زکوٰۃ کی ادائیگی سے متعلق چند اہم مسائل

رمضان المبارک میں عموماً لوگ زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے عموماً پیش آنے والے چند سوالات کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے۔ یہ بات بطور اصول پیش نظر رہے کہ فروعی فقہی مسائل اجتہادی واختلافی ہوتے ہیں اور ان میں ہمیشہ ایک سے زیادہ آرا اہل علم میں موجود ہوتی ہیں۔ جو مسائل ذکر کیے جا رہے ہیں، ان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ میں اپنے فہم کے مطابق راجح فقہی اقوال کا ذکر کر رہا ہوں جو احادیث وآثار کے معروف مجموعہ ’’مصنف ابن ابی شیبہ’’ سے نقل کیے گئے ہیں۔ پڑھنے والوں کے معتمد مفتی حضرات کا فتویٰ اس سے مختلف ہو تو وہ اس پر عمل کریں اور اختلاف سے متوحش نہ ہوں۔

[pullquote]۱۔ قرض کی زکوٰۃ
[/pullquote]

اگر آپ نے کسی کو بطور قرض رقم دے رکھی ہو اور اس کی واپسی میں سال سے زیادہ عرصہ گزر جائے تو رقم واپس ملنے تک درمیانی عرصے کی زکوٰۃ کی ادائیگی آپ پر لازم نہیں۔ جس سال رقم واپس ملے، صرف اس سال کے حساب میں شمار کر کے زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔
اس حوالے سے مصنف ابن ابی شیبہ کے بعض آثار حسب ذیل ہیں۔
۱۰۳۵۸۔ ابو الزناد روایت کرتے ہیں کہ عکرمہ نے کہا: قرض دی ہوئی رقم پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
۱۰۳۵۹۔ ابن ابی ملیکہ روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: قرض دی ہوئی رقم جب تک آدمی کو واپس نہ ملے، اس پر زکوٰۃ نہیں۔
۱۰۳۶۰۔ عثمان بن الاسود بیان کرتے ہیں کہ عطاء نے کہا: جب تک آدمی کو قرض کی رقم واپس نہ مل جائے، وہ اس کی زکوٰۃ نہ دے۔

[pullquote]2۔ حکومتی محصولات کو زکوٰۃ میں محسوب کرنا
[/pullquote]

حکومت نے زکوٰۃ کے علاوہ کچھ زائد محصولات یا ٹیکسز عائد کر رکھے ہوں تو ان میں ادا کردہ رقم زکوٰۃ میں محسوب کی جا سکتی ہے۔
اس ضمن کے بعض آثار حسب ذیل ہیں۔
۱۰۳۹۳۔ عبد العزیز بن صہیب بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری نے کہا کہ تم سے پلوں پر جو کچھ وصول کیا جاتا ہے، اس سے تمھاری زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔
۱۰۳۹۴۔ مغیرہ کا بیان ہے کہ ابراہیم نخعی نے کہا کہ محصول لینے والے تم سے جو کچھ لیتے ہیں، اسے اپنے مال کی زکوٰۃ شمار کر لیا کرو۔
۱۰۳۹۵۔ زبرقان کہتے ہیں کہ میں نے ابو رزین سے پوچھا کہ محصول لینے والے، تاجروں سے جو کچھ وصول کرتے ہیں، (اس کا کیا حکم ہے)؟ انھوں نے کہا کہ آدمی اسے اپنی زکوٰۃ میں شمار کر لے۔
۱۰۳۹۶۔ ابو ہاشم بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم نخعی اور حسن بصری نے کہا کہ محصول لینے والا تم سے جو کچھ وصول کرے، اسے اپنی زکوٰۃ میں شمار کرلو۔
۱۰۳۹۷۔ منصور نے ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے کہ آدمی اس کو اپنی زکوٰۃ میں شمار کر لے۔
۱۰۳۹۸۔ ہشام نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ جب آدمی محصول لینے والے کے پاس سے گزرے اور وہ اس سے محصول وصول کر لے تو آدمی اسے اپنی زکوٰۃ میں شمار کر لے۔
۱۰۳۹۹۔ عبد العزیز بن عبد اللہ نے نقل کیا ہے کہ شعبی نے اس آدمی کے متعلق جو محصول لینے والے کے پاس سے گزرے اور وہ اس سے محصول وصول کر لے، کہا کہ جو کچھ وہ لیں، آدمی اسے اپنی مال کی زکوٰۃ میں شمار کر لے۔
۱۰۴۰۰۔ سالم کا بیان ہے کہ سعید بن جبیر نے کہا کہ آدمی اسے اپنی زکوٰۃ میں شمار کر لے۔
۱۰۴۰۱۔ عبد الملک کہتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ محصول لینے والا تم سے جو کچھ لے، اسے اپنی زکوٰۃ میں شمار کر لو۔

[pullquote]3۔ زکوٰۃ کس کو دی جا سکتی ہے؟
[/pullquote]

زکوٰۃ کے استحقاق کا تعلق ہر جائز اور مشروع ضرورت سے ہے۔ ضروری نہیں کہ بالکل بھوکے ننگے یا نان شبینہ کے محتاج کو ہی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ اگر روز مرہ زندگی کی ضروریات کے علاوہ بھی کسی کو احتیاج ہو تو اسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے متعلقہ آثار حسب ذیل ہیں۔
۱۰۵۱۶۔ جعفر کا بیان ہے کہ سعید بن جبیر نے کہا کہ جس کے پاس گھر بھی ہو اور خادم اور گھوڑا بھی، اسے (دیگر ضروریات کے لیے) زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
۱۰۵۱۷۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ لوگ ایسے افراد کو زکوٰۃ دینے سے گریز نہیں کرتے تھے جن کے پاس گھر اور خادم ہو۔
۱۰۵۱۸۔ یونس کی روایت ہے کہ جس شخص کے پاس خادم اور اپنا گھر ہو، اگر وہ ضرورت مند ہو تو حسن بصری اسے زکوٰۃ دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
۱۰۵۱۹۔ شبیب بن عبد الملک کہتے ہیں کہ میں نے مقاتل بن حیان سے اس شخص کے بارے میں جس کا نام ’دیوان‘ (سرکاری رجسٹر) میں ہو اور اسے (بیت المال سے) وظیفہ بھی ملتا ہو اور اس کے پاس گھوڑا بھی ہو، لیکن وہ ضرورت مند ہو، پوچھا کہ کیا میں اسے زکوٰۃ دے سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا کہ ہاں۔
اس ضمن میں عموماً جو یہ بات کہی جاتی ہے کہ جو شخص خود نصاب زکوٰۃ کا مالک ہو یعنی اس پر زکوٰۃ واجب ہو، وہ زکوٰۃ وصول نہیں کر سکتا، وہ عمومی حالات کے لحاظ سے درست ہے، لیکن بعض ہنگامی یا غیر معمولی نوعیت کی ضرورتیں (مثلاً بیماری کا علاج یا بچوں کی شادی وغیرہ) ایسی ہو سکتی ہیں جن میں خود زکوٰۃ کے کم سےکم نصاب کا مالک ہونے کے باوجود کوئی شخص ضرورت مند ہو۔ ایسے لوگ بھی اسی اصول کے تحت مستحق زکوٰۃ ہوں گے۔

[pullquote]4۔ گمراہ فرقوں سے تعلق رکھنے والے محتاج افراد کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے.
[/pullquote]

۱۰۵۳۷۔ فضیل کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے گمراہ فرقوں کے پیروکاروں (کو زکوٰۃ دینے) کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ لوگ کسی ضرورت ہی کے تحت سوال کیا کرتے تھے (یعنی ان لوگوں کو بھی ان کی ضرورت کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے)۔

[pullquote]5۔ زیر کفالت اقربا پر زکوٰۃ خرچ کی جا سکتی ہے.
[/pullquote]

اگر آپ کے زیر کفالت کچھ ایسے اقربا ہیں جن کی کفالت اصولاً آپ کی ذمہ داری نہیں، یعنی معمول کی شرعی ذمہ داری کے علاوہ کوئی زائد ذمہ داری آن پڑی ہے تو ان کی کفالت پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے بعض آثار ملاحظہ ہوں۔
۱۰۶۳۲۔ ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ میری پرورش میں میرے بھتیجے ہیں جن کے ماں باپ زندہ نہیں تو اگر میں اپنے زیورات کی زکوٰۃ ان پر صرف کروں تو کیا میری زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔
۱۰۶۳۴۔ عبد الخالق شیبانی بتاتے ہیں کہ سعید بن المسیب نے کہا کہ میں جن لوگوں کو زکوٰۃ دیتا ہوں، ان میں سب سے زیادہ حق میرے زیر پرورش یتیموں اور میرے قرابت داروں کا ہے۔
۱۰۶۳۵۔ علقمہ بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے ان سے اپنے یتیم بھتیجوں کے متعلق، جو ان کی پرورش میں تھے، پوچھا کہ کیا وہ انھیں زکوٰۃ دے سکتی ہیں؟ عبد اللہ نے کہا کہ ہاں۔

[pullquote]6۔ فصل کے اخراجات منہا کرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کی جائے.
[/pullquote]

اگر کسی کے پاس قابل کاشت زمین ہو اور وہ اس میں کوئی فصل اگائے تو فصل آنے پر، فصل کی تیاری پر جتنے اخراجات کیے گئے ہوں، وہ منہا کرنے کے بعد باقی فصل کا عشر ادا کیا جائے۔
آثار ملاحظہ ہوں۔
۱۰۱۹۱۔ حبیب المعلم بیان کرتے ہیں کہ عطاء سے پوچھا گیا کہ آدمی اگر کھیتی کاٹنے والوں اور بیج بونے والوں کی اجرت ادا کرے تو کیا اسے ان کو ادا کردہ اجرت پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی؟ عطاء نے کہا کہ نہیں۔ زکوٰۃ بس اس مقدار پر ہے جو (اخراجات منہا کرنے کے بعد) تمھارے پاس بچ جائے۔
۱۰۱۹۲۔ جابر بن زید اس شخص کے متعلق جس نے اپنی پھلوں کی فصل پر اخراجات کیے ہوں، عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ نقل کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ (ساری فصل کی) زکوٰۃ ادا کرے جبکہ دوسرے نے کہا کہ وہ اخراجات کو منہا کر کے باقی فصل کی زکوٰۃ ادا کرے۔
۱۰۱۹۳۔ عبد الملک کا بیان ہے کہ عطاء بن ابی رباح نے کہا کہ بیج اور دوسرے اخراجات کو منہا کر لو اور باقی فصل کی زکوٰۃ ادا کر دو۔

[pullquote]7۔ یتیم بچوں کے مال پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی.
[/pullquote]

اگر کسی کی کفالت میں یتیم بچے ہوں اور وہ ان کے مال کی بھی دیکھ بھال کر رہا ہو تو بچوں کے بالغ ہونے تک ان کے مال میں زکوٰۃ واجب الادا نہیں ہوتی۔
متعلقہ آثار درج ذیل ہیں۔
۱۰۲۲۱۔ مجاہد روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ یتیم کے مال میں جو زکوٰۃ واجب ہو، اسے شمار کرتے رہو۔ جب وہ بالغ ہو جائے اور اس میں سمجھ داری نظر آنے لگے تو اسے بتا دو۔ پھر وہ چاہے تو زکوٰۃ ادا کرے اور چاہے تو نہ کرے۔
۱۰۲۲۲۔ منصور نقل کرتے ہیں کہ ابراہیم نخعی نے کہا کہ یتیم جب تک بالغ نہ ہو جائے، اس کے مال میں زکوٰۃ نہیں۔
۱۰۲۲۴۔ ہشام روایت کرتے ہیں کہ حسن بصری نے کہا: یتیم جب تک بالغ نہ ہو جائے، اس کے مال میں زکوٰۃ نہیں۔
۱۰۲۲۶۔ حکم بیان کرتے ہیں کہ یتیم کے مال کے متعلق شریح نے کہا کہ اگر تم اس میں سے ایک اور دو اونٹ (ہر سال) نکالتے رہو گے تو قریب ہے کہ اس میں سے کچھ بھی نہ بچے۔
۱۰۲۲۷۔ جابر روایت کرتے ہیں کہ شعبی نے کہا: یتیم کے مال میں زکوٰۃ نہیں۔
۱۰۲۳۱۔ عاصم بیان کرتے ہیں کہ ابو وائل نے کہا کہ میری پرورش میں ایک یتیم تھا جس کے پاس آٹھ ہزار (درہم) تھے۔ میں نے ان کی زکوٰۃ نہیں نکالی، یہاں تک کہ جب وہ بالغ ہو گیا تو میں نے وہ رقم اسے دے دی۔

[pullquote]8۔ خواتین کے زیورات کی زکوٰۃ.
[/pullquote]

یہ مسئلہ خاصا نزاعی ہے اور سلف میں اس کے متعلق کافی اختلاف رہا ہے۔ صحابہ وتابعین کی ایک جماعت خواتین کے پہننے کے زیورات پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کی قائل ہے، جبکہ دوسری جماعت کے نزدیک ان پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ (زندگی میں) بس ایک دفعہ ان کی زکوٰۃ ادا کر دینا کافی ہے۔

میرا طالب علمانہ رجحان یہ ہے کہ اصولاً روز مرہ استعمال کے زیورات پر زکوٰۃ عائد نہیں ہوتی۔ ان کا حکم وہی ہے جو ذاتی استعمال کی دوسری اشیائے ضرورت کا ہے۔ تاہم اس میں اس حوالے سے اجتہادی طور پر تحدید کی گنجائش بلکہ ضرورت ہے کہ وہ زیور واقعتاً استعمال کے لیے ہو نہ کہ زر اندوزی کے مقصد سے جمع کیا گیا ہو۔ چنانچہ مثال کے طور پر ہر وقت پہنے جانے والے یا شادی بیاہ کی تقریبات میں زیر استعمال والے زیورات کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہونا چاہیے۔ اسی طرح زیور کی مقدار کی تحدید بھی ہونی چاہیے تاکہ اس سے زیادہ زیور اگر کسی کے پاس ہو تو اسے قابل زکوٰۃ تصور کیا جائے۔ اس ضمن میں حکومت قانون سازی کر کے مختلف معاشی سطحوں پر لوگوں کی آمدن کے لحاظ سے مختلف نصاب مقرر کر سکتی ہے۔ جب تک ایسا نہ ہو، لوگ اپنی ذاتی حیثیت میں دیانت داری سے خود اپنے لیے کوئی حد طے کر لیں اور اس سے زائد زیورات کی زکوٰۃ ادا کر دیا کریں۔

[pullquote]9۔ قابل وصول قرض کی رقم زکوٰۃ میں سے منہا کی جا سکتی ہے.
[/pullquote]

اگر آپ کا کسی کے ذمے قرض ہے اور وہ ادائیگی نہیں کر سکتا تو قرض کے بقدر رقم کو زکوٰۃ میں سے منہا کیا جا سکتا ہے۔ (شاید عام حنفی فقہا کو اس سے اتفاق نہ ہو، لیکن امام طحاوی نے مختصر اختلاف العلماء میں اس کی تصریح کی ہے اور مجھے اس سے اتفاق ہے)۔

[pullquote]10۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک لازم نہیں اور زکوٰۃ کہہ کر دینا بھی ضروری نہیں.
[/pullquote]

زکوٰۃ کی رقم سے کسی کی مدد کرنی ہو تو اس کو یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے۔ اسی طرح یہ بھی لازم نہیں کہ ذاتی طور پر کسی کی ملکیت میں رقم دی جائے۔ زکوٰۃ کی رقم سے کوئی ایسا کام کر دیا جائے جس کا فائدہ اجتماعی طور پر مستحقین کو پہنچ جائے تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ مثلاً کسی کے تعلیمی اخراجات کا بندوبست کر دیا جائے، مستحق بچوں کے لیے کوئی اسکول یا مدرسہ یا اسپتال وغیرہ قائم کر دیا جائے، کچی آبادیوں میں پینے کے صاف پانی کا انتظام کر دیا جائے یا گلیاں بنوا دی جائیں تو یہ زکوٰۃ کی رقم کا بالکل درست مصرف ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے