رمضان میں کرنے کے کام

چند دن پہلے خاتون جنت حضرت بی بی فاطمة الزہرا ؓکے حوالے سے ایک آرٹیکل پڑھا۔ اس میں ایک چھوٹا سا واقعہ لکھاتھا، پڑھ کر آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ کسی نے بی بیؓ سے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس چالیس اونٹ ہیں، زکوٰة میں کتنے اونٹ بنتے ہیں۔ سیدہؓ کا جواب تھا، تمہارے لئے ایک اونٹ، لیکن اگر میرے پاس چالیس اونٹ ہوتے تو تمام کے تمام راہ خدا میں دے ڈالتی“۔ بے شک آپؓ نے سچ کہا۔ اللہ کے آخری رسولﷺ کے اصحاب اور اہل بیت میں سے بہت سوں کا رویہ یہی رہا کہ جو کچھ ہے، وہ راہ خدا میں لٹا دیا۔ سیدنا عمرؓ اپنے دور خلافت میں ایک بار نامور صحابی حضرت ابو عبیدہ ؓ کے گھر گئے تو ایک آدھ کھانے پینے کے برتن، سونے کے بوریا نما بستر کے سوا گھر میں کچھ نہیں تھا،دیکھ کرآنکھیں بھیگ گئیں۔ یہ تو وہ لوگ تھے جن کی زندگیاں صرف اور صرف آخرت کی کمائی کمانے کے لئے وقف تھیں۔ دنیا کو وہ حقیقتاً سرائے سمجھتے اور اپنے ہر عمل کو روز آخرت کی روشنی میں دیکھتے۔ بعد کی نسلوں میں بھی جن کو اللہ نے توفیق دی، وہ اسی سلسلے پر چلے، جو کچھ اضافی پایا، وہ راہ خدا میں چپکے سے دے دیا۔ ہم ایسے دنیا داروں کے لئے البتہ مشکل ہے کہ دنیا ہمیں بری طرح کھینچتی ہے، بلکہ بے رحم سچائی تو یہ ہے کہ ہم خود ہی گردن گردن تک اس دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ یوم ِ آخرت پر ایمان تو ہے مگر اس کی خاطر محنت، ایثار اور قربانی کرنے کو قطعی طور پر تیار نہیں۔ نفس اس قدر موٹا ہوچکا کہ اب اسے مارنا تو درکنار، اس سے لڑنے کے ارادے کی بھی ہمت نہیں۔ ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟

رمضان سے ایک دن پہلے ہمارے ملتانی دوست اور فیس بک کے مشہور بلاگر حافظ صفوان چوہان نے ایک مختصر مگر نہایت پراثر پوسٹ کی، چند سطروں میں ایسا لائحہ عمل تجویزکیا، جس پر عمل کیا جائے تو زندگی کے معمولات میں نہایت خوشگوار، بامعنی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔ حافظ صاحب لکھتے ہیں:

”سب احباب سے درخواست ہے کہ رمضان المبارک میں اللہ میاں کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل کر لیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب دوست اپنا اپنا ایکسرے لے لیں اور اپنی بیماری کی خود تشخیص کرکے اسے دورکرنے کی کوشش کریں۔ جو دوست عمل کی جس سطح پر ہے اس سے ایک قدم آگے بڑھا لے، مثلًا جو بالکل نماز نہیں پڑھتا، وہ روزانہ ایک نماز شروع کر دے، جو ایک نماز پڑھتا ہے وہ دو شروع کر دے، جو ایک نماز جماعت سے پڑھتا ہے وہ دوسری بھی شروع کر دے، جو کبھی قرآن نہیں پڑھتا، وہ دن میں دو تین مرتبہ ایک ایک صفحہ شروع کر دے، جو پہلے قرآن پڑھتا ہے وہ دن میں دو تین رکوع ترجمے کے ساتھ پڑھ لیا کرے۔ جسے سنت دعائیں کم یاد ہیں وہ ہر دوسرے دن ایک چھوٹی سی دعا یاد کر لیا کرے۔ جو بہت لاپروا اورکنجوس ہے وہ کسی سفید پوش غریب مریض کی تھوڑی سی مدد کر دیا کرے وغیرہ وغیرہ۔ نیز روزانہ ایک چھوٹا گناہ چھوڑنے کی مشق بھی کیجیے۔ ایک ایک کرکے گناہ چھوڑتے رہیںگے تو اللہ توبہ کی توفیق بھی دے دے گا۔ زبان کے گناہ پہلے نمبر پر چھوڑنے کی کوشش کریں۔ نیکی اختیارکرنا اور گناہ چھوڑنا اگر تدریجاً ہو تو ان شاءاللہ رمضان کے بعد بھی نیکیاں جاری رہ سکتی ہیں اورگناہوں سے بچا جا سکتا ہے“۔

دنیا بھر میں ایک تحریک چل رہی ہے کہ اپنے کچھ اخراجات کم کر کے ہرماہ آمدنی کا ایک فکس حصہ چیریٹی کے لئے مختص کر دیا جائے۔ یہ دس فیصد فارمولا بھی دلچسپ ہے کہ اپنی تنخواہ یا آمدنی کے نوے فیصد میں گزارا کرنا سیکھیں اور باقی دس فیصد کو سمجھیںکہ وہ تنخواہ یا آمدنی کا حصہ ہی نہیں۔ جیسے کسی کی تنخواہ یا ماہانہ آمدنی پچاس ہزار ہے، تو وہ اپنی آمدنی پنتالیس ہزار تصورکرے اور اسی میں اپنا بجٹ بنائے۔ ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو پچیس تیس ہزار آمدنی سے بھی دس فیصد الگ کر لیتے ہیں۔ فلسفہ وہی ہے کہ اگر آمدنی ہو ہی اتنی تو پھر بھی گزارا جیسے تیسے ہو ہی جاتا ہے۔ تھوڑی آمدنی والے دس فیصدکی جگہ پانچ یا ڈھائی فیصد سے کام چلا لیں۔ جن کی تنخواہ یا ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے زائد ہے، انہیں تو خیر دس فیصد کی ہر ماہ چیریٹی کرنا چاہیے۔ نوے ہزار میں گزارہ کرنے کی عادت ڈالیں، اسی طرح ڈیڑھ یا دو لاکھ روپے ماہانہ آمدنی والے بآسانی ایک لاکھ پینتیس یا پونے دو لاکھ میںگزر بسر کر سکتے ہیں۔

اگلے روز ایک دوست ملنے آئے، بتایا کہ انہوں نے اپنے چند دوستوں اور عزیز واقارب کے ساتھ مل کر ایک چھوٹا سا ادارہ بنا لیا ہے۔ عطیات جمع کر کے وہ اہل محلہ اور اپنے کم وسیلہ رشتے داروں کے گھر یوپی ایس لگوا کر دے رہے ہیں تاکہ اس شدید گرمی میں وہ لوڈ شیڈنگ سے محفوظ رہ سکیں۔کہنے لگے کہ بیس سے پچیس ہزار میں ایک مناسب گھرکا سیٹ اپ بن جاتا ہے۔ کوئی چاہے تو یوپی ایس اور بیٹری خرید کر پورا سیٹ اپ لگوا دیتے ہیں، ورنہ پیسے دے دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے بعض عزیز خیرات لینے پر آمادہ نہیں تھے، ان کے لئے ایک اور طریقہ نکالا کہ یوپی ایس لگوا دیا اور پھر یہ آپشن دے دی کہ ہرماہ ایک ہزار روپے قسط دےتے رہیں۔ قسط اتنی آسان رکھی کہ کسی کو دقت نہ ہو، مگر یہ بات ذہن میں رکھی کہ کوئی دے سکے تو ٹھیک ہے نہ دیا تو خود سے نہیں مانگنا۔
میرا خیال ہے کہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ عطیات کے لئے مختص کرنے کا آئیڈیا شاندار ہے، رمضان میں اس کا آغاز کر دینا چاہیے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان میں بہت سے اچھے ادارے غیرمعمولی نیک کام کر رہے ہیں، ان کو مضبوط بنایا جائے، مستقل اعانت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ اخوت کے بلاسود قرضوں کے بارے میں کچھ کہنے کی اب گنجائش ہی نہیں۔ اخوت تو ایک طرح سے نیکی کا برانڈ نیم بن چکا ہے، ڈاکٹر امجد ثاقب اس کے بانی ہیں، پروفیسر ہمایوں احسان، ڈاکٹر اظہار ہاشمی، سلیم رانجھا صاحب اس کے بانی ڈائرکٹر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سب کو اجر دے۔ غزالی ٹرسٹ سکولزکے سید عامر محمود سے جب ملاقات ہو، غزالی کے کسی نہ کسی نئے پراجیکٹ کا ذکر کرتے ہیں تو روح سرشار ہوجاتی ہے۔ غزالی ٹرسٹ کے672 سکولوں میں پچھتر ہزار سے زیادہ بے وسیلہ طالب علم استفادہ کر رہے ہیں، بیالیس ہزار یتیم بچوں کی مدد ہو رہی ہے، اب تو غیر مسلموں خاص کر جنوبی پنجاب میں ہندو بچوںکے لئے بھی سکول کھولے جا چکے ہیں۔ مشہور آئی سرجن پروفیسر ڈاکٹر انتظار بٹ نے نادار مریضوں کی مدد کے لئے پی او بی (Prevention of blindness) کا ادارہ بنا رکھا ہے، پچاس ہزار سے زیادہ مریضوں میں سفید موتیے کے مفت آپریشن کئے جا چکے ہیں، لاکھوں مریضوں کی مدد اس ادارے نے کی ہے۔ سوڈان، صومالیہ، نائجیریا اور دیگر افریقی ممالک میں غریب مریضوں کے مفت آپریشن کے لئے ان کی ٹیمیں جاتی ہیں۔ الخدمت فاﺅنڈیشن بھی پاکستان میں ایدھی اور اخوت کی طرح کا ایک جگمگاتا برانڈ بن چکا ہے۔ اس کے ان گنت پراجیکٹ ملک کے مختلف علاقوں میں چل رہے ہیں، عبدالشکور صاحب آج کل الخدمت کے صدر ہیں؛ شفقت، نرمی اور حلاوت کا پیکر۔ ڈورز آف اویئر نیس لاہور کی ایک نیک دل خاتون مسز ہمایوں نے شروع کیا تھا۔ جھگیوں میں رہنے والوں کے بچوںکی مفت تعلیم کے لئے سکول بنائے گئے۔ ان سکولوں کی تقریبات میں شریک ہوتا رہا ہوں، ایسا عمدہ کام کہ جی خوش ہو جاتا ہے۔ کراچی میں سیلانی ٹرسٹ بہت بڑا خیراتی ادارہ ہے جو ہرسال ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو افطاری کراتا ہے۔ سیلانی ٹرسٹ نے لاہور میں بھی کام شروع کر دیا ہے۔ مولانا ضیاءاللہ نقشبندی نے دو روز پہلے اس کی کچھ تفصیل بتائی ۔ سیلانی کا کام اس قدر بڑا اور متنوع ہے کہ اس کے لئے میگزین کے فیچرکی ضرورت ہے۔ ایسے بہت سے ادارے پاکستان کے مختلف شہروں میں کام کر رہے ہیں۔ ہم سب کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔ حکومتوں کی سفاکانہ نااہلی اور سرد مہری کے بعد یہ اچھے ادارے ہی بے وسیلہ لوگوں کی امید کا مرکز بنے ہیں۔ ان چراغوں کو بجھنا نہیں چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے