جبکہ وزیر اعظم کے مشیران اور معاونین خصوصی کا بجٹ بھی بڑھا دیا گیا ہے، مجموعی طور پر وفاقی وزراءوزراءمملکت ، وزیر اعظم کے مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہوں اور مراعات ور انکے اسٹاف پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں 17کروڑ39لاکھ 18ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں ، جو کہ رواں مالی سال میں 16کروڑ60لاکھ روپے تھے ، بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی وزراءاور وزراءمملکت ، انکے اسٹاف کی تنخواہوں ، الاونسز ، انکی گاڑیوں کی مرمت پر مجموعی طور پر 14کروڑ20لاکھ روپے خرچ ہونگے جو کہ رواں سال میں 13کروڑ60لاکھ روپے تھے ، وزیر اعظم کے مشیران ، انکے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر سفری اخراجات پر ایک کروڑ44لاکھ روپے سے زائد خرچ ہونگے جبکہ رواں سال یہ رقم 1کروڑ35لاکھ روپے تھی ۔ معاونین خصوصی کی تنخواہوں اور سفری اخراجات کیلئے ایک کروڑ75لاکھ روپے مختص کئے گئے جو کہ رواں سال 1کروڑ65لاکھ روپے تھے ۔

[pullquote]
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) وفاقی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی ) کیلئے آئندہ مالی سال 2016-17ءکے وفاقی بجٹ میں 23کروڑ روپے کا اضافہ کر تے ہوئے 4ارب 53کروڑ روپے سے زائد کر دیا گیا [/pullquote]

تاہم انٹیلی جنس بیورو کا بجٹ ایک لائن پر مبنی ہے کہ پیسہ انٹیلی جنس بیورو کیسے خرچ کرئے گی اس کا بجٹ دستاویز میں کوئی ذکرنہیں گیا گیا ہے ۔ بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ 2015-16ءکیلئے انٹیلی جنس بیورو کا 4ارب 30کروڑ روپے کا بجٹ منطور کیا تھا جو مالی سال 2016-17ءمیں بڑھا کر 4ارب 53کروڑ روپے کر دیا گیا تاہم بجٹ دستاویزات میں یہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئی کہ انٹیلی جنس بیورو یہ اخراجات کس مد میں کرئے گا ۔

[pullquote]اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے بجٹ میں بھی 47کروڑ روپے سے زئاد کا اضافہ کر دیا گیاجبکہ سینیٹ کا بجٹ بھی 1ارب 73کروڑ سے بڑھا کر 1ارب 98کروڑ روپے کر دیا جائیگا ۔ [/pullquote]

بجٹ دستاویز کے مطابق قوی اسمبلی کے ملازمین کی تنخواہوں ، گاڑیوں کی مرمت ، فزیکل اثاثوں اور آپریٹنگ اخراجات کی مد میں یہ بجٹ استعمال کیا جائیگا ، اسمبلی سیکرٹریٹ کیلئے مختص بجٹ 1ارب 30کروڑسے بڑھا کر 1ارب42کروڑ روپے کر دیا گیا، راکین قومی اسمبلی کی تنخواہوں ، الاونسز اور سفری اخراجات پر 1ارب 50کروڑ روپے خرچ ہونگے جو کہ رواں مالی سال 1ارب21کروڑ روپے ہیں ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی صوابدیدی گرانٹس 10لاکھ روپے جبکہ قائد حزب اختلاف کی صوابدادی گرانٹ 6لاکھ روپے ہی رکھی گئی ہے ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور انکے اسٹاف کیلئے مختص بجٹ 4کروڑ66لاکھ روپے سے بڑھا کر 5کروڑ22لاکھ روپے سے زائد کر دیا جائیگا ۔ اپوزیشن لیڈر کے آفس کا بجٹ 1کروڑ48لاکھ روپے سے بڑھا کر 1کروڑ56لاکھ روپے کیا جا رہا ہے، کشمیر کمیٹی کا بجٹ 6کروڑ روپے سے بڑھا کر6کروڑ61لاکھ جبکہ قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کا بجٹ 21روڑ32لاکھ سے بڑھا کر 23روڑ73لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے ، پیپس کا بجٹ 10کروڑ76لاکھ روپے سے بڑھا کر11روڑ38لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے
سینیٹ کا مجموعی بجٹ 1ارب73کروڑ سے بڑھا کر1ارب98کروڑ سے زائد کرنے کی تجویز ہے جس میں سے سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کے اخراجات اور تنخواہوں پر ایک ارب سے زائد خرچ ہونگے ، اراکین سینیٹ کی تنخواہوں ، سفری اخراجات ، الاونسز پر 39کروڑ39لاکھ روپے خرچ ہونگے جوکہ رواں مالی سال 33روڑ روپے تھے ۔
چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی صوبادایدی گرانٹ 10لاکھ روپے ہی برقرار رکھا گیا ہے تاہم چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ذاتی اسٹاف کا بجٹ 3کروڑ94لاکھ سے بڑھا کر 4روڑ71لاکھ روپے کیا جا رہا ہے، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈ ر اور انکے اسٹاف کا مجموعی بجٹ 3کروڑ40لاکھ سے بڑھا کر 3روڑ68لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے ، قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد پر 31کروڑ 90لاکھ کی بجائے 38کروڑ84لاکھ روپے خرچ ہونگے ۔

کابینہ ڈویژن کے بجٹ میں رواں سال کے نظر ثانی شدہ بجٹ میں 95لاکھ روپے کمی کر دی گئی ہے ۔ بجٹ دستاویز کے مطابق کابینہ ڈویژن کا رواں مالی سال کا اصل بجٹ 5ارب 36کرڑ روپے تھا جس میںنظر ثانی کرتے ہوئے اسے 6ارب 59کروڑ کر دیا گیا تاہم آئندہ مالی سال کے بجٹ میں یہ رقم 5ارب64کروڑ روپے کر دی گئی ہے ۔کابینہ کے مرکزی سیکرٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات پر79کروڑ روپے خرچ ہونگے ، کاروں کے سینٹرل پول پر 12کروڑ50لاکھ ، اختیارات کی منتقلی کے سیل کا بجٹ 10کروڑ50لاکھ روپے سے کم کرکے 4کروڑ21لاکھ روپے کر دیا جائیگا ، ڈیپارئمنٹ آف کمیونیکیشن سیکیورٹی پر 8کروڑ روپے سے زائد خرچ ہونگے جبکہ نیشنل ٹیلی کمیونکیشن انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ پر 1روڑ95لاکھ روپے خرچ ہونگے

[pullquote]
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ایوی ایشن ڈویژن کے بجٹ میں 69لاکھ روپے کی کمی کر دی گی ہے ، [/pullquote]

بجٹ دستاویز کے مطابق 9کروڑ30لاکھ روپے کے رواں مالی سال کے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے 8کروڑ61لاکھ روپے کر دیا گیا جس میں سے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں 5کروڑ27لاکھ ، آپریٹنگ اخراجات کی مد میں 2کروڑ87لاکھ روپے خرچ کئے جائینگے

[pullquote]اسلام آباد (نمائندہ خصوصی ) آئندہ مالی سال 2016-17ءکے دوران صوبوں کو قابل تقسیم پول سے 21کھرب35ارب 88کروڑ روپے سے زائد ملیں گے جو کہ رواں مالی سال میں سے 18کھرب 49ارب 40کروڑ روپے کے مقابلے میں 2کھرب 76ارب روپے زیادہ ہے ۔[/pullquote]

بجٹ دستاویز کے مطابق قابل تقسیم پول ٹیکسز میں سے پنجاب کو رواں مالی سال 894ارب65کروڑ روپے کے مقابلے میں آئندہ مالی سال کے دوران 1045ارب ملیں گے ، سندھ کو 482ارب روپے کے رواں مالی سال کے مقابلے میں آئندہ مالی سال 547.8ارب روپے ، خیبر پختونخواہ کو رواں مالی سال300ارب روپے کے مقابلے میں آئندہ مالی سال 346.18ارب روپے جبکہ بلوچستان کو 171ارب روپے کے مقابلے میں آئندہ مالی سال 196.84ارب روپے ملیں گے ، یہ رقم انکم ٹیکس ، کیپٹل ویلیو ٹیکس، سیلز ٹیکس، وفاقی ایکسائز ، کسٹمز ڈیوٹی ، خام تیل پر رائلٹی ، گیس کی ترقی پر سر چارج ، قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی اور خدمات پر جی ایس ٹی کی مد میں ادا کی جائے گی ۔جبکہ صوبووں کو قطعی وفاقی منتقلیوں کی مد میں ادا کی جانیوالی رقم 22کھرب 70ارب روپے سے زائد ہو گی ۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے