جھوٹے لوگ ۔ جھوٹے دعوے

سحری کا وقت تھا ٹی وی پر وزیراعظم نواز شریف کے ٹکرز چل رہے تھے ۔۔رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔۔ دو ٹکرز چلے تھے ابھی ہم اس خوشخبری پر اطمینان کا سانس بھی نہیں لینے پائے تھے۔۔ وزیراعظم کا تیسرا ٹکر سکرین کے کونے سے نمودار ہوا ہی تھا کہ بجلی چلی گئی۔۔لخ دی لعنت۔۔ برجستہ جملہ مایوسی کا اظہار تھا۔ ۔۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔۔ ہر رمضان المبارک میں حکومتوں کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی بند نہیں ہوگی اور یہ بھی کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔۔پیپلز پارٹی کے دور میں جب کبھی کھبی بجلی آ جایا کرتی تھی تب بھی حکمران غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ کہا جاتا تھا کہ لوڈ منجمنٹ ہو رہی ہے۔۔میں آفس پہنچا تو وزارت پانی وبجلی کی طرف سے عوام الناس کیلئے اعلامیہ جاری ہو ا کہ شہروں میں نوے فیصد اور دیہات میں اسی فیصدعلاقوں میں سحری و افطاری کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی۔۔

یہ فرمان بھی بادل نا خواستہ آن ایئر کرنا پڑا کہ وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگا وزارت پانی وبجلی میں آ کر بیٹھ گئے ہیں اور افطاری کے وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے صورتحال کی نگرانی کریں گے۔۔ یہ جھوٹ بھی سامنے آیا ایک سیل قائم ہو گیا ہے جو صارفین کی شکایات درج کرے گا۔۔پھر یوں ہوا کہ پہلا روزے کے افطار کا وقت آ پہنچا۔۔ میں پہلے ہی کولیگز سے کہہ رہا تھا کہ وزارت پانی وبجلی جھوٹ بول رہی ہے۔ لیکن میرے رائے کی پہلی تصدیق گلگت سے ہوئی جہاں سے خبر آئی کہ نواز شریف کالونی میں لوگوں نے بغیر بجلی کے روزہ افطار کیا اور گھنٹوں بجلی بند ہونے سے پانی کی بھی قلت ہے۔۔ پھرسوہاوہ والوں نے دہائی ڈالی کہ افطاری کے وقت بجلی چلی گئی ہے۔ بجلی چلے جانے کی خبروں کا یوں تانتا بندھا کہ وزارت پانی وبجلی کے اعلامیہ پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔۔۔

روات ، کلر سیداں، کورال، باغ ، راولا کوٹ، کھوئی رٹہ،کہوٹہ ، آئی الیون اسلام آباد،مانسہرہ، ایبٹ آباد کے بیشتر علاقے بجلی غائب ہونے کی شکایات کرتے نظر آئے۔۔کچھ عرصہ پہلے سابق سیکرٹری بجلی و پانی نرگس سیٹھی صاحبہ بھی ایسے ہی چھاپے مارنے ، نگرانی کرنے اور بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرتی تھیں تب بھی ۔۔ بجلی تھی کہ شہریوں سے بھاگتی پھرتی تھی۔۔واپڈا حکام نے شہریوں کو چکمہ دینے اورذہنی اذیت کا ایک اور سامان بھی کر رکھا ہے۔۔ بجلی کے بلوں پر متعلقہ فیڈر ، ایس ڈی او اور ایکسئین صاحبان کے فون نمبرز درج کرکے اوپر لکھ دیاجاتا ہے ۔۔ صارفین بجلی کی خرابی اورشکایات کی صورت میں فوری کارروائی کیلئے ان نمبر ز پر رابطہ کریں۔۔مجال ہے جو کوئی افسر یا دفتر ی اہلکار فون اٹینڈ ہی کرلے۔۔

کوئی اگر غلطی سے فون اٹھا بھی لے تو جاپانی وارشل لگا کر فون بند کر لیتاہے۔۔پوری قوم محو حیرت ہے کہ ہمارے ساتھ ہوکیا رہا ہے۔۔الیکشن میں دو سال میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرکے اقتدارمیں آنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے دو سال کو پہلے تین سال پر ٹالا تھا ۔۔ اب یہ دعویٰ دوہزار اٹھارہ تک لے گئے ہیں۔۔اللہ کرے تب تک نواز شریف اپنی ہی حکومت پر کوئی خود کش حملہ کرکے اقتدار سے الگ نہ ہوجائیں ۔۔لوڈ شیڈنگ ذدہ عوام کو اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں سے درمندانہ اپیل کرنی چایئے کہ وہ دو ہزار اٹھارہ تک احتجاج کریں۔ کرپشن کی تحقیقات کرائیں یاکوئی اوراپوزیشن بازی کریں مگر نواز شریف سرکار کو پانچ سال ضرور پورے کرنے دیں تاکہ پیپلزپارٹی کی طرح مسلم لیگ ن کے دعووں کو بھی سچ ہونے کا وقت مل جائے۔۔ پھر نہ کہہ سکیں کہ مدت پوری ہوتی تو لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاتی ۔۔پرویز رشید صاحب نے بھی گزشتہ دنوں نوید سنائی تھی کہ وزیراعظم نواز شریف کے احکامات پر مزید دس ہزار میگاواٹ بجلی تیار کرلی جائے گی جو دو ہزار اٹھارہ میں نیشنل گرڈ میں شامل کردی جائے گی۔۔ہم بجلی کے جاری منصوبوں کے حوالے سے کوئی بد شگونی والی بات نہیں کررہے ۔ بلکہ امید سے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کاعذاب ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔۔ اور اگر پھر بھی بجلی کا یہی حال رہا تو یقینا حکمران یوں بغلیں بجا کر اگر مگر کے سہارے پھر کوئی چال نہیں چل سکیں گے۔۔۔ پاکستان میں بے شمار ایسے قوانین ہیں جو قانون کی کتابوں میں موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔۔

ایسے ہی جھوٹ بولنا بھی کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔۔ورنہ سچ میں اگر حکومت فعال ہوتی تو وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف ،، شور شرابہ کرنے والے وزیر مملکت عابد شیر علی وزارت پانی وبجلی کے حکام سے یہ ضرور پوچھتے کہ آپ کے شکایات سیل کدھر ہیں؟عوام کی داد رسی کیوں نہیں ہو رہی۔۔ بلوں کے اوپر نمبر ز درج ہیں تو فون سنتے کیوں نہیں ہو۔۔ لیکن پوچھیں کیوں وہ تو خود اس جھوٹ میں شامل ہیں۔۔ انھیں بھی پتہ ہے کہ حکومت دعووں کے باوجود توانائی کی کمی پورا کرنے میں ناکام ہے۔۔ وہ اسی لئے جھوٹ بولنے کاکام متعلقہ حکام کو سونپ کر خود چین کی نیند سو جاتے ہیں۔۔پورے ملک کے سرکاری ادارے کام کریں یا نہ کریں واپڈا کے اہلکار قابل تعریف ہیں وہ بجلی بند کرنے کیلئے ہر وقت فیڈرز کے بٹن دبانے کیلئے موجود رہتے ہیں۔۔بجلی بند کرنے کے کام میں چند سیکنڈ کی بھی کوتائی نہیں کرتے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے