عربی زبان، مدراس عربیہ اور ایک نوجوان فاضل کی علمی کاوش

عربی دنیا کی دوسری سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔ پوری دنیا میں 280ملین افراد پیدائشی طور پر اور 250ملین افراد اپنے طور پر سیکھ کر عربی بولتے ہیں۔ دنیا کی اس قدیم ترین اور محفوظ و زندہ زبان کو آج مشرق وسطی اور افریقہ کے تقریباً 30ملکوں کی قومی و سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ ان میں ایسے ملک بھی شامل ہیں جن کی آبادی کی اکثریت مسلمان نہیں ہے۔ عربی سریانی اور عبرانی کی طرح سامی النسل زبان ہے، اس نسل کی مغربی وسطی شاخ سے اس کا تعلق ہے اور اپنے ”خاندان“ کی یہ سب سے بڑی زبان ہے۔ عربی زبان تاریخ میں اپنے وجود کے ابتدائی نقوش سے لے کر اب تک ہر دور میں لہجوں کے معمولی فرق کے ساتھ یکساں ہی رہی ہے۔ یہ غالباً دنیا کی وہ واحد زبان ہے، جس کا دامن تاریخ کے کسی بھی دور میں شعر و ادب کے علمی و فنی سرمائے سے خالی نہیں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے وجود کا جوہر شروع سے اب تک کسی تغیر و تبدل کے بغیر برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس زبان کی سب سے بڑی خوبی اس کی فصاحت، بلاغت اور اس کی وسعت و گہرائی ہے۔ فصاحت کا یہ حال کہ ایک ایک مضمون کی نہایت عمدگی کے ساتھ ہزار رنگی پیش کش میں بھی الفاظ و معانی کی تنگ دامنی کا شکوہ آڑے نہیں آتا۔ بلاغت کا یہ عالم کہ وہ مضمون جس کے بیان کے لیے ہزار صفحے درکار ہوں، دو لفظوں میں اس انداز میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ اس کے فہم میں کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی۔ وسعت کے تو کیا ہی کہنے۔ اس صفت میں دنیا کی کوئی زبان عربی کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتی۔ کہا جاتا ہے کہ عربی حروف تہجی میں سے کوئی تین حرف ملالیے جائیں تو عربی زبان کا ایک با معنی لفظ اور کلمہ وجود میں آجاتا ہے۔ اس سے اس زبان کی وسعت اور گہرائی کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

عربی زبان کو چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں دین اسلام نے اس وقت گود لیا، جب قرآن کریم اس زبان میں نازل ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور نزول قرآن کے بعد اسلام بطور دین متشکل ہوا تو عربی زبان اس کی گویا سرکاری زبان بن گئی، چنانچہ اسلام کے پہلو بہ پہلو یہ زبان بھی پھلتی پھولتی اور سجتی سنورتی تہذیب کے مختلف قرینوں سے آشنا ہوتی رہی۔ دنیا میں بولی جانے والی تمام زبانوں میں گو عربی زبان اس بنا پر سب سے پرانی ہے کہ یہ تقریباً دو ہزار سال سے باقاعدہ گفت و شنید کی زبان ہے، فارسی گیارہ صدیوں سے بولی اور سمجھی جاتی ہے، جبکہ انگریزی کی عمر یہی کوئی چھ سات صدی ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ محمد عربی سے ہے عالم عربی۔ اگر محمد عربی تشریف نہ لاتے تو یہ زبان بھی جزیرہ نمائے عرب کے صحراو¿ں میں کچھ صدیوں کی عمرگزار کر اپنے بولنے والوں سمیت فنا کے گھاٹ اتر جاتی۔ عربوں کی تاریخ میں ایسی اقوام بھی گزری ہیں، جنہیں ”عرب بائدہ“ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عرب اقوام ہیں، جن کے حالات میں تاریخ صرف اس قدر شہادت پیش کرتی ہے کہ وہ ہلاک ہوگئیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ اس کے سوا تاریخ ان کے متعلق مستند تفصیلی احوال بتانے سے قاصر ہے۔ عالم یہ ہے کہ آج عرب خطوں میں کہیں کہیں کھدائیوں سے ہی ان کے ہلاکت نشان آثار سے تاریخ کے عمل میں ان کے گزرنے کا سراغ ملتا ہے۔ چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں ظہور اسلام کے ساتھ دراصل عربی زبان کی تاریخ کا نیا موڑ شروع ہوتا ہے۔ عربی زبان کی تاریخ میں یہ موڑ نہ آتا، تو کچھ بعید نہ تھا کہ عرب عاربہ اور عرب مستعربہ بھی اپنی طبعی عمر گزار کر تکوین کے عام اصول کے مطابق عرب بائدہ کے انجام سے دوچار ہوجاتے۔ یوں آج دنیا اس ملکوتی جلال و جمال اور فصاحت و بلاغت کی معجزانہ صفات کی حامل اہم زبان سے محروم ہوتی۔

اسلام میں اہم مقام حاصل ہونے کے بعد اہل اسلام نے عربی زبان سے کچھ اس طرح تعلق خاطر بنایا، برتا اور نبھایا کہ دنیا کی کوئی اور زبان قیامت تک اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اس زبان کے پیدائشی طور پر تکلم کرنے والوں نے اس کی حفاظت و ترویج میں بلاشبہ دوسری زبانوں سے وابستہ اقوام و افراد کی طرح تندہی اور مخلصی سے کام لیا، مگر محض اسلام کے رشتے سے جس طرح غیر اہل زبان نے اس کی متنوع خدمت کی، اس کا دائرہ اہل زبان کی خدمات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ بطور زبان ہر زاویہ نگاہ سے اس کی خدمت انجام دینے کے لیے علوم کی نئی نئی شاخیں تراشی گئیں، چنانچہ محض عربی زبان سے وابستہ علوم کو دیکھا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے، جیسے علم الاشتقاق، علم الصرف، علم النحو، علم البیان، علم المعانی، علم البدیع وغیرہ۔ یہ سارے علوم جو عربی زبان کا ہی طواف کرتے ہیں، ان کے بنیاد گزاروں اور ترویج کاروں میں زیادہ تر غیر اہل زبان کا ہی نام آتا ہے، یعنی وہ جن کی مادری زبان عربی نہ تھی۔ عربی زبان کے ان تمام خادم علوم میں جن شخصیات کی مہارت کو امامت کا درجہ حاصل ہوا، ان میں بیشتر غیر عرب ہیں۔ اس کی وجہ بالکل واضح اور منطقی ہے۔ اسلام اور قرآن کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے عربی زبان پر عبور لازم ہے۔ بلاشبہ اس زبان کے محاورے، اس کے ماحول، اس کے الفاظ کی نسل، خاصیات اور استعمال کے موقع و محل کو سمجھے بغیر اسلام کے ذخیرہ تعلیمات سے کماحقہ آشنائی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ اہل زبان کے لیے قرآن کی زبان اور محاورے کو گرفت میں لینا کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا۔ وہ ذرا توجہ، دھیان اور محنت کے ذریعے اس کی کنہ کو پاسکتے تھے، مسئلہ غیر اہل زبان کے لیے تھا، جس کے حل کے لیے انہوں نے اس زبان کے ”بحر الکاہل“ میں شناوری کی ٹھانی اور علوم و فنون کے وہ وہ موتی ڈھونڈ لائے کہ اہل زبان بھی اش اش کر اٹھے۔

عربی زبان و ادب سے منسلکہ خدمات کو عموماً پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے، پہلا دور قبل از اسلام کا ہے۔ اس دور میں تشکیل دیا گیا اثاثہ جاہلی ادب کہلاتا ہے، جو نثر کم شعر پر زیادہ مشتمل ہے۔ دوسرا دور اموی عہد اقتدار کو محیط ہے۔ اس دور میں پہلی بار باقاعدہ عربی ادب تشکیل پایا اور بطور فن نثری و شعری ادب پارے تخلیق کیے گئے۔ تیسرا دور بنی عباس۔ چوتھا دورِ اندلس ہے، جس میں فاطمین مصر اور عثمانی سلاطین کا عہد بھی شامل ہے، جبکہ پانچواں دور جدید ادب کا ہے۔ اس وقت ہم عربی کے جدید ادب کے دور میں ہیں۔ عربی ادب میں جدت کی بنیاد Colonial دور میں پڑی۔ یہ وہ دور تھا، جب استعمار کے زیر اثر مفتوح اقوام میں دو متوازی اور متزاحم فکری لہریں زوروں پر تھیں۔ اس دور میں تشکیل پانے والا عربی ادب ان دونوں متضاد فکری لہروں کے دوش پر سوار نظر آتا ہے۔ عہد استعمار کے خاتمے کے بعد جدید عربی ادب مزید نکھر کر سامنے آیا اور زبان کے پیکر نے سلیقہ¿ اظہار کا نیا خوبصورت پیرہن اختیار کرلیا۔ مصر کے ادیب و شاعر بلاشبہ انتداب، انقلاب اور ما بعد استعمار کے ادوار کی بالکل مختلف گودیوں میں پروان چڑھنے والے اس جدید عربی ادب کے سرِ خیل مانے جانے کے قابل ہیں۔ ان کا ادب فکر و نظر کا وقیع علمی سرمایہ اپنے وجود میں سموئے ہوئے ہے۔ اگرچہ ادب کا وہ پرانا ذوق اب نہیں رہا، تاہم مصر کے مفکرین کی ادبی تخلیقات کا سحر اب بھی پوری طرح قائم ہے۔

برصغیر پاک و ہند کے عربی مدارس بھی ایک بالکل اجنبی ماحول و سماج میں عربی زبان کے فروغ میں اپنے دائرہ کار کے مطابق کردار ادا کر رہے ہیں۔ درس نظامی سے جڑے ہوئے ہمارے خطے کے روایتی مدارس عربیہ کا بنیادی مقصد چونکہ ”قرآن و سنت“ کی ترویج و اشاعت ہے، اس لیے عربی زبان کی بطور زبان خدمت یہاں ثانوی اور ضمنی درجے میں ہی انجام پاتی ہے۔ مدارس کے نظام و نصاب میں اگرچہ جس قدر کتابیں شامل ہیں، وہ سب عربی میں ہیں، مگر چونکہ ان مدارس میں عربی تدریس کی زبان نہیں، اس کے ساتھ ساتھ عربی کو ابتدائی تعلیمی درجات میں بطور زبان صرف ایک مضمون کی حیثیت سے ہی توجہ ملتی ہے، اس لیے ”مدارس عربیہ“ کے فضلا عربی زبان میں گفتگو، تحریر اور تقریر کی صلاحیت سے عموماً محروم ہوتے ہیں۔ ان کی ساری عربی دانی متعلقہ کتابوں کے متن، حاشیوں، بین السطور اور زیادہ سے زیادہ شرحوں تک ہی مار کرتی ہے، اس سے آگے بلکہ زیادہ تر صحیح معنوں میں اس سے باہر ان کی زبان گنگ رہ جاتی ہے۔ یہ ”مدارس عربیہ“ کے نظام و نصاب کا بہت بڑا خلا ہے اور بڑی ناکامی ہے۔ تاویلاتِ باردہ کے خوشنما سے خوشنما پردے میں بھی اس نقص کو نہیں چھپایا جا سکتا۔ اہل مدارس کو انکار کی روش اپنانے کے بجائے کھلے دل سے ناکامی تسلیم کرکے اپنی صفوں کو پھر سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات کسی قدر اطمینان کے قابل ہے کہ کچھ عرصے سے بعض مدارس میں عربی کو بطور زبان بھی خصوصی اہمیت دی جانے لگی ہے، جس کے نتیجے میں جدید فضلائے مدارس میں عربی زبان سے لگاو¿، اس کی ضرورت و اہمیت کا احساس پہلے کی نسبت زیادہ پایا جا رہا ہے، اگرچہ اس احساس و شعور کی کچھ وجوہات اس کے علاوہ بھی ہیں۔

مولانا عبد الحئی چترالی دار العلوم کراچی کے نوجوان فاضل ہیں اور جدید فضلائے مدارس کے اسی قلیل گروہ کی نمائندگی کرتے ہیں جو عربی زبان کا اچھا ذوق اور شعور رکھتے ہیں۔ وہ ایک ملک گیر تعلیمی نیٹ ورک میں عربی زبان کی تدریس، تحقیق اور ترجمے کی خدمات سے وابستہ ہیں اور اب ما شاءاللہ طلبہ میں عربی زبان کی تحریری استعداد پیدا کرنے کے لیے عرق ریزی سے ترتیب دی گئی کتاب کے مصنف بھی بن گئے ہیں۔ ”الرائد فی التحریر العربی“ کے نام سے لکھی گئی ان کی کتاب میرے ہاتھوں میں ہے۔ کتاب میں مستند مراجع سے استفادے کے ذریعے عربی میں مضمون نویسی کے جدید اسالیب سکھانے کا التزام کیا گیا ہے۔ کتاب میں جدید قواعد املا بھی شامل ہےں اور ساتھ ہی عربی بولتے ہوئے عام طور پر کی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔کتاب پر جدہ میں قائم ”مرکز خدمة اللغة العربیہ“ نے نظرثانی کی ہے۔ کتاب کے مشمولات و مضامین کے پر اثر ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ عالم اسلام کی اہم علمی شخصیت مفتی محمد تقی عثمانی، عربی زبان کی ایک متداول نصابی کتاب کے مصنف مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، جامعہ ازہر میں لسانیات کے پروفیسر ڈاکٹر علی شعبان، شاہ سعود یونی ورسٹی جدہ کے شعبہ عربی کے سربراہ ڈاکٹر خالد بن عائش الحافی، دار العلوم کراچی کے استاذ عربی شیخ محمود التونسی اور مدرسہ ابن عباس کے شیخ عبد المعز التونسی نے ان پر اعتماد و اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ یہ کتاب ”دار الخدمة اللغة العربیہ“ نے خاص اہتمام کے ساتھ شایع کی ہے۔ امید ہے کہ تعلیم و تدریس سے منسلک حضرات کے لیے یہ کتاب اہم رہنما ثابت ہوگی۔ فیس بک پر مصنف سے کتاب کے متعلق اس ایڈریس کے ذریعے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں:

https://www.facebook.com/abdulhai.chitrali.9?fref=ts

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے